بیگوسرائے: بہار میں ایک نادر اور تاریخی مخطوطے کی دریافت ہوئی ہے۔ بیگو سرائے کے برونی بلاک کے برونی-3 علاقے میں واقع مولانا اسحاق اردو لائبریری میں سید اختر حسین کے ذاتی ذخیرے سے عربی زبان میں تحریر کردہ حدیث کی معروف کتاب "ترمذی شریف" کا ایک نایاب قلمی نسخہ ملا ہے۔جس کی عمر تقریباً 350 سال بتائی جا رہی ہے۔یہ قلمی نسخہ اسلامی علوم اور علمِ حدیث سے متعلق معروف کتاب "ترمذی شریف" کا ہاتھ سے لکھا ہوا نسخہ بتایا جا رہا ہے۔
وزارتِ ثقافت حکومتِ ہند کے تحت جاری گیان بھارتم مشن کے قومی مخطوطات سروے کے دوران دریافت ہوا ۔ یہ مخطوطہ سید اختر حسین کے خاندان کی جانب سے کئی نسلوں سے محفوظ رکھا گیا تھا۔ یہ نادر دستاویز تاریخی اور علمی اعتبار سے بے حد اہم ہے اور ثقافتی وراثت کے تحفظ کی ایک نمایاں مثال بھی پیش کرتی ہے۔ماہرین کے مطابق یہ مخطوطہ مذہبی اہمیت کے ساتھ ساتھ تاریخی علمی اور تہذیبی اعتبار سے بھی غیر معمولی حیثیت رکھتا ہے۔ اس دریافت کو ضلع کی ثقافتی اور علمی وراثت کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

تاریخی اور تعلیمی مخطوطات
ضلع مجسٹریٹ بیگوسرائے شری کانت شاستری نے نادر مخطوطے کا معائنہ کرتے ہوئے اس کی تاریخی اور تعلیمی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے نایاب قلمی نسخے ملک کی علمی روایت اور ثقافتی شناخت کے قیمتی اثاثے ہیں جن کی حفاظت اور دستاویز بندی وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے متعلقہ حکام اور سروے ٹیم کو ہدایت دی کہ مخطوطے کی مکمل فہرست سازی سائنسی طریقے سے حفاظت اور ڈیجیٹلائزیشن کا عمل جلد مکمل کیا جائے تاکہ یہ نادر سرمایہ محفوظ رہ سکے اور آئندہ نسلیں بھی اس سے استفادہ کر سکیں۔ضلع مجسٹریٹ نے عوام سے اپیل کی کہ اگر ان کے پاس قدیم مخطوطات قلمی نسخے گرنتھ یا دیگر تاریخی دستاویزات موجود ہوں تو وہ گیان بھارتم مشن کے ساتھ ان کی معلومات شیئر کریں تاکہ ان کے تحفظ اور اندراج کا عمل ممکن بنایا جا سکے۔
تقریباً 350 سال قدیم اس قلمی نسخے کی دریافت
جبکہ ضلع آرٹ اور ثقافت افسر شیام کمار ساہنی نے بتایا کہ بیگوسرائے ضلع میں مخطوطات کے سروے کا عمل مسلسل جاری ہے۔ ضلع بھر کی لائبریریوں ذاتی ذخائر اور روایتی اداروں کا معائنہ کرکے نادر مخطوطات کی نشاندہی اور ان کی دستاویز بندی کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ تقریباً 350 سال قدیم اس قلمی نسخے کی دریافت ضلع کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔ مخطوطے کو گیان بھارتم پورٹل پر درج کیا جا رہا ہے تاکہ اس کے سائنسی تحفظ اور مناسب دیکھ بھال کو یقینی بنایا جا سکے۔شیام کمار ساہنی کے مطابق اب تک ضلع میں مجموعی طور پر 738 مخطوطات کو گیان بھارتم پورٹل پر رجسٹر کیا جا چکا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ گیان بھارتم مشن کا مقصد ملک بھر میں موجود قدیم مخطوطات کی تلاش دستاویز بندی تحفظ اور ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے ہندوستان کی علمی اور تہذیبی وراثت کو محفوظ بنانا ہے۔ اس مہم میں بہار ریاست نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک کی صف اول کی ریاستوں میں جگہ بنائی ہے۔اس موقع پر سروے ٹیم کے ارکان لائبریری انتظامیہ اور دیگر متعلقہ افراد بھی موجود تھے۔ علمی حلقوں نے اس دریافت کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے بیگوسرائے کے تاریخی اور علمی سرمایے میں ایک اہم اضافہ قرار دیا ہے۔ شیام کمار ساہنی نے بتایا کہ اس سروے مہم میں نالندا مہاویہار نالندا کے تحت کام کرنے والے سیاحتی انتظام و محکمہ کے سابق سربراہ ڈاکٹر سشانت کمار رائے کا بھی اہم تعاون حاصل ہے۔ ان کی رہنمائی اور تعاون سے ضلع کے مختلف علاقوں میں مخطوطات کی تلاش شناخت اور فہرست سازی کا کام مؤثر انداز میں انجام دیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ہند کے گیان بھارتم مشن کے تحت ملک بھر میں مخطوطات کے سروے تحفظ اور ڈیجیٹلائزیشن کی ایک وسیع مہم چلائی جا رہی ہے۔
.jpg)
کیا ہے گیان بھارتم مشن
گیان بھارتم مشن وزارتِ ثقافت حکومتِ ہند کا ایک اہم قومی پروگرام ہے جس کا مقصد ملک بھر میں موجود نادر اور قدیم مخطوطات کی شناخت، دستاویز بندی، تحفظ، ڈیجیٹلائزیشن اور علمی تحقیق کو فروغ دینا ہے۔ اس مشن کے تحت مخطوطات کے سروے اور رجسٹریشن کے ساتھ جدید تکنیکی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، ادارہ جاتی شراکت داری، اشاعت اور صلاحیت سازی جیسے اقدامات بھی انجام دیے جا رہے ہیں۔
ملک میں مختلف اداروں اور ذخائر میں محفوظ 8 لاکھ سے زائد مخطوطات پہلے ہی ڈیجیٹل شکل میں دستیاب ہیں۔ یہ مخطوطات ڈی وی ڈی، ہارڈ ڈسک اور مائیکرو فلم سمیت مختلف فارمیٹس میں محفوظ کیے گئے ہیں۔ اب انہیں گیان بھارتم مشن کے معیاری طریقۂ کار کے مطابق ازسرنو ترتیب دیا جا رہا ہے تاکہ ان کا ریکارڈ مزید مؤثر اور قابلِ استعمال بنایا جا سکے۔ان میں سے 1.29 لاکھ سے زیادہ مخطوطات کو قومی ڈیجیٹل خزانہ (این ڈی آر) پر عام لوگوں اور محققین کے لیے دستیاب کر دیا گیا ہے، جس سے علمی اور تحقیقی سرگرمیوں کو نئی وسعت مل رہی ہے۔
مشن کے ایک اہم حصے کے طور پر 16 مارچ 2026 کو قومی مخطوطات سروے کا آغاز کیا گیا۔ اس سروے کا مقصد مختلف اداروں، نجی افراد، محققین، مٹھوں، مندروں، لائبریریوں اور دیگر ذخائر میں محفوظ مخطوطات کی شناخت، اندراج اور ان کا ایک جامع قومی ڈیٹا بیس تیار کرنا ہے۔اب تک اس مہم کے تحت 12.97 لاکھ سے زائد مخطوطات کا ڈیٹا جمع کیا جا چکا ہے۔ مالی سال 2025-26 میں 15 مارچ 2026 تک اس منصوبے پر مجموعی طور پر 13.29 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔گیان بھارتم مشن کو ملک کی علمی، ادبی اور تہذیبی وراثت کے تحفظ کی سمت میں ایک اہم اور دور رس اقدام تصور کیا جا رہا ہے، جو آنے والی نسلوں کے لیے نادر علمی سرمایہ محفوظ رکھنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔