نئی دہلی: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد شمس اقبال نے کہا ہے کہ ہندوستان کا 80واں یومِ آزادی ایک طویل جدوجہد کا نتیجہ ہے جس میں ملک کے تمام مذاہب اور طبقات کے لوگوں کی قربانیاں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد ہندوستان نے علوم و فنون اور ترقی کے مختلف شعبوں میں ایک طویل سفر طے کیا ہے اور یہ سفر مسلسل جاری ہے۔ ملک ’وکست بھارت 2047‘ کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کی سمت آگے بڑھ رہا ہے۔
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے نئی دہلی میں واقع صدر دفتر میں 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی۔ قومی پرچم لہرائے جانے کے بعد جوش و خروش کے ساتھ قومی ترانہ پیش کیا گیا۔
اس موقع پر ڈاکٹر محمد شمس اقبال نے کہا کہ آج کا دن تمام ہندوستانیوں کے لیے نہایت اہم اور خوشی کا دن ہے۔ جنگ آزادی میں ملک کے تمام مذاہب اور طبقات کے افراد نے قربانیاں پیش کیں اور انہی قربانیوں کے نتیجے میں ہندوستان آزاد ہوا۔
انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد ہندوستان نے علوم و فنون کے ساتھ ترقی کے مختلف میدانوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ اس ترقی کے سفر میں ہندوستانی زبانوں نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ جنگ آزادی میں اردو ادب اور صحافت کی بے مثال خدمات سے ہر کوئی واقف ہے۔
ڈاکٹر شمس اقبال نے کہا کہ قومی اردو کونسل کے لیے یہ باعث مسرت ہے کہ وہ اردو زبان کے ذریعے ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کو فروغ دینے اور ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو نے ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی روایت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور کونسل اس ورثے کو آگے بڑھانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔
پرچم کشائی کی تقریب کے موقع پر قومی اردو کونسل کے صدر دفتر میں جشن کا ماحول رہا۔ بچوں نے بھی نہایت جوش و خروش کے ساتھ تقریب میں شرکت کی اور حب الوطنی کے جذبے کا اظہار کیا۔ اس موقع پر کونسل کے اسسٹنٹ ڈائریکٹرز اور تحقیقی افسران کے علاوہ دیگر اراکین بھی موجود تھے۔