ڈاکٹر زیبا شاہین
ہر سال 10 اپریل کو عالمی یوم ہومیوپیتھی منایا جاتا ہے تاکہ اس طریقہ علاج کے بانی ڈاکٹر سیموئیل ہانیمن کی پیدائش کو یاد کیا جا سکے۔ اگرچہ ہومیوپیتھی کی ابتدا جرمنی میں ہوئی مگر اس کی اصل روح کو 19ویں صدی میں ہندوستان میں جگہ ملی۔ یہ ایک ایسا دور تھا جب سماجی تبدیلیاں تیزی سے ہو رہی تھیں۔ برطانوی دور میں ایلوپیتھی کو واحد سائنسی طریقہ قرار دیا گیا مگر یہ عام لوگوں کے لیے مہنگا اور اجنبی تھا۔ اس کے برعکس ہومیوپیتھی اپنے نرم اور ہمہ گیر انداز کے باعث ہندوستانی اقدار سے ہم آہنگ محسوس ہوئی۔
اس نظام کو ابتدائی شہرت اس وقت ملی جب ڈاکٹر جے ایم ہونیگ برگر نے 1830 کی دہائی میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کا کامیاب علاج کیا۔ مگر اس کی اصل کامیابی اسے عوام تک پہنچانے میں رہی۔ ڈاکٹر مہندر لال سرکار اور راجندر لال دت جیسے لوگوں نے اسے ایک انسانی اور قابل قبول متبادل کے طور پر پیش کیا جو آیوروید اور جدید طب کے درمیان پل کا کام کرتا تھا۔ عام لوگوں کے لیے ہومیوپیتھی ایک ایسی دوا بنی جو سستی بھی تھی اور باعزت بھی۔ یہاں مریض کو صرف ایک کیس نہیں بلکہ ایک مکمل انسان سمجھا جاتا ہے جس کی جسمانی اور ذہنی کیفیت کو اہمیت دی جاتی ہے۔
سائنسی ارتقا
اکیسویں صدی میں داخل ہوتے ہی ہومیوپیتھی کو ایک بڑے سائنسی چیلنج کا سامنا ہوا جسے ایووگاڈرو تضاد کہا جاتا ہے۔ اس کے مطابق کسی بھی مادے کو حد سے زیادہ پتلا کرنے کے بعد اس کے اصل ذرات باقی نہیں رہتے۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ اس لیے ہومیوپیتھی صرف ایک وہم ہے۔ مگر ہندوستان نے اس نظریے کو چیلنج کیا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ یہ صرف یقین نہیں بلکہ سائنسی حقیقت بھی ہو سکتی ہے۔
آئی آئی ٹی بمبئی جیسے اداروں میں جدید تحقیق کے ذریعے یہ دکھایا گیا کہ زیادہ حد تک پتلا ہونے کے باوجود دوا کے نہایت باریک ذرات موجود رہتے ہیں۔ اس عمل میں زور دار ہلانے سے ایسی ساخت بنتی ہے جو جسم کے ساتھ خاص انداز میں تعامل کر سکتی ہے۔
اس سائنسی ترقی کے ساتھ ادارہ جاتی سطح پر بھی اضافہ ہوا۔ 1881 میں کلکتہ ہومیوپیتھک میڈیکل کالج کے قیام سے باقاعدہ تعلیم کا آغاز ہوا۔ آج وزارت آیوش اور مرکزی کونسل برائے تحقیق ہومیوپیتھی کی مدد سے یہ نظام مزید مضبوط ہو چکا ہے۔ اب علاج صرف تجربات پر نہیں بلکہ قابل پیمائش اور ثابت شدہ نتائج پر مبنی ہے۔

مستقبل کا علاج
آج دنیا طرز زندگی کی بیماریوں اور اینٹی بایوٹک مزاحمت جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے میں مستقبل مشترکہ نظام علاج کا ہے جہاں مختلف طریقے ایک ساتھ کام کریں۔ جدید سرجری اور ہنگامی علاج اپنی جگہ اہم ہیں مگر ہومیوپیتھی طویل مدتی بیماریوں اور ذہنی دباؤ سے جڑی جسمانی بیماریوں میں معاون کردار ادا کرتی ہے۔
جانوروں پر ہومیوپیتھی کے استعمال نے بھی اس کے اثرات کو تقویت دی ہے کیونکہ جانور کسی نفسیاتی یقین کے تحت نہیں بلکہ حقیقی حیاتیاتی ردعمل کے تحت صحت یاب ہوتے ہیں۔ آج جب دنیا شخصی علاج کی طرف بڑھ رہی ہے تو ہومیوپیتھی کا یہ اصول کہ مریض کو بیماری سے زیادہ اہم سمجھا جائے ایک دور اندیش نظریہ ثابت ہو رہا ہے۔
ہندوستان میں ہومیوپیتھی کی کہانی استقامت اور سائنسی ترقی کی داستان ہے۔ یہ ایک روایتی طریقہ علاج سے بڑھ کر ایک منظم اور سائنسی نظام بن چکی ہے جو معاشرے کے کمزور طبقات کی خدمت کے ساتھ ساتھ جدید تحقیق میں بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ اس عالمی یوم ہومیوپیتھی پر ہم اس بات کی توثیق کرتے ہیں کہ ہومیوپیتھی ماضی کی چیز نہیں بلکہ مستقبل کے علاج کا ایک اہم اور انسانی پہلو رکھنے والا نظام ہے۔
پی جی ٹی 2023 آرگنن آف میڈیسن
آر بی ٹی ایس سرکاری ہومیوپیتھک میڈیکل کالج و اسپتال مظفر پور