غوث سیوانی،نئی دہلی
کلکتہ کی ایک شاہراہ کا نام سید امیر علی ایونیو ہے مگر یہاں بسنے والے لوگ بھی نہیں جانتے کہ سیدامیر علی کون تھے اور مسلمانوں کے حقوق کی لڑائی میں ان کا کردار کیا تھا؟ مسلمانوں کے ایسے بہت سے محسن ہیں جو آج فراموش کئے جاچکے ہیں مگر سید امیر علی کو اس لئے بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ ان کی جدوجہد کا دائرہ ہندوستان تک محدود نہیں تھا بلکہ عالمی تھا۔ موجودہ دور میں جس قانون کو ہم مسلم پرسنل لا یا شریعت لا کہتے ہیں،اس کی تدوین کا سہرا بھی انھیں کے سر جاتا ہے۔ یوروپ کو اسلام سے متعارف کرانے اور اسلام کے تعلق سے غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے بھی انہوں نے مثبت کو ششیں کی تھیں۔
کون تھے سیدامیرعلی؟
سید امیر علی (1849–1928) ایک ہندوستانی/برطانوی ماہر قانون تھے۔ ان کے خاندان کا تعلق ریاست اودھ سے تھا مگر والد بنگال پریزیڈنسی چلے آئے تھے اور یہیں آباد ہوگئے تھے۔ وہ ایک ممتاز سیاسی رہنما تھے، اور مسلم تاریخ وجدید دور میں اسلام کے حوالے سے متعدد بااثر کتابوں کے مصنف تھے۔انہیں ہندوستان کے قانون، خاص طور پر مسلم پرسنل لا کی تدوین کا سہرا دیا جاتا ہے۔ برطانوی راج کے دوران وہ مسلمانوں کے حقوق کے لیے کوشاں تھے اورآل انڈیا مسلم لیگ کے بانی ارکان میں شامل تھے۔ تحریک خلافت کے فروغ میں بھی انہوں نے کلیدی کردار ادا کیا مگر ایک وضاحت ضروری ہے کہ تب تک مسلم لیگ نے تقسیم ملک کی بات نہیں کی تھی۔
زندگی کا سفر
سید امیر علی 6 اپریل 1849 کو اڈیشہ کے کٹک میں پیدا ہوئے۔ سید سعادت علی کے پانچ بیٹوں میں وہ چوتھے تھے۔ حالانکہ ان کا خاندان کٹک سے بنگال کے کلکتہ اور پھر چنسورہ منتقل ہوگیا تھا جہاں وہ مستقل طور پر آباد ہو گیا۔ سید سید امیر علی نے برطانوی حکومت کے نظام تعلیم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ،اس کے وظیفے پر اعلیٰ تعلیم پائی اور پھر ہندوستانیوں کے حقوق کے لئے جدوجہد بھی کی۔ 1869 میں ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی اور کلکتہ میں قانونی پرکٹس شروع کی۔ ان کے عہد میں چند مسلم وکیل ہی نمایاں حیثیت کے حامل تھے، جن میں وہ بھی شامل تھے۔
.webp)
لندن میں سیدامیر علی کی آخری آرامگاہ
اس کے بعد وہ 1869 اور 1873 کے درمیان لندن میں رہے، جہاں بیرسٹروں اور ججوں کی انجمنوں میں شمولیت اختیار کی اور ان کی صلاحیت کو مہمیزی ملی۔ سید امیر علی نے 1873 میں ہندوستان واپسی پر کلکتہ ہائی کورٹ میں اپنی قانونی پریکٹس دوبارہ شروع کی۔ اس کے ایک سال بعد، وہ کلکتہ یونیورسٹی کے فیلو کے طور پر منتخب ہوئے اور ساتھ ہی ساتھ پریسیڈنسی کالج، کولکتہ میں اسلامی قانون کے لیکچرر مقرر ہوئے۔ 1878 میں انہیں بنگال لیجسلیٹو کونسل کا ممبر مقرر کیا گیا۔
وہ 1881 میں کلکتہ یونیورسٹی میں قانون کے پروفیسر بنے۔ 1883 میں انہیں گورنر جنرل کونسل کی رکنیت کے لیے نامزد کیا گیا۔ 1890 میں انہیں کلکتہ ہائی کورٹ میں جج بنا دیا گیا۔ اس سے قبل انہوں نے 1877 میں کلکتہ میں سیاسی تنظیم سینٹرل نیشنل محمدن ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی تھی۔ یہ انجمن بعد میں مدراس سے کراچی تک 34 شاخوں کے ساتھ ملک بھر میں پھیل گئی۔ ایسوسی ایشن نے مسلمانوں کی جدیدیت اور ان کے سیاسی شعور کو بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ 25 سال سے زیادہ اس سے وابستہ رہے، اور مسلمانوں کی سیاسی ترقی کے لیے کام کیا۔
سید امیر علی نے 1908 میں لندن مسلم لیگ قائم کی۔ یہ تنظیم ایک آزاد ادارہ تھا نہ کہ آل انڈیا مسلم لیگ کی شاخ۔ 1909 میں، وہ پریوی کونسل کی جوڈیشل کمیٹی کے رکن کے طور پر بیٹھنے والے پہلے ہندوستانی بن گئے جس پر وہ 1928 میں اپنی موت تک خدمات انجام دیتے رہے۔ 1908 میں، وہ وائٹ چیپل گیلری میں منعقد ہونے والی ترکی، فارس، مصر، مراکش اور ہندوستان کی نمائش میں محمڈن آرٹ اینڈ لائف کے مشیر تھے۔
لندن کی پہلی مسجد کا قیام

۔ 1910 میں، انہوں نے باضابطہ طور پر ممتاز برطانوی مسلمانوں کے ایک گروپ کے ساتھ مل کر، دارالحکومت میں پہلی مسجد کی تعمیر کے لیے مالی اعانت فنڈ قائم کیا۔ مشرقی لندن کی یہ مسجد، آج یورپ کی سب سے بڑی مساجد میں سے ایک ہے۔ اب ان کی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع ہو گیا تھا اور وہ پوری دنیا میں مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے کھڑے تھے۔ وہ 1904 میں بنگال ہائی کورٹ سے ریٹائر ہوئے اور اپنی انگریز بیوی (اسابیل ایدا کونسٹیم) کے ساتھ انگلینڈ میں رہائش اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ اپنے پورے کیریئر میں وہ ایک قانون داں اور معروف اسلامی اسکالر کے طور پر جانے جاتے تھے۔ ان کا انتقال 4 اگست 1928 کو سسیکس میں ہوا اور انہیں بروک ووڈ قبرستان میں دفن کیا گیا۔
ترقی پسندانہ خیالات
سید امیر علی اپنے دور کے حالات پر گہری نظر رکھتے اور سرسیداحمد خان کی طرح وہ بھی مانتے تھے انگریزوں کی مخالفت کے بجائے ان کی وفاداری کرکے مسلمان زیادہ فائدہ اٹھاسکتے ہیں اور ایک پسماندہ قوم سے ترقی یافتہ قوم بن سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے، انہوں نے اپنے پیروکاروں سے کہا کہ وہ اپنی توانائی اور توجہ مسلمانوں میں انگریزی تعلیم کو عام کرنے پر لگائیں۔
مذہب وعقیدے کا دفاع
سید امیر علی کا تعلق ہندوستانی مسلمانوں کی اس نسل سے تھا جس نے اپنے عقیدے اور مذہب کے دفاع کی کوشش، ایسے وقت میں کی جب ہندوستان سے مغلیہ سلطنت کے خاتمہ کو ابھی زیادہ وقت نہیں گزار تھا مغربی افکار ونظریات سماج پر اپنا تسلط جمارہے تھے۔ایسے میں سید امیر علی نے جہاں اسلامی تاریخ کو اپنے عہد کے تقاضوں کے مطابق سمجھانے کی کوشش کی وہیں دوسری طرف انہوں نے اسلام کو ایک عقلی مذہب کے طور پر پیش کیا۔ ان کے کاموں نے مسلم نوجوانوں کے لیے امید کا جذبہ پیدا کیا۔
کتابیں
’محمد کی زندگی اور تعلیمات کا ایک تنقیدی جائزہ‘ (1873)، ان کی پہلی کتاب تھی، جسے محض 24 سال کی عمر میں انگلستان میں لکھا تھا۔ دفاع اسلام کے مقصد سے لکھی گئی یہ کتاب انگلش میں ہے اور اب متعدد زبانوں میں دستیاب ہے۔ ’دی اسپرٹ آف اسلام‘ بھی ان کی مشہور تصنیف ہے جس نے مغربی افکار کو متاثر کیا ہے۔ ان کی تحریر کردہ کتابیں ’اسلام‘ نیز ’اتھکس آف اسلام‘ نے بھی شہرت پائی تھی۔ اسلام میں خواتین کے حقوق پر بھی انہوں نے ایک کتاب لکھی ہے۔
حالانکہ ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کے لئے ان کا ایک بڑا کارنامہ’ دی پرسنل لاز آف محمڈنس‘ اس لئے اہمیت کی حامل ہے کہ تینوں ملکوں کے قانون داں آج بھی اس کی جانب رجوع کرتے ہیں۔ برصغیر میں مسلم پرسنل لا کی تشریح کے لئے اس کتاب کی جانب رجوع لازمی ہے۔