ہوڑہ:شادی گھر کی آمدنی سے رواں دواں ہے سر سید احمد ہائی اسکول

Story by  اے ٹی وی | Posted by  [email protected] | 3 Months ago
ہوڑہ:شادی گھر کی آمدنی سے رواں دواں ہے  سر سید احمد ہائی اسکول
ہوڑہ:شادی گھر کی آمدنی سے رواں دواں ہے سر سید احمد ہائی اسکول

 

جاوید اختر ۔ کولکتہ 

سرسید احمد ہائی اسکول ۔۔۔ بنگال کے ایک پسماندہ علاقہ ہوڑہ میں تعلیم کی شمع بن کر مسلمان بچوں کے مستقبل کو سنوارنے کی کوشش کررہا ہے ،مزدور طبقہ کی اکثریت والے علاقہ میں یہ تعلیمی شمع روشن کرنے کا سہرا  کچھ سیاسی ،سماجی اور کاروباری شخصیات کے سر جاتا ہے جنہوں نے کئی سطح پر جدوجہد کی اور سر سید احمد خٓن کے نام پر اس اسکول کی بنیاد ڈالنے میں کامیابی حاصل کی ۔ان میں محمد سلیم، شاہ عالم ، شہزادہ سلیم، شاہد خان کے نام قابل ذکر ہیں ۔جن کی کوششوں کے سبب آج اس علاقہ کو ایک اسکول مل گیا جو سینکڑوں بچوں کے روشن مستقبل کا ضامن ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس اسکول کی آمدنی کا بڑا ذریعہ  شادی گھر کے کرائے سے پورا کیا جاتا ہے  جو اس اسکول کا حصہ ہے۔ 

 سر سید احمد ہائی اسکول میں جہاں آج سترہ سو بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اس اسکول میں اردو میڈیم کے ساتھ انگریزی میڈیم سے بھی تعلیم دی جاتی ہے۔ ہائر سکنڈری کا اسے درجہ حاصل ہوچکا ہے۔ اس سال سے ہائر سکنڈری کی تعلیم شروع کی جائے گی۔ اسکول کے اساتذہ کے ساتھ ساتھ اسکول انتظامیہ میں شامل لوگ بھی کافی سرگرم رہتے ہیں۔ بچوں کی تعلیم پر ان کی بھی نظر ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے یہاں بچوں کی تعلیمی معیار بہتر ہوگیا ۔ ریزلٹ سے تعلیمی معیار کا پتہ چلتا ہے۔ا س بار اس اسکول کا ریزلٹ سو فیصد رہا۔

awazurdu
سرسید اسکول کی عمارت

  اسکول کیسے قائم ہوا؟

یہ 1995-96کی بات ہے۔جب جس جگہ پر سر سید احمد اسکول قائم ہے وہاں خالی میدان تھا۔ یہ سرکاری زمین ہے۔ وہاں گاڑیوں کی لوڈنگ اور ان لوڈنگ ہوتی تھی۔ وہ ڈرگ پیڈلروں کا اڈہ بھی بن گیا تھا۔ ناجائز قبصہ تھا۔ اس طرح کہا جاسکتا ہے یہ ایک برائی کا مرکز بن گیا تھا۔ وہ زمانہ سی پی ایم کا تھا۔ سی پی ایم کی حکومت تھی۔ ہوڑہ کارپوریشن میں بھی سی پی ایم کی حکومت تھی۔ لیکن جس علاقے میں یہ میدان تھا وہاں محمد سلیم کونسلر تھے ۔ اس زمانے میں ہوڑہ کے ٹکیہ پاڑہ علاقے میں آٹھ پرائمری اسکول تھے۔ اور درجہ چہارم پاس کرنے کے بعد آگے کی تعلیم جاری رکھنے کےلئے داخلے میں دشواری ہوتی تھی۔ کیونکہ اس علاقے میں واحد ایک سرکاری ہائر سکنڈر درجہ کا اسکول تھا علاقے کے چند معتبر لوگوں نے خاص طور اس زمانے کے کونسلر محمد سلیم نے بچوں کے مستقبل کو دیکھتے ہوئے علاقے میں ایک اور ہائر سکنڈر ی سطح کا اسکول قائم کرنے کے بارے میں غور کیا۔ اس کےلئے ان لوگوں کو زمین کی ضرورت تھی۔ اس دوران ان لوگوں کی نظر اس زمین پر پڑی جہاں آج سر سید احمد ہائی اسکول ہے۔اور جہاں اس زمانے میں ٹرانسپورٹ کی لوڈنگ اور ان لوڈنگ ہوتی ہے جیسا کہ اوپر درج کیا گیا ہے۔

محمد سلیم نے عبد العزیز، شمشاد خان، عبد الغفارگاندھی، شہزادہ سلیم، شاہ عالم انصاری جیسی علاقے کی چند معتبر شخصیت کو لے کر میٹنگ کی ۔ اس میٹنگ میں علاقے میں ہائر سکنڈری اسکول قائم کرنے کےلئے تحریک چلانے کا فیصلہ کیا۔شاہ عالم انصاری اور شہزادہ سلیم کو کنوینر بنایا گیا۔ہوڑہ ٹکیہ پاڑہ کے مارٹن گودام میں آگے کی کارروائی کےلئے میٹنگ بلائی گئی۔مسلم ہائی اسکول کے سابق طالب علموں کو اس میں شامل کیا گیا تاکہ یہاں اسکول قائم کیا جاسکے۔میٹنگ کے دوسرے دن وہاں خالی میدان میں عارضی اسکول قائم کیا گیا اور وہاں پڑھائی شروع کی گئی۔ سرسید احمد ہائی اسکول کو یہاں تک پہنچنے میں کافی دشوار کن مراحل سے گزرنا پڑا ہے۔ کسی زمانے میں اسکول چھونپڑی میں چلتا تھا۔ ہوڑہ اسٹیشن کے قریب بائی پاس پر یہ اسکول قائم ہے۔یہاں خالی زمین تھی۔ اسی زمین پر اسکول چلتا تھا۔

سرکاری رکاوٹوں کا سامنا

چونکہ یہ کے ایم ڈی اے زمین تھی ۔ اس زمانے میں انتظامیہ کو لگا کہ یہ لوگ زمین پر قبضہ کر لیں گے ۔ اس طرح انتظامیہ نے پولس کی مدد سے وہاںسے اسکول کو ہٹانے کی کوشش کر دی۔ طرح طرح سے اسکول انتظامیہ میں شامل لوگوں کو پریشان کرنا شروع کر دیا ۔ لیکن ان لوگوں نے ہمت نہیں ہاری ۔ جدوجہد کرتے رہے۔ آخر میں انتظامیہ کو تحریک کے سامنے جھکنا پڑا اس زمانے میں اس تحریک میں سابق کونسلر محمد سلیم، شاہ عالم ، شہزادہ سلیم، شاہد خان، عبد العزیز، عبد الغفار گاندھی ،عبد الروف انصاری وغیرہ کے نام قابل ذکر ہے۔ان لوگوں کی اسکول کے لئے کافی قربانی ہے۔ ان میں سے کئی لوگوں کو انتقال ہوچکا ہے۔ لیکن ابھی بھی کافی لوگ زندہ ہیں اور اسکول کی ترقی میںلگے ہوئے ہیں۔ان کا ارادہ یہاں ووکیشنل ٹریننگ کا بھی ہے تاکہ بچے پاس کرنے کے بعد ہاتھ کا کچھ کام سیکھ لیں۔

 سر سید احمد کے نام پر

وہاں جب اسکول کا ڈھانچہ قائم ہوگیا اور بچے وہاں پڑھنے لگے تب یہ فیصلہ کیا گیا کہ اسکول کا نام کیا ہو؟ اس کےلئے پھر ایک میٹنگ ہوئی۔ جس میں یہ کسی نے یہ تجویز دی کہ اسکول کا نام مولانا آزاد کے نام پر رکھا جائے کیونکہ وہ ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم تھے او ر انہوں نے تعلیم کےلئے کافی کچھ کیا ہے۔ لیکن مولانا آزاد کے نام پر اتفاق نہیں ہوا۔ چند لوگوں نے اس کا نام سر سید احمد کے نام پر رکھنے کی تجویز دی اور یہ جواز پیش کیا کہ سر سید احمد خان نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی قائم کرنے کےلئے کافی جدو جہد کی تھی اور ان کی محنتوں کو نتیجہ ہے کہ آج علی گڑھ میں علی گڑ ھ مسلم یونیورسٹی کے نام سے یونیورسٹی چل رہی ہے۔اس طرح اکثریت سے اس اسکول کا نام سر سید احمد ہائی اسکول رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

کیسے چلتا ہے یہ اسکول؟

یہ اسکول بھی پبلک فنڈ سے چلتا ہے۔ فنڈ کا ان کا ایک بڑا ذریعہ اسکول کے ہال کو شادی کےلئے کرائے پر دینے سے جو رقم ملتی ہے اسے اسکول کی تعلیم اور اس کی ترقی پرخرچ ہوتا ہے۔ ایک طرح سے یہ فنڈ اس اسکول کےلئے ریڑھ کی ہڈی کے طور پر کام کرتا ہے۔اسکول کی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے کئی ایم پی اور ایم ایل اے اپنے فنڈ سے انہیں فنڈ فراہم کیا۔ اس کے علاوہ کئی سماجی شخصیتیں ہیں جو اسکول کی ترقی و ترویج میں اپنا ہاتھ بٹا تے ہیں۔ ابھی اسکول کی مزید ایک چھت کی تعمیر کا کام چل رہا ہے۔ اسکول آج اس مقام پر پہنچ گیا ہے کہ کرائے سے جو رقم آرہی ہے وہ تو آ ہی رہی ہے اب بچوں سے فیس کی شکل میں بھی خطیر رقم آرہی ہے جس کی وجہ سے اسکول ایک اچھے مقام پر آگیا ہے ۔حکومت کے تحویل میں اسکول حکام اسے دینا نہیں چاہتے اس سے اسکول سرکاری کنٹرول میں چلا جائے گا۔اسکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس سے دو سرے اسکول والے بھی سبق لے سکتے ہیں کہ کسی پرائیویٹ اسکول کو کس طرح اسے اس کے پیروں پر کھڑا کیا جاسکتا ہے۔

 اس طرح یہ اسکول دوسروں کےلئے مثال بنتا جا رہاہے۔ پہلے اور ابھی بھی مضافاتی علاقوں میں شادیاں اسکولوں میں ہی ہوتی ہیں۔ ان اسکولو ں کے حکام اس کے لئے معمولی کرایہ لیتے ہیں ۔کیونکہ عام طور پر اس طرح کے اردو میڈیم اسکول سرکاری ہوا کرتے ہیں۔ لیکن ہوڑہ کے اس سر سید احمد ہائی اسکول کا معاملہ ایکدم مختلف ہے۔ یہ اسکول کے ساتھ میرج ہال کے طور پر بھی کام کر تاہے۔سولہ ہزار روپئے اس کا کرایا ہے۔ شادی کے سیزن بھر ہال بک رہتا ہے۔ اس کے آس پاس دو میرج ہال ہیںلیکن کم کائے کی وجہ سے لوگ سر سید اسکول کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔

سر سید احمد ہائی اسکول کے قیام میں کن لوگوں کو ہاتھ ہے

اس زمانے میں اس تحریک میں سابق کونسلر محمد سلیم، شاہ عالم ، شہزادہ سلیم، شاہد خان، وغیرہ کے نام قابل ذکر ہے۔کافی جدو جہد کے بعد یہ طے پایا کہ پمپنگ اسٹیشن کےلئے اسکول کا کچھ حصہ چھوڑنا پڑے گا۔ کافی صلاح و مشورہ کے بعد کارپوریشن کی اس تجویز کو اس شرط کے ساتھ تسلیم کر لیا گیا کہ پمپنگ اسٹیشن کی چھت پر بچوں کے کھیلنے کےلئے پارک ہوگا کیونکہ اس علاقے میں بچوں ، بوڑھوں یا عورتوں کےلئے کوئی پارک نہیں ہے۔کاغذی کارروائی مکمل ہونے کے بعدزمین کا بٹوارا ہوگیا۔ ایک حصہ حکومت کے تحویل میں چلا گیا اور باقی سر سید احمد ہائی اسکول کمیٹی کے پاس آگیا۔ اس طرح وہاں پرائیویٹ اسکول قائم کرکے اسے چلایاجانے لگا۔
کیسے بنا یہ اسکول
 سرسید احمد ہائی اسکول کو یہاں تک پہنچنے میں کافی دشوار کن مراحل سے گزرنا پڑا ہے۔ کسی زمانے میں اسکول چھونپڑی میں چلتا تھا۔ ہوڑہ اسٹیشن کے قریب بائی پاس پر یہ اسکول قائم ہے۔یہاں خالی زمین تھی۔ اسی زمین پر اسکول چلتا تھا۔سی پی ایم کا دور تھا۔ سودیش چکرورتی یہاں ہوڑہ میونسپل کارپروشن کے چیئرمین ہوا کرتے تھے۔ ایم پی بھی تھے۔ہوڑہ میونسپل کارپوریشن کویہاں پمپنگ اسٹیشن قائم کرنے کےلئے زمین کی ضرورت پڑ گئی ہے۔ میونسپلٹی نے اس جگہ کو اکوائر کرنا چاہا۔ یہیں سے سر سید احمد ہائی اسکول کی تحریک شروع ہوئی۔

awazurdu

آج اسکول کہاں ہے؟
دھیرے دھیرے اسکول آگے بڑھتا گیا۔عوام کے چندے سے اسکول کی عمارت کی تعمیر کی گئی۔ اسکول کے ہال کو کرائے پر دیاجانے لگا۔ اس طرح اسکول کافی تیزی سے آگے بڑھتا گیا۔تین منزلے اس عمارت کو پہلے مدھیامک بورڈ سے منظوری ملی اور اب ہائر سکنڈری کا درجہ مل گیا۔ اس سے اسکول کمیٹی کے لوگوں کے علاوہ یہاں تعلیم حاصل کرنے والے طلبا و طالبات اور اساتذہ کرام کافی خوش ہیں۔ اسکول انتظامیہ کو گاہے گاہے مقامی سیاست کا بھی شکار ہونا پڑتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اسکول کو کرائے پر کیوں دیا جاتا ہے۔ اسکول کو اسکول ہی رہنے دیا جائے۔ویسے ان کا مقصد کچھ اور ہوتا ہے وہ نہیں چاہتے ہیں کہ اسکول ترقی کرے۔اسکو ل کو اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسکول آج اس مقام پر پہنچا ہے تو اس کے پیچھے کرائے کا بڑا ہاتھ ہے۔اگر اسکول میں شادیاں نہیں ہوتیں تو یہ یہاں تک نہیں پہنچ پاتا۔

کیوں اردو کے ساتھ انگریزی میڈیم اسکول کھولا گیا؟
یہاں اردو میڈیم کے ساتھ ساتھ انگریزی میڈیم کی بھی تعلیم دی جاتی ہے۔پندرہ سو کے قریب بچے ہیں۔تدریسی اور غیر تدریسی اسٹاف ملا کر ان کی کل تعداد ساٹھ کے قریب ہیں۔ساڑھے تین لاکھ روپئے ان کی تنخواہ پر خرچ ہوتے ہیں۔شروع میں یہ صرف اردو میڈیم ہی تھا لیکن حالات کے مطابق اسے بدلنا پڑا۔ گارجین بھی چاہتے ہیں کہ ان کے بچے انگریزی میں تعلیم حاصل کریں ۔ اسی ارادے سے اسے انگریزی میڈیم بنا یا گیا۔ فیس بھی معمولی ہے۔ ساڑھے تین سو روپئے ماہانہ فیس لی جاتی ہے۔

اسکول انتظامیہ کا ارادہ یہاں سائنس کا اسٹریم قائم کرناہے۔مغربی بنگال میں ملی الامین مشن کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔ یہاں مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کرائی جاتی ہے۔یہاں سے کافی تعداد میں اقلیتی فرقہ سے تعلق رکھنے والے طلبا و طالبات مقابلہ جاتی امتحانات میں کامیابی حاصل کر رہے ہیں۔ اس مشن کے ساتھ بھی سر سید احمد ہائی اسکول والوں کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے۔ یہاں بھی بورڈنگ کے ساتھ مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کرائے جانے کا منصوبہ ہے۔ یہاں بچوں کےلئے ڈرائنگ کے لئے الگ سے کلاس کرائے جاتے ہیں۔ اسی طرح الگ سے کراٹے کلاس اور کمپیوٹر کلاسس بھی ہوتے ہیں۔ اس طرح ان لوگوں نے یہاں ووکیشنل ٹریننگ کا بھی اہتمام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔سر سید احمد ہائی اسکول کے روح رواں شہزادہ سلیم کا کہنا ہے کہ ہم لوگ چاہتے ہیں کہ یہاں سے کامیاب ہونے والے طلبا و طالبات قوم و ملت کا نام روشن کرے۔

awazurdu

حکومت اس میں کیسے مدد کر رہی ہے
مغربی بنگال حکومت نے اسے سرکاری منظوری دے دی ہے۔ لیکن ایک سرکاری اسکول کو جس طرح کے مراعات ملتے ہیں وہ انہیں میسر نہیں ہوگا۔ یعنی صرف امتحان وغیرہ کا اہتمام سرکاری رجسٹریشن پر کر سکتے ہیں۔ باقی کتاب، اسکول یونیفارم یا میڈ ڈے میل کا معاملہ ہے وہ انہیں نہیں مل سکتا ہے۔ ابھی حال میں اسے ہائرسکنڈری کا درجہ ملا ہے۔اسکول انتظامیہ بھی چاہتی ہے کہ اسکول اسی طرح سے چلتا رہے ۔ اگر اسکول حکومت کے تحویل میں چلا جاتا ہے تو اسکول انتظامیہ کے ہاتھ کٹ جائیں گے۔ وہ اسکول کے سلسلے میںکچھ نہیں کر پائیں گے اس لئے ان لوگوں نے سرکاری منظوری پر زیادہ زور نہیں دیا ہے۔