مدینہ شریف سے ایک ہندو ڈرائیور کی عقیدت کی کہانی

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 19-01-2026
مدینہ شریف سے ایک ہندو ڈرائیور کی عقیدت کی کہانی
مدینہ شریف سے ایک ہندو ڈرائیور کی عقیدت کی کہانی

 



نئی دہلی /مدینہ

محمد کے شہر نے مجھے سب کچھ دیا ۔۔۔ بنا مانگے دیا اور دل کی ہر خواہش کو پورا کیا ۔۔۔ میں اس زمین کو سلام کرتا ہوں ۔۔۔ ایک بار نہیں بار بار کرتا ہوں ۔میں ایک ہندو ہوں لیکن میں اس سرزمین کا احترام کرتا ہوں ۔

یہ الفاظ ہیں ایک ہندوستانی ڈرائیور کے جو پچھلے آٹھ سال سے سعودی عرب میں ڈرائیور نگ کی ذمہ داری نبھا رہا ہے،سعودی عرب میں خوشحال زندگی گزار رہا ہے اور ہندوستان میں اپنے خاندان کی تمام تر ذمہ داریاں پوری کررہا ہے ۔ سوشل میڈیا پر سر گرم ایک ویڈیو میں دو ڈرائیوروں کو مدینہ کے قریب بات چیت کرتے دکھایا گیا ہے جس میں دونوں بھائی چارے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو مثال پیش کررہے ہیں

 ویڈیو میں یو ٹیوبر ڈرائیور محفوظ ایک اور ڈرائیور ونود کا تعارف کراتا ہے جو کہ اعظم گڑھ کے ہیں اور  سعودی عرب میں انہیں 8 سال ہو گئے ہیں۔

  محفوظ کے مطابق ۔۔۔ اگر بھائی ہو تو ونود جیسا ہو ۔ سعودی عرب میں انہیں 8 سال ہو گئے ہیں۔ ابھی تک ان کی شادی نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے جو ریال کمائے وہ سب خاندان پر خرچ کیے۔ انہوں نے اپنی بہن کی شادی کرائی۔ اپنے چھوٹے بھائیوں کی شادی کرائی۔ لیکن خود اب تک کنوارے ہیں حالانکہ عمر میں بڑے ہیں۔دوستو اسے کہتے ہیں ذمہ داری۔ 

ویڈیو میں ایک ونود کہتا ہے کہ ۔۔۔ ہم خاص طور پر بھائیوں سے کہنا چاہتے ہیں کہ میرے بھائی محمد کے شہر میں جو شخص ایمانداری سے زندگی گزارےگا۔ اللہ اسے وہ دے گا کہ جو اس نے مانگا نہیں ہوگا۔مجھے اس کا تجربہ ہے ،اس پر  اللہ کی بہت بڑی رحمت ہے۔ اگر آپ اس دھرتی پر دل سے اور ایمانداری سے سلام کرتے ہیں تو میں اس دھرتی کو نمن کرتا ہوں۔ میرے بھائی۔ کیونکہ اس دھرتی سے میں نے اپنی زندگی میں جو کچھ مانگا آٹھ سال کے دور میں وہ سب مجھے ملا۔ یہ حقیقت ہے محمد کے شہر میں۔ میں سلام کرتا ہوں۔

 وہ کہتا ہے کہ ایک ہندو ہو کر میں مدینہ بھی گیا ہوں، بہت لوگ کہتے ہیں کہ ہندو نہیں جا سکتے۔ مگر ایسا نہیں ہے ، میں اپنی میڈ م کے ساتھ مدینہ بھی گیا ہوں۔ وہاں پولیس والے سے میری میڈم کی بحث ہو گئی۔ پولیس والا مجھے جانے نہیں دے رہا تھا۔ ایک گھنٹہ میری میڈم نے اس سے بحث کی۔ اس نے کہا کہ جائے گا تو یہی ڈرائیور جائے گا ورنہ ہم واپس چلے جائیں گے۔ پولیس والا تنگ ہو گیا۔ ایک گھنٹہ بحث کے بعد ہمیں جانے دیا گیا۔

 وہ کہتا ہے کہ میں مدینہ شریف کی گلیوں میں ڈرائیونگ کر چکا ہوں۔ مجھ پر ایک دن بھی کوئی سختی نہیں ہوئی۔ حالانکہ مدینہ میں عام طور پر اجنبیوں کو اور غیر مسلموں کو داخلے کی اجازت نہیں ہوتی۔ اس کے باوجود بھائی مدینہ گھوم کر آئے۔ وہ کہتے ہیں کہ محمد کے شہر نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے۔ میں اس شہر کو زندگی بھر سلام کرتا رہوں گا۔

 اس ویڈیو میں وہ مزید کہتا ہے کہ میں دل سے کہہ رہا ہوں کہ قدرت نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے۔ اس دھرتی نے ہمیں بہت نوازا ہے۔ مجھے اس دھرتی سے اتنا پیار ہو گیا ہے جتنا ماں باپ سے اولاد کو ہوتا ہے،خاص طور پر اس مٹی سے محبت ہوگئی ہے ۔

 وہ کہتا ہے کہ بھائی رمضان شریف میں کھانا پانی اور ساری چیزیں بچوں سے منگوا کر بانٹتے ہیں۔ آپ اس مسجد کو دیکھ لیجیے۔ اس مسجد میں سعودی مدیر ہیں۔ وہ ہمیں دیکھ کر سلام کرتے ہیں۔ کہتے ہیں سب لوگوں کو کھانا کھلاؤ۔ میں اپنے ہاتھوں سے کھانا بانٹتا ہوں۔

وہ کہتا ہے کہ میں  نے بہت پیسہ کمایا۔ اپنا گھر بنایا۔ کھیتی باڑی بھی کی۔ تین تین بھائی بہنوں کی شادی بھی کرائی۔ بچوں کی پرورش بھی کر رہا ہوں۔ گھر اور خاندان کی ذمہ داری بھی نبھا رہا ہوں۔وہ کہتا ہے کہ ۔۔۔ اس مٹی کو میں زندگی بھر نمن کروں گا۔ میں اسے کبھی نہیں بھول سکتا۔ یہ حقیقت ہے۔