اے ایم یو: سابق آل راونڈر مدن لال کا ماس کمیونیکیشن کے طلباء سے خطاب

Story by  اے ٹی وی | Posted by  [email protected] | 4 d ago
 اے ایم یو: سابق آل راونڈر  مدن لال  کا ماس کمیونیکیشن کے طلباء سے خطاب
اے ایم یو: سابق آل راونڈر مدن لال کا ماس کمیونیکیشن کے طلباء سے خطاب

 

علی گڑھ، 24 مئی: سابق آل راؤنڈر اور 1983 کا کرکٹ ورلڈ کپ جیتنے والے ہندوستانی ٹیم کے رکن مسٹر مدن لال نے آج علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ ترسیل عامہ کے طلباء کو کرکٹ کے سلسلہ میں اپنے تجربات سے مستفید کیا۔

                    شعبہ کے فرینک اینڈ ڈیبی اسلام آڈیٹوریم میں طلباء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے زور دے کر کہا کہ محنت اور ڈسپلن کی پابندی کامیابی کے لئے بہت ضروری ہے۔ بہترین کارکردگی کے حصول میں نظم و ضبط کا بنیادی کردار ہے۔

                    علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے دورے کے موقع پر سابق ہندوستانی کرکٹر نے مشہور اسپورٹس صحافی، انڈیا ٹوڈے کے مسٹر وکرانت گپتا اور دیگر معززین کے ہمراہ اے ایم یو کے وائس چانسلر پروفیسر محمد گلریز سے بھی ملاقات کی۔

                    طلباء سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر مدن لال نے کہا”زندگی میں ہمیں یہ جاننا چاہیے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط ہے۔ اسی کے ساتھ نظم و ضبط، ڈسپلن اور ایمانداری کو اپنی عادت بنانا چاہئے، کیونکہ زندگی میں کامیابی صرف وقت کی پابندی اور سخت نظم و ضبط سے ہی حاصل کی جا سکتی ہے“۔

                    طلباء کو نصیحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا ”میں سب سے پہلے اپنے شاگردوں کو نظم و ضبط اور مہذب طرز عمل سکھاتا ہوں تاکہ وہ اچھے انسان بنیں اور کرکٹر کے طور پر بھی بہترین کارکردگی کے لئے خود کو تیار کریں“۔

                    سینئر اسپورٹس صحافی مسٹر وکرانت گپتا نے اپنے صحافتی کیریئر اور تجربات پر گفتگو کی۔ انھوں نے طلباء سے کہا”میرا صحافی بننا ایک اتفاق ہے، میں تو کرکٹر بننا چاہتا تھا۔ میں نے اپنے 26-27 سال کے کیریئر میں ایک چیز سیکھی ہے کہ محنت، ایمانداری اور اپنے کام اور پیشے کے تئیں لگن بہت زیادہ سودمند ہوتا ہے“۔

                    مسٹر گپتا نے زور دے کر کہا ”اگر آپ کامیاب ہونا چاہتے ہیں، تو آپ کو مسلسل محنت کرنی ہوگی“۔

                    انہوں نے طلباء سے مزید کہا کہ اگر آپ اسپورٹس جرنلزم میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو آپ کو سبھی باتوں کی تھوڑی بہت معلومات کے ساتھ دو چیزوں پر عبور حاصل کرنا ہوگا۔ انھوں نے کہا ”وہ دن گئے جب ہر چیز کے بارے میں تھوڑا سا علم کافی ہوتا تھا۔ آج کل ایک سے زیادہ چیزوں کی تھوڑی بہت جانکاری کے ساتھ ’دو چیزوں کا ماسٹر‘ بننا ضروری ہے“۔

                    پروفیسر شافع قدوائی نے اسپورٹس جرنلزم کے اصولوں کی وضاحت کی اور کرکٹ کی تاریخ کے کچھ دلچسپ واقعات بیان کئے۔

                    شعبہ ترسیل عامہ کے چیئرمین پروفیسر پتاباس پردھان نے دونوں مہمان مقررین کا شکریہ ادا کیا۔

                    پروگرام کی نظامت ڈاکٹر ہما پروین نے کی، جس میں ریسرچ اسکالرز اور شعبہ کے دیگر طلباء نے شرکت کی۔

                    اے ایم یو دورے پر مسٹر مدن لال نے یونیورسٹی کے کرکٹ گراؤنڈ اوریہاں کی تاریخی عمارتوں کو بھی دیکھا۔