زبیر احمد
ہندوستان کی تاریخ میں 1947 کا سال ایک ایسے تاریخی موڑ کی حیثیت رکھتا ہے جس نے نہ صرف برصغیر کے سیاسی جغرافیے کو بدل دیا بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگیوں پر بھی گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔ ایک طرف طویل غلامی کے بعد آزادی کی صبح طلوع ہوئی تو دوسری طرف تقسیم ہند کے سانحے نے اس خوشی کو خونریزی اور انسانی المیوں کی تاریکی میں ڈبو دیا۔ آزادی کا جشن ابھی پوری طرح شروع بھی نہیں ہوا تھا کہ کئی شہر اور بستیاں فرقہ وارانہ تشدد کی لپیٹ میں آگئیں۔ صدیوں سے ساتھ رہنے والے لوگ اچانک مذہب اور شناخت کے نام پر ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہوگئے۔تقسیم ہند صرف سرحدوں کی ایک نئی لکیر کھینچنے کا عمل نہیں تھا بلکہ یہ ایک ایسا انسانی سانحہ تھا جس نے لاکھوں خاندانوں کے گھر اجاڑ دیے۔ لوگوں کو اپنے آبائی علاقوں سے ہجرت پر مجبور ہونا پڑا۔ خاندان بچھڑ گئے۔ رشتے سرحدوں کے درمیان تقسیم ہوگئے اور بے شمار لوگ اپنی زمین اور جائیداد چھوڑ کر نامعلوم منزلوں کی طرف روانہ ہوگئے۔ کوئی ٹرینوں کے ذریعے ہجرت کر رہا تھا۔ کوئی پیدل سفر پر مجبور تھا اور کسی نے بیل گاڑی یا گھوڑے کا سہارا لیا۔ ان میں سے بہت سے لوگ اپنی منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی راستے میں تشدد اور بدامنی کا شکار ہوگئے۔
اس سانحے کے اثرات زندگی کے کسی ایک شعبے تک محدود نہیں رہے۔ سیاست۔ معاشرت۔ معیشت۔ خاندان اور ثقافت سب اس سے متاثر ہوئے۔ لوگوں کے درمیان پیدا ہونے والی دوریاں اور ہجرت کے تجربات نے آنے والی نسلوں کی اجتماعی یادداشت پر بھی گہرے نقوش چھوڑے۔
اردو ادب بھی تقسیم کے اس کرب سے الگ نہیں رہ سکا۔ اردو کے ادیبوں اور شاعروں نے تقسیم کو محض ایک سیاسی واقعے کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ اسے انسانی دکھ۔ بے بسی۔ ہجرت۔ جدائی اور شناخت کے بحران کے طور پر محسوس کیا۔ اسی لیے تقسیم ہند اردو ادب کا ایک اہم اور مستقل موضوع بن گئی۔ افسانوں۔ ناولوں۔ نظموں اور شاعری میں اس دور کے خونیں واقعات کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کے دکھ کو بھی بیان کیا گیا جو اچانک اپنے گھر۔ اپنی زمین اور اپنے اپنوں سے محروم ہوگئے۔یوں 1947 اردو ادب میں صرف آزادی کی تاریخ نہیں بلکہ ایک ایسے اجتماعی زخم کی علامت بن گیا جس کی کسک آج بھی ادب اور انسانی یادداشت میں محسوس کی جاتی ہے۔
ادب نے تاریخ کے بجائے انسان کو دیکھا
تقسیم کے بارے میں لکھنے والے ادیبوں نے فسادات کی تعداد اور ہجرت کے اعداد و شمار سے زیادہ اس انسان کو موضوع بنایا جو ان واقعات کے بیچ پس رہا تھا۔ کسی کہانی میں ایک بوڑھا باپ اپنے بچھڑے ہوئے بیٹے کو یاد کرتا دکھائی دیتا ہے۔ کہیں ایک عورت اپنا گھر اور ماضی دونوں کھو دیتی ہے۔ کہیں مہاجر کیمپ میں بیٹھا شخص اپنے گزرے ہوئے دنوں کو یاد کرتا ہے اور کہیں ایک ایسا خاندان سامنے آتا ہے جس کے افراد نئی سرحد کے باعث الگ الگ ملکوں کے شہری بن جاتے ہیں۔اسی لیے تقسیم سے متعلق اردو ادب میں سیاسی تاریخ کے ساتھ انسانی نفسیات کی ایک گہری تصویر بھی ملتی ہے۔ خوف۔ بے گھری۔ تنہائی۔ جدائی۔ شناخت کا بحران اور اپنے ماضی سے محرومی ان تخلیقات کے بنیادی موضوعات بن گئے۔کرشن چندر۔ سعادت حسن منٹو۔ عصمت چغتائی۔ راجندر سنگھ بیدی۔ حیات اللہ انصاری۔ خواجہ احمد عباس۔ احمد ندیم قاسمی اور قرۃ العین حیدر سمیت متعدد ادیبوں نے اس دور کے تجربات کو اپنی تحریروں میں محفوظ کیا۔ ان کی تخلیقات نے آنے والی نسلوں کو یہ سمجھنے میں مدد دی کہ تقسیم صرف نقشے پر کھینچی گئی ایک لکیر نہیں تھی بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگیوں میں آنے والی ایک بنیادی تبدیلی تھی۔
منٹو اور تقسیم کا بے رحم سچ
تقسیم ہند کے انسانی المیے کو بے حد شدت کے ساتھ پیش کرنے والوں میں سعادت حسن منٹو کا نام نمایاں ہے۔ ان کی تحریروں میں تقسیم کے دوران پیدا ہونے والی سفاکی اور انسانی رویوں کی پیچیدگی پوری شدت کے ساتھ سامنے آتی ہے۔منٹو نے اپنے افسانے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں تقسیم کے ایک ایسے پہلو کو موضوع بنایا جس میں پاگل خانے کے کرداروں کے ذریعے یہ سوال اٹھایا گیا کہ آخر انسان کا وطن کیا ہے اور اسے کس بنیاد پر تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ یہ افسانہ آج بھی تقسیم ہند کے ادب کی ایک اہم علامت سمجھا جاتا ہے۔ان کے مجموعے سیاہ حاشیے میں بھی تقسیم کے دوران رونما ہونے والے واقعات کی مختصر مگر انتہائی اثر انگیز تصویریں موجود ہیں۔ ان کہانیوں میں انسان کی سفاکی بھی دکھائی دیتی ہے اور اس کے اندر باقی رہ جانے والی انسانیت بھی۔’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘ میں مصنّف نے بتایا ہے کہ تقسیمِ ہند کے بعد جہاں ہر چیز کا تبادلہ اور منتقلی عمل میں لائی جارہی تھی اور نئی نئی بنائی گئی سرحدوں کے اطراف قیدیوں اور پاگلوں کی بھی منتقلی کا منصوبہ بنایا گیا تو ایک پاگل انسان پر کیا بیتی۔ یہ کردار فضل دین پاگل کا تھا جسے صرف اس بات سے سروکار ہے کہ اُسے ’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘ سے یعنی اس کی جگہ سے دور نہ کیا جائے۔ وہ جگہ خواہ ہندوستان میں ہو یا پاکستان میں، اسے اس سے غرض نہیں تھی۔ جب اُسے جبراً وہاں سے نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے تو وہ ایک ایسی جگہ جم کر کھڑا ہو جاتا ہے جو نہ ہندوستان کا حصّہ ہے اور نہ پاکستان کا۔ اور اچانک وہ اسی جگہ پر ایک فلک شگاف چیخ کے ساتھ اوندھے منھ گر جاتا ہے۔ وہ مَر چکا ہوتا ہے۔
قرۃ العین حیدر اور بٹتے ہوئے رشتوں کی داستان
تقسیم ہند کے انسانی اثرات کو وسیع تاریخی اور تہذیبی تناظر میں پیش کرنے والی سب سے اہم ادیبوں میں قرۃ العین حیدر کا شمار ہوتا ہے۔ ان کی تحریروں میں تقسیم صرف سیاسی واقعہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی اور انسانی شکست کے طور پر سامنے آتی ہے۔ان کا افسانہ جلا وطن اسی حوالے سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔
اس میں ایک ایسے خاندان کی تصویر پیش کی گئی ہے جس کے افراد تقسیم کے بعد مختلف سمتوں میں بکھر جاتے ہیں۔ایک بیمار باپ ہندوستان میں رہ جاتا ہے۔ اس کا بیٹا پاکستان چلا جاتا ہے اور وہاں فوج میں میجر بن جاتا ہے۔ باپ نہ اپنا وطن چھوڑنا چاہتا ہے اور نہ تقسیم کے فیصلے کو قبول کر پاتا ہے۔ لیکن حالات اسے ایسے مقام پر پہنچا دیتے ہیں جہاں اپنے ہی ملک میں اس کی وفاداری پر سوال اٹھنے لگتا ہے۔اس کے لیے بیٹے کی جدائی کا دکھ اپنی جگہ ہے۔ دوسری طرف پولیس اور سرکاری اداروں کی پوچھ گچھ اس کے لیے ایک الگ اذیت بن جاتی ہے۔ جن لوگوں کے ساتھ اس کے برسوں کے تعلقات تھے وہی اب اسے شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔خاندان کی بیٹی بھی پاکستان جانا چاہتی ہے لیکن والد کی بیماری اسے روک لیتی ہے۔ اس طرح ایک ہی خاندان کے اندر رہنے والے افراد بھی تقسیم کے بعد مختلف ملکوں اور مختلف جذباتی دنیا کے درمیان بٹ جاتے ہیں۔یہاں قرۃ العین حیدر کا اصل کمال سامنے آتا ہے۔ وہ تقسیم کو محض ہندو مسلم تنازع یا سیاسی تبدیلی کے طور پر نہیں دیکھتیں بلکہ یہ دکھاتی ہیں کہ ایک سیاسی فیصلہ عام انسان کی نجی زندگی کو کس طرح تہہ و بالا کردیتا ہے۔
ہاؤسنگ سوسائٹی اور زوال پذیر دنیا
قرۃ العین حیدر کا افسانہ ہاؤسنگ سوسائٹی تقسیم کے بعد بدلنے والی سماجی دنیا کی ایک اور اہم تصویر پیش کرتا ہے۔اس افسانے میں ایسے خاندانوں کی زندگی سامنے آتی ہے جو تقسیم سے پہلے سماجی حیثیت اور آسائش کے مالک تھے۔ تقسیم کے بعد ان کی پوری دنیا بدل جاتی ہے۔کلکٹر صاحب کا خاندان اسی تبدیلی کی علامت ہے۔ وہ شخص جس کے گھر میں کبھی شان و شوکت تھی اور جس کی زندگی میں آسائشیں موجود تھیں اب سرحد کے دوسری جانب بے بسی کی زندگی گزار رہا ہے۔ خود کلکٹر صاحب مفلوج ہوچکے ہیں اور ان کے بیٹے کا کوئی ٹھکانہ معلوم نہیں۔وہ بیٹی جو کبھی ناز و نعم میں پلی بڑھی تھی اب معمولی ملازمت کے ذریعے زندگی کا بوجھ اٹھانے پر مجبور ہے۔یہ منظر صرف ایک خاندان کی کہانی نہیں۔ یہ اس پورے طبقے کے زوال کی علامت ہے جس کی سماجی حیثیت اور دولت تقسیم کے ایک فیصلے کے بعد بے معنی ہوگئی۔
’نصیب جلی‘: انسانیت کی جیت کا افسانہ
رام لعل کا افسانہ ’’نصیب جلی‘‘ تقسیم ہند کے خون آشام ماحول میں انسانیت کی ایک روشن کرن بن کر سامنے آتا ہے۔ یہ کہانی اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ نفرت اور فساد کے اندھیروں میں بھی کچھ دل ایسے تھے جنہوں نے مذہب سے پہلے انسان کو پہچانا۔افسانے کے مرکزی کردار موتا سنگھ اور غلام سرور ہیں۔ دونوں امرتسر کی ایک ورکشاپ میں ملازم تھے اور کام کے ساتھ ساتھ پڑوسی بھی تھے۔ محض دو برس کی رفاقت نے ان کے درمیان ایسا اعتماد پیدا کردیا تھا جو مذہبی شناخت سے کہیں زیادہ مضبوط ثابت ہوا۔جب تقسیم کے فسادات نے امرتسر کو اپنی لپیٹ میں لیا تو سکھ اکثریت والے علاقے میں غلام سرور کی جان خطرے میں پڑ گئی۔ مشتعل ہجوم اس کے خون کا پیاسا تھا۔ جان بچانے کی آخری کوشش میں وہ دیواریں پھلانگتا ہوا موتا سنگھ کے گھر جا پہنچا۔
یہ لمحہ صرف دو دوستوں کا نہیں بلکہ انسانیت کے امتحان کا تھا۔ موتا سنگھ کے اپنے کئی عزیز بھی انہی فسادات میں مسلمانوں کے ہاتھوں مارے جا چکے تھے۔ وہ چاہتا تو انتقام کی آگ میں ایک بے بس انسان کو قربان کر سکتا تھا، مگر اس نے نفرت کے بجائے دوستی اور انسانیت کا انتخاب کیا۔اس نے غلام سرور کو فوراً اندر لے جا کر اپنی بیوی کے ساتھ ایک ہی پلنگ پر لٹا دیا، دونوں پر رضائی ڈال دی اور آہستہ سے کہا:۔۔۔“بالکل ساکت رہنا، ایسے جیسے دو سوئے ہوئے لوگ ہوں۔”چند لمحوں بعد فسادی دروازہ توڑتے ہوئے گھر میں داخل ہوئے۔ انہوں نے ہر کمرہ کھنگالا، مگر غلام سرور ان کی نظروں سے اوجھل رہا۔ مایوس ہو کر ہجوم واپس لوٹ گیا اور ایک انسان کی جان بچ گئی۔نصیب جلی دراصل یہ پیغام دیتا ہے کہ تقسیم نے اگرچہ انسانوں کے درمیان دیواریں کھڑی کیں، لیکن محبت، وفاداری اور انسانیت ایسی قدریں ہیں جو ہر سرحد اور ہر مذہبی تقسیم سے بلند رہتی ہیں۔ یہ افسانہ انتقام کے مقابلے میں رحم، اور نفرت کے مقابلے میں انسان دوستی کی ایک لازوال مثال ہے۔
’ماں بیٹا‘: مذہبی نفرت کے بیچ انسانیت کی مشترکہ کسک
حیات اللہ انصاری اردو افسانے کے اہم اور نمایاں افسانہ نگاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے افسانوں میں سماجی حقیقت نگاری اور انسانی جذبات کی گہری عکاسی نمایاں نظر آتی ہے۔ ’’ماں بیٹا‘‘ بھی تقسیم ہند کے پس منظر میں لکھا گیا ایسا افسانہ ہے جس میں مذہبی تعصب اور انسانی رشتوں کے درمیان ایک معنی خیز کشمکش دکھائی گئی ہے۔افسانے میں ایک ہندو بیٹے اور ایک مسلمان ماں کو پیش کیا گیا ہے جو مذہبی اعتبار سے ایک دوسرے سے بالکل مختلف ماحول میں پرورش پاتے ہیں۔ ان کی سماجی زندگی۔ رسم و رواج۔ تہوار اور مذہبی شناخت الگ الگ ہیں۔ دونوں اپنے اپنے ماحول میں مذہبی انتہا پسندی اور تعصب سے متاثر ہوکر ایک دوسرے کے مذہب سے بیزاری اور نفرت کا جذبہ رکھتے ہیں۔
لیکن تقسیم ہند کا سانحہ ان دونوں کے درمیان موجود مذہبی فاصلے کو ایک نئے انداز میں بدل دیتا ہے۔ جن لوگوں کے مذاہب اور عقائد ایک دوسرے سے مختلف تھے وہ اچانک ایک ہی طرح کے دکھ اور محرومی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ برسوں سے اپنے گھروں اور بستیوں میں آباد یہ لوگ تقسیم کی آندھی میں سب کچھ کھو بیٹھتے ہیں۔ ان کے گھر اجڑ جاتے ہیں۔ رشتے بکھر جاتے ہیں اور وہ اپنی ہی سرزمین پر بے گھر اور بے سہارا ہوجاتے ہیں۔ان دونوں کے مذہب الگ ہیں۔ ان کی تہذیب اور رسم و رواج الگ ہیں۔ ان کے تہوار اور خاندانی پس منظر بھی مختلف ہیں۔ لیکن جب اجڑنے اور بے گھر ہونے کی باری آتی ہے تو دونوں کی کہانی ایک جیسی ہوجاتی ہے۔ دونوں اپنے اپنے دکھ کے ساتھ زندگی کی نئی حقیقت کا سامنا کرتے ہیں۔
پھر اتفاق انہیں ایک دوسرے کے قریب لے آتا ہے۔ جب وہ ایک دوسرے کی داستان سنتے ہیں تو انہیں احساس ہوتا ہے کہ جس شخص سے وہ مذہبی تعصب کی بنیاد پر نفرت کرتے رہے ہیں اس کا دکھ بھی بالکل ان ہی جیسا ہے۔ ایک کی آنکھوں میں اپنے اجڑے ہوئے گھر کا درد ہے تو دوسرے کے دل میں بھی اپنے چھوٹے ہوئے وطن کی کسک موجود ہے۔یہ ملاقات ان کی سوچ بدل دیتی ہے۔ مذہبی شناخت کے پیچھے چھپا ہوا انسان ان کے سامنے نمایاں ہوجاتا ہے۔ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ دکھ کی کوئی مذہبی شناخت نہیں ہوتی اور بے گھری کا درد کسی ایک قوم یا مذہب تک محدود نہیں۔’’ماں بیٹا‘‘ اسی انسانی حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ تقسیم نے لوگوں کو مذہب اور سرحد کے نام پر الگ ضرور کردیا تھا لیکن ان کے دکھ ایک جیسے تھے۔ افسانہ مذہبی نفرت کے مقابلے میں انسانی ہمدردی اور مشترکہ کرب کو سامنے لاتا ہے اور یہ احساس پیدا کرتا ہے کہ ایک دوسرے کے دکھ کو سمجھ لینا نفرت کی سب سے مضبوط دیوار کو بھی گرا سکتا ہے۔
’لاجونتی‘: تقسیم کے بعد عورت کی عزت اور وفاداری کا المیہ
راجندر سنگھ بیدی کا مشہور افسانہ ’’لاجونتی‘‘ تقسیم ہند کے ان انسانی المیوں کو سامنے لاتا ہے جن میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والی زندگیوں میں عورت کی زندگی بھی شامل تھی۔ افسانے کا مرکزی کردار لاجونتی ہے جو اپنے شوہر سندر لال سے بے حد محبت کرتی ہے اور اسے اپنی زندگی کا مرکز سمجھتی ہے۔ سندر لال بھی لاجونتی سے گہری محبت کرتا ہے اور اس پر جان چھڑکتا ہے۔لیکن تقسیم کے دوران حالات اچانک بدل جاتے ہیں۔ فسادات کی لپیٹ میں آنے والی لاجونتی کو کچھ مسلمان نوجوان زبردستی اپنے ساتھ پاکستان لے جاتے ہیں۔ اس کے بعد اس کی زندگی ایک ایسے کرب میں داخل ہوجاتی ہے جہاں وہ اپنے گھر۔ شوہر اور ماضی سے مکمل طور پر جدا ہوجاتی ہے۔
کچھ عرصے بعد جب دونوں ملکوں کے درمیان مہاجرین کی ادلا بدلی کا سلسلہ شروع ہوتا ہے تو لاجونتی واپس ہندوستان آجاتی ہے اور بالآخر اپنے شوہر سندر لال تک پہنچ جاتی ہے۔ لیکن یہاں کہانی ایک انتہائی دردناک موڑ اختیار کرتی ہے۔جو سندر لال کبھی لاجونتی سے بے پناہ محبت کرتا تھا اب اس کے ساتھ بدلا ہوا رویہ اختیار کرتا ہے۔ وہ لاجونتی کی طرف محبت اور اعتماد کی نگاہ سے دیکھنے کے بجائے اس کے ماضی کو شک کی نظر سے دیکھنے لگتا ہے۔ لاجونتی کے لیے یہ تبدیلی ناقابل فہم ہے۔ وہ اپنے شوہر کے سامنے موجود ہونے کے باوجود اس کے دل میں اپنی جگہ کھو چکی محسوس کرتی ہے۔
سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جس واقعے کی ذمہ دار لاجونتی خود نہیں تھی اس کا بوجھ بھی اسی کے کردار پر ڈال دیا جاتا ہے۔ اس کی وفاداری اور پاکیزگی اس کے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے سوال بن جاتی ہے۔ تقسیم کے فسادات نے اس سے اس کا گھر چھینا تھا لیکن سماجی رویوں نے اس سے اس کی عزت نفس اور اعتماد بھی چھین لیا۔راجندر سنگھ بیدی نے ’’لاجونتی‘‘ کے ذریعے صرف ایک عورت کی داستان بیان نہیں کی بلکہ اس معاشرتی ذہنیت پر بھی سوال اٹھایا ہے جو عورت کو جنگ اور فساد کی صورت حال میں بھی عزت اور کردار کے پیمانوں پر پرکھتی ہے۔ افسانہ یہ دکھاتا ہے کہ تقسیم کی سرحدیں ختم ہوجانے کے باوجود اس کے ذہنی اور سماجی اثرات انسانوں کے اندر باقی رہتے ہیں۔
’’لاجونتی‘‘ اسی لیے تقسیم ہند کے ادب میں ایک اہم افسانہ ہے۔ اس میں عورت کا دکھ۔ شوہر کی بدلتی ہوئی سوچ اور معاشرے کے دوہرے معیار ایک ساتھ سامنے آتے ہیں۔ لاجونتی کی کہانی دراصل ان بے شمار عورتوں کی خاموش داستان ہے جنہوں نے تقسیم کے دوران ناقابل بیان مصیبتیں جھیلیں لیکن واپسی کے بعد بھی انہیں مکمل قبولیت اور اعتماد نصیب نہ ہوسکا۔

دوسرے ادیب اور تقسیم کی مختلف تصویریں
احمد ندیم قاسمی نے بھی تقسیم کے فسادات اور انسانی رشتوں کو اپنی تحریروں میں جگہ دی۔ شوکت صدیقی۔ اشفاق احمد۔ قدرت اللہ شہاب اور ڈاکٹر انور سجاد سمیت متعدد ادیبوں نے ہجرت۔ فسادات اور بدلتے ہوئے معاشرے کے تجربات کو افسانوں اور ناولوں میں بیان کیا۔تقسیم سے متعلق ادب کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ہر ادیب نے سانحے کو اپنے مخصوص زاویے سے دیکھا۔ کسی کے ہاں فسادات کا خوف نمایاں ہے۔ کسی کے ہاں ہجرت کی اذیت۔ کسی کے ہاں شناخت کا بحران اور کسی کے ہاں بچھڑتے ہوئے رشتوں کی کسک۔ اسی سلسلے میں کفن دفن۔ فساد۔ اندھیرا اور اندھیرا۔ ہفتے کی شام۔ لاجونتی۔ پشاور ایکسپریس۔ امرتسر اور لال باغ جیسی تخلیقات بھی تقسیم کے عہد کے مختلف انسانی اور سماجی پہلو سامنے لاتی ہیں۔
تقسیم کا ادب آج بھی کیوں زندہ ہے
تقسیم ہند کو کئی دہائیاں گزر چکی ہیں لیکن اس موضوع پر لکھا گیا ادب آج بھی تازہ محسوس ہوتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ ادب صرف ایک تاریخی واقعے کو محفوظ نہیں کرتا بلکہ انسانی جذبات کی ایسی تصویریں پیش کرتا ہے جو وقت کے ساتھ پرانی نہیں ہوتیں۔ماں کی جدائی۔ باپ کا انتظار۔ بچھڑے ہوئے بہن بھائی۔ اجڑا ہوا گھر۔ چھوٹا ہوا شہر۔ مہاجر کیمپ میں گزرتی رات اور ماضی کی یاد میں ڈوبا ہوا انسان۔ یہ سب تجربات کسی ایک نسل تک محدود نہیں رہتے۔تقسیم ہند کے ادب نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ تاریخ صرف بادشاہوں۔ حکومتوں اور سیاسی فیصلوں کا نام نہیں۔ تاریخ ان عام انسانوں کی بھی کہانی ہے جو بڑے فیصلوں کے نتائج اپنی زندگیوں میں بھگتتے ہیں۔اردو ادب نے تقسیم کے اسی انسانی پہلو کو محفوظ کیا۔ اس نے خونریزی کے اعداد و شمار کے پیچھے چھپے ہوئے چہروں کو سامنے لایا۔ اس نے بتایا کہ ایک سرحد بننے میں چند لمحے لگ سکتے ہیں لیکن اس سرحد کے باعث پیدا ہونے والے زخم نسلوں تک باقی رہ سکتے ہیں۔تقسیم ہند نے برصغیر کو دو ملکوں میں ضرور تقسیم کیا لیکن اس نے لوگوں کے اندر موجود مشترکہ تہذیب۔ زبان۔ یادوں اور رشتوں کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ تقسیم پر لکھا گیا اردو ادب آج بھی دونوں جانب کے قارئین کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔یہ ادب ہمیں ماضی کی طرف دیکھنے پر مجبور کرتا ہے اور ساتھ ہی یہ سوال بھی سامنے رکھتا ہے کہ اگر تاریخ سے کچھ سیکھا نہ جائے تو انسانی المیے دوبارہ جنم لے سکتے ہیں۔تقسیم ہند کی سب سے بڑی گواہی شاید وہ ادب ہے جس میں نقشے کی سرحدوں سے زیادہ انسان کے دل پر پڑنے والی لکیر دکھائی دیتی ہے۔