حیدرآباد:اردوصحافت کاتربیتی پروگرام،اہل علم ودانش کی شرکت

Story by  غوث سیوانی | Posted by  [email protected] | 2 Years ago
حیدرآباد:اردوصحافت کاتربیتی پروگرام،اہل علم ودانش کی شرکت
حیدرآباد:اردوصحافت کاتربیتی پروگرام،اہل علم ودانش کی شرکت

 

 

حیدرآباد: شعبہ عربی،فارسی واردو،مدراس یونی ورسٹی میں منعقدہ اردو صحافت کے جدید طریق کار پر تربیتی پروگرام کااختتامی اجلاس پلاٹنم جوبلی ہال مدراس یونی ورسٹی میں منعقد ہوا جس کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر قاضی حبیب احمد، ڈائرکٹر مرینا کیمپس نے طلباء کو زبان کی اہمیت و افادیت پر زور دیتے ہوئے زبان و ادب میں صلاحیت کے ساتھ ساتھ مہارت بھی پیدا کرنے کا مشورہ دیا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اس پروگرام میں جو لیکچرز پیش کئے گئے تھے موضوعات کے لحاظ سے نہایت اہم تھے۔ شری اپور وا ورماآئی اے ایس، سابق اڈیشنل چیف سکریٹری بحیثیت مہمان خصوصی شریک رہے۔ انھوں نے اردو صحافت کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے موجودہ دور میں اردو صحافیوں کی اہمیت و افادیت پر زور دیا۔

شری اپوروا ورما نے کہا کہ ان کے والد صاحب فارسی اور اردو کے عالم تھے خود انھیں بھی اردوکی تعلیم سے آراستہ ہونے کا موقع فراہم تھا۔ انھوں نے اپنی تقریر میں صحافت کے اصول عصری تقاضے اور اردو صحافت کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے طلباء کو صحافتی ذمہ داریاں اور روزگار کے حوالے سے معلومات بھی فراہم کئے۔

ڈاکٹر امان اللہ ایم بی نے اس تربیتی پروگرام کی روداد پیش کرتے ہوئے پروگرام میں شریک تمام طلباء کو ان کی کامیابی پر مبارک باد پیش کیا اور نظامت کے فرائض بھی ابجام دیئے۔انٹرپرینرشپ اینڈ کیرئیر ہب کے زیر اہتمام منعقدہ اس تربیتی پروگرام میں اردو اور دیگر ہندوستانی زبانوں کے طلبا نے حصہ لیا ۔اس پروگرام کے شرکا کے لئے اردو صحافت کے مختلف پہلوؤں پر لیکچرز آف لائن،آن لائن اورمخلوط طریق پر دیئے گئے۔

تقریباًدو ماہ پر مشتمل اس تربیتی پروگرام میں روزانہ ایک گھنٹے پر مشتمل لیکچرز ہوتے رہے۔ملک کی مختلف یونی ورسٹیوں سے ماہرین ادب اور صحافتی میدان کے شہ سواروں کے معلوماتی خطبے طلباء کے ذہنوں کو منور کرتے رہے۔

اس تربیتی پروگرام میں صحافت سے متعلق تقریبا ً ہر پہلو پر لکچرس منعقد ہوئے جس کے موضوعات کچھ اس طرح ہیں ”سوشیل میڈیا کے دور میں صحافت“ ڈاکٹر جئے شکتی ویل شعبہ جرنلزم اینڈ ماس کمیونی کیشن، مدراس یونی ورسٹی، ”اردو صحافت : مبادیات اور عصری تقاضے“جناب محمد اعظم شاہد، بنگلور، ”اردو میں سمعی و بصری صحافت“ ڈاکٹر محمد کاشف، شعبہ اردو، حیدرآباد سینٹرل یونی ورسٹی،”

اردو میں پرنٹ میڈیا : مسائل و امکانات“ پروفیسر ستار ساحر، سابق صدر شعبہ اردو، شری وینکٹیش ورا یونی ورسٹی، تروپتی، ”جنوبی ہند میں اردو صحافت ۔ عصری تقاضے “ ڈاکٹر یم۔ سعید الدین، شعبہ اردو، اسلامیہ کالج، وانم باڑی، ”اردو ماس میڈیا“ ڈاکٹر محمد نصر اللہ خان، شعبہ اردو، کرناٹکا اسٹیٹ اوپن یونی ورسٹی، میسور،

”عربی صحافت کا آغاز و ارتقاء“،جناب نثار احمد، شعبہ عربی، مدراس یونی ورسٹی، ”اردو میں ابلاغ عامہ اور طریق کار“ پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین، شعبہ اردو، جواہر لعل نہرو یونی ورسٹی، نئی دہلی،”اردو صحافت کے مسائل اور امکانات“ پروفیسر ڈاکٹر شہزاد انجم، صدر شعبہ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی،

”پریس بحیثیت عوامی ذرائع“ ڈاکٹر جاوید حسن، شعبہ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی،”متبادل میڈیا: نئی آواز“جناب محمد اعظم شاہد، معروف کالم نگار و صحافی، بنگلور،”تحریک آزادی ہند میں اردو صحافت کا کردار“ ڈاکٹر پروین فاطمہ، سابق صدر شعبہ اردو، کوئن میریس کالج، چنئی،”اکیسویں صدی میں اردو صحافت: عصری تقاضے“ڈاکٹر فاضل حسین پرویز، مدیر اعلی، ’گواہ‘، ہفتہ روزہ، حیدر آباد،

”ہندوستان میں عربی صحافت: عصری تقاضے“عبد البشیر اے۔کے، شعبہ عربی، مدراس یونی ورسٹی، چنئی۔”اردو میڈیا“ ڈاکٹر کلیم اللہ، پرنسپل و صدر شعبہ اردو، مظہر العلوم کالج، آمبور،”اردو میں سائنسی و طبّی صحافت“ڈاکٹر اسعد فیصل فاروقی، علی گڑھ،

”طبّی صحافت: عصری تقاضے“ڈاکٹر ڈی۔پربھو، شعبہ مائکرو بیالوجی، مدراس یونی ورسٹی، چنئی،”اردو صحافت: موجودہ منظر نامہ اور مستقبل“ جناب محمد اعظم شاہد، معرو ف کالم نگار و صحافی، بنگلور،”صحافت اور اس کے اخلاقی کردار“ جناب پٹیل محمد یوسف، سماجی کارکن، مینیجنگ ڈائرکٹر حجاز کروڈا گلوز کمپنی و منتظم پریس پندرہ روزہ ’سمرسم‘ چنئی، ”خبر اور اداریہ نویسی“ ڈاکٹر محمد امین اللہ، صدر شعبہ اردو، شری وینکٹیش ورا یونی ورسٹی، تروپتی،”

اردو صغافت: مشترکہ ہندوستانی تہذیبی تناظر میں“پروفیسر ضیاء الرحمن صدیقی، شعبہ اردو، علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی، علی گڑھ،”اردو زبان کے ہندوستانی سیٹلائٹ ٹیلی ویژن چینلس کی ترقی اور اہمیت“پروفیسر احتشام احمد خان، صدر شعبہ جرنلزم، مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی، حیدرآباد،”تمل ناڈو میں اردو صحافت: مسائل اور امکانات“ ڈاکٹر جی امتیاز باشاہ، مدیر ماہنامہ ’امتیاز اردو‘ وانمباڑی و ڈائرکٹر اردو تحقیقی مرکز تمل ناڈو،

”مابعد صداقت دور اور اردو صحافت“پروفیسر شافع قدوائی، صدر شعبہ جرنلزم اینڈ ماس کمیونی کیشن، علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی، علی گڑھ،”صحافت بہترین کرپشن“شاہد لطیف، مدیر اعلی روزنامہ ’انقلاب‘ ممبئی،”اردو میں تعلیمی صحافت“ڈاکٹر ریاض احمد، پرنسپل، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیو رسٹی مرکز، ’مولوی محمد باقر اور دہلی اردو اخبار“ پروفیسر سید ارتضیٰ کریم، شعبہ اردو، دہلی یونی ورسٹی، دہلی وغیرہ نے بہت شاندار لیکچرز و خطاب سے اردو طلباء کی تربیت میں اہم رول ادا کیا۔

انٹرن شپ کے ایک حصے کے طور پرتمام طلباء کو انڈسٹریل وزٹ یعنی صنعتی دورہ شیڈول کے مطابق مدراس کے صحافتی اداروں میں عملی تربیت کا انتظام کیا گیا۔اس صنعتی دورہ میں تمل ناڈو سے شائع ہونے والا قدیم اخبار روزنامہ ”مسلمان “ کے علاوہ پندرہ روزہ ’سمرسم‘ روز نامہ ’منی چوڈر‘ جو مسلم اقلیتوں کا نماندہ اخبار ہے کا دورہ شامل رہا۔

صنعتی دورہ کے علاوہ رپورٹ رائٹنگ اور دیگر تفویضات کی بنیاد پر طلباء کی تربیتی نتائج کو جانچنے اور تعین قدر کرنے کے بعد ان کی درجہ بندی کی گئی اور گریڈنگ سے نوازا گیا۔ کامیاب طلباء کو مہمان خصوصی کے ہاتھوں اسناد تقسیم کئے گئے۔

ڈاکٹرمحمد نعیم الرحمن، وائس چیرمن، تمل ناڈو اسٹیٹ اردو اکادمی، چنئی بطور مہمان اعزازی اس اجلاس میں شریک رہے۔ انھوں نے تمل ناڈو میں اردو کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے اردو اکادمی کی جانب سے تمل ناڈو میں اردو کی ترقی و بقا کے لئے ہر ممکن کوشش کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے طلباء کو اردو تعلیم کی اہمیت و افادیت اور روزگار کے امکانات پر اظہار خیال کیا۔

ڈاکٹر سرسوتی،اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ ہندی اور اس پروگرام کی کنوینر کی حیثیت سے شریک رہیں اور اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے ہنر پر مبنی پروگرام کے انعقاد کے لئے دیگر شعبہ جات حسرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جبکہ شعبہ عربی فارسی و اردو مدراس یونی ورسٹی ایک اچھا قدم اٹھا یا ہے اور کامیاب تربیتی پروگرام کے انعقاد سے یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ اردو صحافت کے جدید طریق کار اور اس سے متعلقہ پہلوؤں کو لے کر سنجیدگی سے سوچنتے اور اس میدان میں موجود روزگار کے مواقعے اورعصر حاضر کے میڈیا کی صورتحال کے پیش نظر نئی نسل کو اس میدان میں کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

اس موقع پر پروفیسر چٹی انا پورنا، صدر شعبہ ہندی اور سنڈکیٹ ممبر مدراس یوینی ورستی کے علاوہ ڈاکٹر ذاکر حسین استاذ شعبہ عربی اور دیگر زبانوں کے شعبہ جات سے پروفیسرز اور طلباء شریک رہے۔ اختتامی اجلاس کا آغازشعبہ کے ریسرچ اسکالر جناب محمد ابرار کی تلاوت قرات کلام پاک سے ہوا اور قومی ترانہ پر یہ جلسہ اختتام پذیر ہوا۔