آواز دی وائس : نئی دہلی
سعودی عرب کے ہیریٹیج کمیشن نے مدینہ ریجن کے المہد گورنریٹ میں آثارِ قدیمہ کے جامع سروے کے دوران ایک اہم تاریخی دریافت کا اعلان کیا ہے۔ اس دریافت میں ایک چٹانی کتبہ شامل ہے جس پر خلیفۂ دوم حضرت عمر بن الخطابؓ کا نام درج ہے۔ ماہرین آثارِ قدیمہ کے مطابق یہ دریافت جزیرۂ عرب میں ابتدائی اسلامی دور کی تاریخ کو سمجھنے میں غیرمعمولی اہمیت رکھتی ہے اور اسلامی تہذیب کے ابتدائی نقوش کا ایک قیمتی ثبوت فراہم کرتی ہے۔
ہیریٹیج کمیشن نے بتایا کہ المہد گورنریٹ میں جاری آثارِ قدیمہ کے سروے کے پہلے اور دوسرے مرحلے کے دوران مجموعی طور پر 1774 تاریخی آثار اور نوادرات کو دستاویزی شکل دی گئی۔ یہ دریافتیں اس خطے کی تہذیبی اور تاریخی گہرائی کو نمایاں کرتی ہیں جہاں مختلف ادوار میں انسانی آبادیوں نے اپنے نقوش چھوڑے۔
مراسل العربية في المدينة المنورة @AlFuraidi يزور موقع النقش النادر لثاني الخلفاء الراشدين عمر بن الخطاب.. وهيئة التراث: الموقع يضم مزارعا تاريخية وتنتشر فيه الكثير من الكتابات الإسلامية pic.twitter.com/mNQOtsWPNx
— العربية (@AlArabiya) June 12, 2026
173 نئے آثارِ قدیمہ کے مقامات کی نشاندہی
فیلڈ سروے ٹیموں نے اس مہم کے دوران 173 ایسے آثارِ قدیمہ کے مقامات دریافت کیے جن کا پہلے کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ مقامات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ مدینہ کے گردونواح کے علاقے صدیوں سے انسانی سرگرمیوں اور تجارتی و مذہبی راستوں کا حصہ رہے ہیں۔سروے میں سامنے آنے والے شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خطہ صرف اسلامی تاریخ ہی نہیں بلکہ اس سے پہلے کے مختلف ادوار کی تہذیبوں کا بھی مرکز رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دریافت ہونے والی تحریریں، نقوش اور تعمیراتی باقیات مختلف زمانوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔
حضرت عمرؓ کے نام والے کتبے کی اہمیت
دریافت شدہ آثار میں سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والا کتبہ وہ ہے جس پر حضرت عمر بن الخطابؓ کا نام کندہ ہے۔ ماہرین کے مطابق کتبے پر درج عبارت کا مفہوم یہ ہے۔"اللہ عمر بن الخطاب کا دنیا اور آخرت میں محافظ ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔"یہ عبارت نہ صرف ابتدائی اسلامی عقائد کی عکاسی کرتی ہے بلکہ اس دور میں مذہبی اظہار کے انداز کو بھی واضح کرتی ہے۔ حضرت عمرؓ اسلامی تاریخ کی ان عظیم شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے 634 سے 644 عیسوی تک خلافت کی ذمہ داری سنبھالی اور اسلامی ریاست کی توسیع میں کلیدی کردار ادا کیا۔

رسم الخط نے کتبے کی تاریخی حیثیت کو مضبوط کیا
قرآنی رسم الخط کے ماہر ڈاکٹر محمد الدوری نے اس کتبے کا تفصیلی مطالعہ کیا۔ ان کے مطابق کتبے میں استعمال ہونے والا حجازی یا شمالی عربی رسم الخط ابتدائی اسلامی دور سے مطابقت رکھتا ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ تحریر میں بعض ایسے خطاطی کے اسلوب پائے جاتے ہیں جو قدیم قرآنی مخطوطات میں بھی نظر آتے ہیں۔ مثال کے طور پر کسی لفظ کا ایک حصہ ایک سطر کے اختتام پر اور باقی حصہ اگلی سطر کے آغاز میں لکھنے کا انداز ابتدائی اسلامی مخطوطات کی ایک معروف خصوصیت تھا۔ یہ لسانی اور خطاطی شواہد کتبے کے قدیم ہونے کی تائید کرتے ہیں۔
قدیم عربی شاعری اور اسلامی تحریریں بھی دریافت
سروے کے دوران متعدد چٹانوں پر قدیم عربی شاعری کے نمونے بھی سامنے آئے ہیں۔ ان اشعار سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ علاقہ نہ صرف تجارتی اور مذہبی سرگرمیوں بلکہ ادبی اظہار کا بھی مرکز رہا ہے۔علاوہ ازیں سینکڑوں اسلامی تحریریں دریافت ہوئی ہیں جن میں دعائیں، مذہبی عبارات اور شخصی نام شامل ہیں۔ یہ تحریریں ابتدائی اسلامی معاشرے کی فکری اور سماجی زندگی پر روشنی ڈالتی ہیں۔

دریافت شدہ آثار کی تفصیل
ہیریٹیج کمیشن کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق مجموعی دریافتوں میں:
1259 چٹانی نقوش اور تصویری خاکے
461 اسلامی کتبے اور تحریریں
34 ثمودی رسم الخط کی تحریریں
11 پتھریلی تعمیرات
3 محلات اور آثارِ قدیمہ کے بڑے تعمیراتی مجموعے
2 قدیم قافلہ راستوں کے سنگِ میل
4 تاریخی کنویں
شامل ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تمام آثار مل کر جزیرۂ عرب کی ہزاروں سال پر محیط تاریخ کا ایک جامع منظر پیش کرتے ہیں۔
حضرت حنظلہؓ سے منسوب قدیم کتبہ بھی منظر عام پر
حالیہ عرصے میں سعودی ماہرین نے طائف کے قریب ایک اور اہم کتبہ دریافت کیا جسے حضرت حنظلہ بن ابی عامرؓ سے منسوب کیا جا رہا ہے۔ حضرت حنظلہؓ وہ جلیل القدر صحابی ہیں جنہیں اسلامی روایت میں "غسیل الملائکہ" یعنی فرشتوں کے غسل دیے ہوئے صحابی کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔
اس کتبے میں درج عبارت کا مفہوم ہے:
"اے ہمارے رب تیرے نام سے۔ میں حنظلہ بن عبد عمرو ہوں۔ میں اپنے آپ کو اللہ کی نیکی اور راستبازی کے سپرد کرتا ہوں۔ماہرین کے مطابق اس تحریر میں حضرت حنظلہؓ کا قبل از اسلام نام استعمال کیا گیا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کتبہ ان کے قبولِ اسلام سے پہلے کا ہو سکتا ہے۔
This is what the #saudiarabia Heritage Commission found in #medina: A rock inscribed with: "Allah is the guardian of Umar ibn al-Khattab in this world and the Hereafter; there is no god but Allah." ("There is No Deity Worthy Of Worship Except Allah.") pic.twitter.com/hye4YoHb0l
— MAJID M SIRWAL (@MAJID_M_SIRWAL) June 11, 2026
ابتدائی عرب مذہبی روایت کی جھلک
اس کتبے کی ایک اور دلچسپ خصوصیت یہ ہے کہ اس کا آغاز "باسمک ربنا" یعنی "اے ہمارے رب تیرے نام سے" کے الفاظ سے ہوتا ہے۔ یہ انداز بعد میں رائج ہونے والی اسلامی عبارت "بسم اللہ الرحمن الرحیم" سے مختلف ہے۔مورخین کے مطابق یہ طرزِ تحریر عرب معاشرے کے اس عبوری دور کی نمائندگی کرتا ہے جب اسلام کی آمد کے بعد مذہبی اصطلاحات اور تحریری روایات بتدریج تشکیل پا رہی تھیں۔
الجحفہ میں 1700 سے زائد نوادرات کی دریافت
اسی سلسلے میں گزشتہ دنوں میقات الجحفہ کے تاریخی مقام سے بھی 1700 سے زیادہ نوادرات دریافت کیے گئے۔ ان میں مٹی کے برتنوں کے ٹکڑے، شیشے کے آثار، پتھریلے اوزار، صدف اور ہاتھ سے تیار کی گئی مختلف اشیا شامل ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ الجحفہ صدیوں تک حجاج اور تاجروں کے لیے ایک اہم مرکز رہا۔ یہ مقام مکہ مکرمہ کے شمال مغرب میں تقریباً 187 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور اسلامی تاریخ میں ایک معروف میقات کے طور پر جانا جاتا ہے۔
وژن 2030 اور تاریخی ورثے کا تحفظ
سعودی ہیریٹیج کمیشن کے مطابق مملکت بھر میں آثارِ قدیمہ کی تلاش اور دستاویز بندی کا عمل مسلسل جاری ہے۔ ان منصوبوں کا مقصد سعودی عرب کے تاریخی ورثے کو محفوظ بنانا اور عالمی سطح پر متعارف کرانا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ آثارِ قدیمہ کے یہ منصوبے سعودی وژن 2030ے ثقافتی اہداف کا حصہ ہیں جن کے ذریعے مملکت اپنی تاریخی شناخت کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ علمی تحقیق اور ثقافتی سیاحت کو بھی فروغ دینا چاہتی ہے۔
A striking archaeological discovery announced by the Saudi Heritage Commission consists of a rare historical inscription that reads:
— The Holy Mosques (@theholymosques) June 11, 2026
"Allah is the guardian of Umar ibn al Khattab in this world & the Hereafter, & there is no god but Allah."
Muhammad ﷺ is the Messenger of Allah. pic.twitter.com/eaI6q9GWsf
اسلامی تاریخ کے نئے ابواب
ماہرین کے نزدیک حضرت عمر بن الخطابؓ اور حضرت حنظلہؓ سے منسوب کتبوں کی دریافت اسلامی تاریخ کے ان گوشوں کو روشن کرتی ہے جن کے بارے میں تحریری شواہد نسبتاً کم دستیاب تھے۔ یہ آثار نہ صرف ابتدائی اسلامی معاشرے کی فکری اور مذہبی زندگی کی جھلک پیش کرتے ہیں بلکہ اس بات کا بھی ثبوت ہیں کہ جزیرۂ عرب کی چٹانیں آج بھی تاریخ کے بے شمار راز اپنے اندر محفوظ کیے ہوئے ہیں۔