منصور الدین فریدی: نئی دہلی
خانہ کعبہ ۔ اسلام اور مسلمانوں کا سب سے مقدس مقام ۔ ایک زمانہ تھا جب اس کا دیدار صرف حاضری کی صورت میں ہی ممکن تھا۔ دنیا بھر کے مسلمان برسوں کی خواہش دل میں لیے مکہ مکرمہ پہنچتے تھے اور تب جا کر خانہ کعبہ کی زیارت نصیب ہوتی تھی۔ لیکن وقت کے ساتھ جب کیمرے نے دنیا میں قدم رکھا تو منظر بدلنے لگا۔ حرم شریف کی تصاویر آہستہ آہستہ دنیا کے مختلف گھروں تک پہنچنے لگیں۔ دیواروں پر خانہ کعبہ کے خوبصورت فریم سجنے لگے۔ آج معاملہ یہاں تک پہنچ چکا ہے کہ سیلفی سے لے کر خلا سے لی گئی تصاویر تک ہر منظر دنیا کے سامنے موجود ہے۔
اگر خانہ کعبہ کی پہلی تصویر کی بات کی جائے تو العربیہ کی ایک رپورٹ کے مطابق خانہ کعبہ کی سب سے قدیم تصویر 1881 میں لی گئی تھی۔ یہ تاریخی تصویر محمد صادق بے نے اپنے کیمرے میں محفوظ کی۔
محمد صادق بے عثمانی سلطنت کے تحت مصری فوج میں انجینئر تھے۔ وہ مصر سے آنے والے حاجیوں کے ساتھ بطور خزانچی حج کے سفر پر جایا کرتے تھے۔ اس سفر کے دوران وہ مقدس مقامات کی تفصیلات جمع کرتے اور تصاویر بھی لیتے تھے۔


مصر کے فوجی محمد صادق کی تصاویر جو نایاب بن چکی ہیں
اس زمانے میں فوٹوگرافی آج کی طرح آسان نہیں تھی۔ تصویریں لینے کے لیے ویٹ پلیٹ کولوڈین کیمرہ استعمال ہوتا تھا جو نہایت پیچیدہ اور حساس ٹیکنالوجی سمجھی جاتی تھی۔ صحرا کی گرمی سفر کی مشکلات اور محدود سہولتوں کے باوجود محمد صادق بے نے اپنے عزم کو کمزور نہیں ہونے دیا۔
محمد صادق بے صرف ایک فوجی افسر نہیں تھے بلکہ علم تحقیق اور فنون سے گہری دلچسپی رکھتے تھے۔ انہیں اپنے دور کے جدید ترین کیمرے اور فوٹوگرافی کے آلات میسر تھے۔ جب وہ مدینہ سے مکہ جانے والے قافلے کے ساتھ روانہ ہوئے تو ان کے ذہن میں ایک خاص مقصد تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ حج کے مقدس سفر اور اسلامی مقامات کی تصویری جھلک محفوظ کر لی جائے تاکہ آنے والی نسلیں بھی ان تاریخی مناظر کو دیکھ سکیں۔
اسل 1881 میں انہوں نے خانہ کعبہ کی ایک تاریخی تصویر لی جس میں خانہ کعبہ کا سیاہ غلاف واضح طور پر نظر آتا ہے۔ اس غلاف پر سنہری حروف میں قرآنی آیات نقش تھیں جو اس منظر کو مزید روح پرور بناتی تھیں۔یہ تصویر فوٹوگرافی کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل سمجھی جاتی ہے کیونکہ یہ سعودی عرب میں لی جانے والی ابتدائی تصاویر میں شمار ہوتی ہے۔

محمد صادق کی لی تصاویر
محمد صادق بے کی پیدائش قاہرہ میں ہوئی اور وہیں ان کا انتقال بھی ہوا۔ ان کی لی ہوئی تصاویر آج بھی اسلامی تاریخ اور فوٹوگرافی کے میدان میں ایک قیمتی ورثے کی حیثیت رکھتی ہیں۔یہ صرف ایک تصویر نہیں تھی بلکہ تاریخ کا ایک انمول خزانہ تھا۔ پہلی مرتبہ دنیا نے اسلام کے سب سے مقدس مقام کو تصویر کی شکل میں دیکھا۔ اس سے پہلے خانہ کعبہ کی جھلک صرف اُن خوش نصیب لوگوں کو نصیب ہوتی تھی جو مکہ مکرمہ حاضر ہوتے تھے۔یہ تصویر نہ صرف اسلامی تاریخ بلکہ فوٹوگرافی کی دنیا میں بھی ایک سنگ میل ثابت ہوئی۔ محمد صادق بے کی یہ کوشش آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی ورثہ بن گئی۔ آج بھی جب لوگ اس تاریخی تصویر کو دیکھتے ہیں تو انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وقت تھم گیا ہو اور 160 سال پہلے کا منظر ان کی آنکھوں کے سامنے زندہ ہو گیا ہو۔

مدینہ منورہ اور میدان عرفات کا 1881کا منظر
حرم شریف اور خانہ کعبہ اسلام کی تاریخ میں ہمیشہ مسلمانوں کے لیے سب سے اہم منزل رہے ہیں۔ کوئی پیدل سفر کر کے پہنچا تو کسی نے اونٹوں کے قافلے کے ساتھ صحراؤں کو عبور کیا۔ بعد میں سمندری جہاز آئے اور پھر ہوائی جہازوں نے سفر کو آسان بنا دیا۔ ٹیکنالوجی نے دنیا کو بدل دیا اور اسی انقلاب میں کیمرے نے بھی اپنی الگ دنیا بسا لی۔ آج سوشل میڈیا پر خانہ کعبہ کی تصاویر اور ویڈیوز کی بھرمار ہے۔ ہر زاویے سے لی گئی تصویریں لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ حالیہ برسوں میں ایک خلا باز نے خلا سے حرم شریف کی تصاویر شیئر کیں اور اسے دنیا کا سب سے روشن مقام قرار دیا۔ ان تصاویر میں تاریک زمین کے درمیان حرم شریف روشنی کے ایک منفرد مرکز کی طرح دکھائی دیتا تھا۔ مگر جب بات پہلی تصویر کی آتی ہے تو محمد صادق کی تصویر کو ہی نایاب مانا جائے گا ۔