منصور الدین فریدی:نئی دہلی
حج مسلمانوں کا سب سے مقدس روحانی سفر مانا جاتا ہے۔ صدیوں پر پھیلی اس تاریخ میں مکہ مکرمہ عبادت اور روحانیت کا مرکز رہا۔ زندگی کے سب سے اہم سفر اورعبادت کے تجربہ کی یادیں ہر کسی کے لیے ایک اثاثہ ہوتی ہیں۔ حج کے دوران کئی بڑے واقعات، حادثات اور تنازعات بھی ہوتے رہے ہیں،جس کے سبب مکہ ومدینہ دنیا کی توجہ کا مرکز بنتا رہا ہے ۔
حج کے دوران کبھی بھگدڑ نے حاجیوں کو غم میں مبتلا کیا تو کبھی آگ اور دیگر حادثات نے اس روحانی سفر کو ایک سخت آزمائش میں بدل دیا۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں وبائیں جنگیں سیاسی بحران اور بدامنی بھی حج پر اثر انداز ہوتی رہیں۔
حج کی تاریخ میں کئی ایسے مواقع آئے ہیں جب یہ مقدس عبادت مکمل طور پر معطل رہی یا شدید متاثر ہوئی۔ اگرچہ حج مسلمانوں کا سب سے اہم روحانی سفر مانا جاتا ہے مگر جنگوں وباؤں سیاسی بحرانوں اور بدامنی نے مختلف ادوار میں اس عظیم عبادت کو متاثر کیا۔ تاریخی حوالوں کے مطابق تقریباً 40 مرتبہ ایسے حالات پیدا ہوئے جب حج ادا نہ ہو سکا یا حاجیوں کی تعداد انتہائی کم رہ گئی۔
King Abdulaziz Foundation for Research and Archives کے مطابق ان واقعات کی ایک طویل تاریخ موجود ہے۔


حج کے وہ چند سال اور واقعات جب حج یا تو معطل رہا یا متاثر ہوا:
1۔ 251 ہجری / 865 عیسوی:
اسماعیل بن یوسف العلوی المعروف السفاک اور اس کی افواج نے خلافت عباسیہ کے خلاف بغاوت کی اور مکہ کے قریب جبل عرفات پر جمع ہزاروں حاجیوں کا قتل عام کیا۔ اس کے نتیجے میں حج منسوخ کرنا پڑا۔
2۔ 317 ہجری / 930 عیسوی:
یقیناً سب سے بدنام واقعہ وہ تھا جب ’’قرامطہ‘‘ نامی ایک فرقے نے جس کے نزدیک حج ایک مشرکانہ رسم تھی اور جس کی قیادت ابو طاہر قرامطی کر رہا تھا حج کے موسم میں مکہ پر نہایت سفاکانہ حملہ کیا۔ تاریخی روایات کے مطابق قرامطہ نے 30,000 حاجیوں کا قتل عام کیا۔ وہ تمسخر کے انداز میں قرآن کی آیات پڑھتے رہے اور حاجیوں کو بغیر غسل بغیر کفن اور بغیر نماز جنازہ کے وہیں دفن کرتے گئے۔ انہوں نے 3,000 لاشیں زمزم کے مقدس کنویں میں پھینک دیں اور پھر اسے مکمل طور پر تباہ کردیا۔ انہوں نے خانہ کعبہ سے حجر اسود بھی چرا لیا اور اسے سعودی عرب کے مشرقی علاقے حجر یعنی موجودہ قطیف لے گئے جہاں وہ 22 برس تک رہا۔ کہا جاتا ہے کہ اس افسوسناک واقعے کے بعد 10 سال تک حج ادا نہیں کیا گیا۔
3۔ 492 ہجری / 1099 عیسوی:
مسلمانوں کی وسیع سلطنت میں آپسی شدید تنازعات اور بدامنی کے باعث حج ادا نہیں کیا جاسکا۔ یہ صورتحال بیت المقدس کے صلیبیوں کے ہاتھوں سقوط سے پانچ سال پہلے تک جاری رہی۔
4۔ 654 ہجری / 1256 عیسوی:
حجاز کے علاوہ کسی دوسرے ملک سے چار سال تک حج ادا نہیں کیا گیا کیونکہ مسلسل تنازعات جاری تھے۔
5۔ 1213 ہجری / 1799 عیسوی:
فرانسیسی انقلاب کے دوران راستے غیر محفوظ ہونے کی وجہ سے حج کے سفر بند ہوگئے تھے۔
6۔ 1246 ہجری / 1831 عیسوی:
نسبتاً جدید روایات کے مطابق ہندستان سے پھیلنے والی ایک وبا نے حاجیوں کی تین چوتھائی تعداد کو موت کا شکار بنا دیا تھا۔
7۔ 1252 ہجری سے 1310 ہجری / 1837 عیسوی سے 1892 عیسوی تک:
8۔ 1837 عیسوی سے 1892 عیسوی تک مختلف برسوں میں وبائیں پھیلتی رہیں اور روزانہ ہزاروں لوگ مرنے لگے
9۔ 1871میں یہ وبا مدینہ پہنچی۔ ہیضہ کے نام سے مشہور یہ وبا حج کے موسم میں پھیلی جہاں عرفات میں اموات میں اضافہ ہوا اور منیٰ میں یہ اپنے عروج پر پہنچ گئی۔
10۔ 1441 ہجری / 2020 عیسوی:کورونا وائرس وبا (کووڈ 19) کی وجہ سے بین الاقوامی حاجیوں کے حج ادا کرنے پر پابندی لگادی گئی۔۔
تاریخ کے یہ تمام واقعات اس حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں کہ حج جیسے عظیم روحانی سفر کو بھی مختلف ادوار میں جنگ وبا بدامنی اور سیاسی بحرانوں کا سامنا رہا۔ تاہم ہر مشکل دور کے بعد حالات بہتر ہوئے اور حج کا سلسلہ دوبارہ پوری شان کے ساتھ جاری رہا۔

