ہارورڈ یونیورسٹی: طالبہ کی تلاوت قرآن نے باندھ دیا سماں،سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 08-06-2026
ہارورڈ یونیورسٹی: طالبہ کی تلاوت قرآن  نے باندھ دیا سماں،سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل
ہارورڈ یونیورسٹی: طالبہ کی تلاوت قرآن نے باندھ دیا سماں،سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل

 



لندن: امریکہ کی معروف اور عالمی شہرت یافتہ ہارورڈ یونیورسٹی میں منعقدہ سالانہ بیکلوریٹ تقریب کے دوران ایک ایسا روح پرور منظر دیکھنے کو ملا جس نے حاضرین کے دلوں کو چھو لیا۔ تقریب میں شریک ہزاروں طلبہ، اساتذہ، والدین اور مہمانوں کے سامنے مسلم طالبہ سہیلہ مختار نے قرآن کریم کی سورۂ علق کی ابتدائی آیات کی تلاوت کر کے ایک یادگار ماحول پیدا کر دیا۔ہارورڈ یونیورسٹی کے تاریخی ٹرائی سینٹینیل تھیٹر میں منعقدہ اس تقریب میں مختلف مذاہب اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد موجود تھے۔ جب سہیلہ مختار نے نہایت پُرسوز انداز میں قرآن کریم کی وہ آیات تلاوت کیں جن کا آغاز "اپنے رب کے نام سے پڑھو جس نے پیدا کیا" سے ہوتا ہے تو پورا ہال خاموشی اور انہماک کی کیفیت میں ڈوب گیا۔

یہ آیات اسلامی تاریخ میں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں کیونکہ یہی وہ پہلی وحی ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تھی۔ علم، تحقیق، تدبر اور انسانی شعور کی بیداری کا پیغام دینے والی یہ آیات اعلیٰ تعلیم کے بنیادی مقاصد سے بھی گہرا تعلق رکھتی ہیں۔

تقریب کے منتظمین اور شرکاء نے اس لمحے کو نہایت معنی خیز قرار دیا۔ ان کے مطابق قرآن کی یہ تلاوت علم کے حصول، اخلاقی ذمہ داری، فکری جستجو اور انسانیت کی خدمت جیسے ان اصولوں کی یاد دہانی تھی جو دنیا کی بڑی جامعات کے تعلیمی وژن کا حصہ ہیں۔

بہت سے حاضرین نے اس موقع کو بین المذاہب ہم آہنگی اور باہمی احترام کی ایک خوبصورت مثال قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف عقائد اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد جب ایک دوسرے کی روایات اور اقدار کا احترام کرتے ہیں تو تعلیمی ادارے حقیقی معنوں میں عالمی مکالمے اور فکری تبادلے کے مراکز بن جاتے ہیں۔

اس تقریب نے یہ بھی واضح کیا کہ مسلمان طلبہ دنیا کے ممتاز تعلیمی اداروں میں نہ صرف علمی میدان میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں بلکہ اپنی تہذیبی اور روحانی شناخت کو بھی مثبت انداز میں پیش کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر اس روحانی اور متاثر کن لمحے کی ویڈیوز اور تصاویر تیزی سے وائرل ہوئیں۔ دنیا بھر کے مسلمانوں نے اس منظر کو فخر، مسرت اور حوصلہ افزائی کا ذریعہ قرار دیا۔ متعدد صارفین نے اسے علم اور ایمان کے حسین امتزاج کی علامت بتایا۔

ہارورڈ یونیورسٹی کی اس تقریب نے ایک بار پھر یہ پیغام دیا کہ علم، اخلاق اور روحانیت ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک بہتر اور متوازن معاشرے کی تشکیل میں ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ یہی وہ پیغام ہے جو مختلف تہذیبوں اور مذاہب کے درمیان احترام، مکالمے اور مشترکہ انسانی اقدار کو فروغ دیتا ہے۔