آواز دی وائس : نئی دہلی
خانہ کعبہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے سب سے مقدس مقام ہے۔ ہر سال حج و عمرہ کے لیے لاکھوں فرزندانِ توحید حاضری دیتے ہیں،بیت اللہ کا طواف کرکے اپنے ایمان اورعقیدت کا اظہار کرتے ہیں ۔ جو کہ ہر کسی کے لیے حج کا سب سے جذباتی لمحہ ہوتا ہے،زندگی بھر یاد رہتا ہے ۔ حج کے دوران اور اس کے بعد اللہ کے گھر میں ایسے متعدد واقعات ہوئے ہیں جنہیں خوبصورت یاد مانا جاتا ہے ۔ اسی عشق و عقیدت کی ایک حیرت انگیز مثال وہ واقعہ ہے جب ایک شخص نے سیلابی پانی میں تیرتے ہوئے خانہ کعبہ کا طواف کیا۔ بات حیرت انگیز ہے لیکن حقیقت بھی ۔
یہ واقعہ 1941 کے تاریخی سیلاب سے جڑا ہوا ہے۔ مکہ مکرمہ کی تاریخ میں کئی بڑے سیلاب آئے جن میں 1727,1728، 1913اور 1941 کے سیلاب خاص طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔ مگر 1941 کا سیلاب اپنی نوعیت کے اعتبار سے منفرد تھا۔ مسلسل ایک ہفتے تک ہونے والی موسلا دھار بارش کے بعد مسجد الحرام تقریباً چھ فٹ پانی میں ڈوب گئی تھی۔ حرم شریف کے صحن میں ہر طرف پانی ہی پانی تھا۔ نماز ادا کرنے کی جگہ بھی باقی نہیں رہی تھی اور خانہ کعبہ پانی کے درمیان ایک روح پرور منظر پیش کر رہا تھا۔

اسی دوران بحرین سے تعلق رکھنے والے بارہ سالہ طالب علم شیخ علی العوضی اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ حرم شریف پہنچے۔ وہ ان دنوں مکہ میں زیر تعلیم تھے۔ جب انہوں نے خانہ کعبہ کو پانی میں گھرا ہوا دیکھا تو ان کے دل میں ایک عجیب خیال پیدا ہوا۔ انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ تیرتے ہوئے بیت اللہ کا طواف کیا جائے۔
شیخ علی پانی میں اتر گئے اور تیرتے ہوئے طواف شروع کر دیا۔ اس دوران ایک پولیس اہلکار نے انہیں روکنے کی کوشش کی کیونکہ اسے خدشہ تھا کہ کہیں حجر اسود کو نقصان نہ پہنچ جائے۔ مگر شیخ علی نے یقین دلایا کہ ان کا مقصد صرف طواف کرنا اور اپنی عقیدت کا اظہار ہے۔ اجازت ملنے کے بعد انہوں نے تیرتے ہوئے خانہ کعبہ کا طواف مکمل کیا۔
اس تاریخی لمحے کی ایک نایاب تصویر بھی محفوظ ہے جس میں شیخ علی کو سیلابی پانی میں تیرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ تصویر میں مقام ابراہیم بھی واضح نظر آتا ہے جبکہ ان کے چند ساتھی خانہ کعبہ کے دروازے کے قریب پناہ لیے بیٹھے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ منظر آج بھی دیکھنے والوں کو حیرت اور عقیدت میں مبتلا کر دیتا ہے۔


اس واقعہ کے تقریباً 73 سال بعد شیخ علی العوضی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں اپنے اس یادگار تجربے کو بیان کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ بارش اس قدر شدید تھی کہ مکہ کی گلیاں اور بازار زیر آب آ گئے تھے۔ گھروں اور دکانوں میں پانی بھر گیا تھا۔ جانور بہہ رہے تھے اور گاڑیاں پانی کے ریلے میں تیرتی دکھائی دے رہی تھیں۔ انہی حالات میں وہ اپنے استاد اور ساتھیوں کے ساتھ حرم شریف پہنچے تھے جہاں انہوں نے تیر کر طواف کرنے کا فیصلہ کیا۔
شیخ علی نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ 1990 میں ان کے بیٹے عبدالمجید نے اپنی اہلیہ کے ساتھ حج ادا کیا۔ مکہ میں اسے ایک ایسی یادگار ملی جس میں شیخ علی کے تیرتے ہوئے طواف کی تصاویر موجود تھیں۔ وہ مکہ سے متعلق ایک کتاب بھی ساتھ لایا جس میں یہ تاریخی تصویر شائع کی گئی تھی۔ شیخ علی اس واقعہ کو اپنی زندگی کی بڑی سعادت مانتے تھے اور خود کو خوش قسمت سمجھتے تھے۔17 مئی 2015 کو شیخ علی العوضی 86 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ تاہم ان کا یہ منفرد واقعہ آج بھی تاریخ میں محفوظ ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سیلابی پانی میں طواف کی روایت صرف شیخ علی تک محدود نہیں۔ اسلامی روایات کے مطابق حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے سیلاب کے دوران بیت اللہ کا طواف کیا تھا۔ یہ واقعات اس حقیقت کی یاد دلاتے ہیں کہ طواف صرف ایک عبادت نہیں بلکہ عشقِ الٰہی اور روحانی وابستگی کی ایک عظیم علامت ہے۔ حالات جیسے بھی ہوں اہل ایمان کا تعلق بیت اللہ سے ہمیشہ قائم رہتا ہے۔