ماضی سے حال تک - ہندوستانی اسپورٹس میں مسلمان ۔۔۔۔ کوئی نور - کوئی کوہ نور

Story by  ایم فریدی | Posted by  [email protected] | 19 d ago
    ماضی سے حال تک - ہندوستانی اسپورٹس میں مسلمان ۔۔۔۔   کوئی نور -   کوئی کوہ نور
ماضی سے حال تک - ہندوستانی اسپورٹس میں مسلمان ۔۔۔۔ کوئی نور - کوئی کوہ نور

 

منصور الدین فریدی ۔ نئی دہلی 

جب بات کرتے ہیں جنگ آزادی میں مسلمانوں کی قربانیوں کی تو مجاہدین آزادی کی ایک ایسی طویل فہرست سامنے آتی ہے جو کتابی شکل لےسکتی ہے ،آزادی اور تقسیم ملک کے بعد جو دور شروع ہوا وہ ملک و قوم کی مختلف میدانوں میں ترقی کا تھا۔ خواہ وہ صنعتی ہو یا سیاحتی،سائنسی ہو تیکنکی۔ان میں ایک کھیلوں کا میدان بھی شامل تھا۔ یہ میدان کچھ خاص ہوتا ہے،کچھ کردکھانے کا عزم ۔۔ کامیابی کا جنون ۔۔ انفرادی ہو یا اجتماعی  اتحاد کا پیغام دیتا ہے۔اس میدان میں ہر کسی کا خواب ملک کی نمائندگی یعنی اپنا پرچم ’ترنگا ‘ لہرانے کا ہوتا ہے۔ اس میدان میں اگر مسلمانوں کی نمائندگی اور کامیابی کی بات کریں تو ایک طویل تاریخ رقم ہوجائے گی۔ کیونکہ کھیلوں کے میدان میں کرکٹ ہو،فٹ بال،ہاکی، ٹینس یا پھر اتھلیٹکس ۔۔۔۔ ہر میدان میں مسلم ناموں اور چہروں نے ملک و قوم کا نام روشن کیا ہے ۔ترنگا لہرایا ہے۔

ایسے مسلم ستاروں کے ناموں کا ذکر کرنے سے قبل یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ تقسیم ملک کے بعد بھی اس سرزمین پر مسلمانوں کو صلاحیت اور اہلیت کی بنیاد پر آگے بڑھنے میں کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔اس کی سب سے بڑی مثال یہ رہی کہ ۔۔۔ آزادی کے چند ماہ بعد 1948 کے لندن اولمپکس کے لیے ہندوستانی فٹ بال ٹیم میں چار مسلمان کھلاڑی شامل تھے — جن کے نام ۔۔۔۔ تاج محمد، ایس ایم قیصر، ایس اے بشیر اور ایم احمد خان ہیں — یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ ملک کی بنیاد سیکولر اصولوں پر رکھی گئی تھی اور یہ اس کا عملی ثبوت تھا۔ تسیم ملک سے آج تک یہ خوبصورت برقرار ہے۔ جبکہ  مختلف مذہبوں سے تعلق رکھنے والے اور مختلف زبانیں بولنے والے کھلاڑی تنوع میں اتحاد کے مشہور نعرے کی بہترین مثال ہیں۔ ہندوستانی کھیلوں کی ایک قابل ذکر خصوصیت یہ ہے کہ یہ بنیادی طور پر سیکولر ہے۔

کھیلوں کی دنیا میں مسلمانوں کی نمائندگی ہمیشہ بحث کا موضوع رہی ہے اور توجہ کا مرکز بھی۔ بات کرکٹ کی ہو یا فٹ بال کی ہاکی کی ہو یا پھرٹینس کی۔ہر میدان میں آپ کو کوئی نہ کوئی مسلم سپر اسٹار مل جائے گا۔ان سب کی کامیابی اور زندگی ایک مثال ہیں،کیونکہ کوئی مالی طور پر انتہائی کمزور ہونے کے باوجود ابھرا ہے تو کوئی سماجی بندھن توڑ کر۔۔۔۔۔ یہ حقیقت ہے کہ اگر آپ میں اہلیت ہے،محنت کا جنون ہے اور بھروسہ ہے  ہے تو پھرآ پ کو روک پانا بہت مشکل ہے۔

awazurduہندوستانی کرکٹ کے ٹائیگر پٹودی


کرکٹ کے کوہ نور

کرکٹ میں تو ایسے ناموں کی ایک لمبی فہرست ہے جنہوں نے ہندوستانی کرکٹ میں شہرت پائی۔افتخار علی خان پٹودی،وزیرعلی،عابد علی،مشتاق علی ،منصورعلی خان پٹودی ،عباس علی بیگ،سلیم درانی ،سید مجتبی کرمانی،محمد نثار،غلام احمد، محمد اظہر الدین،ارشد ایوب ،عرفان پٹھان ،یوسف پٹھان ،مناف پٹیل،محمد کیف،محمد جعفر،ظہیر خان ،محمد شامی محمد سراج۔

اگر بات کریں پٹودی خاندان کی تو افتخار علی خان کو ہندوستان کا پہلا مسلمان کپتان ہونے کا اعزاز حاصل ہے ،جنہوں نے تین ٹیسٹ کھیلے اور ان میں قیادت کی۔جس کے بعد وہ انگلینڈ چلے گئے تھے اور پھر انگلینڈ کی بھی نمائندگی کی تھی۔اس سے دلچسپ بات یہ ہے کہ افتخار علی خان نے کرکٹ کے ساتھ انٹر نیشنل ہاکی میں بھی ہندوستان کی نمائندگی کی تھی۔ان کا انتقال 5جنوری1952میں ہوا تھا اس وقت ان کے بیٹے منصور علی خان کی عمر صرف 11سال تھی۔

اب منصور علی خان کی بات کریں تو انہیں ہندوستانی کرکٹ میں ‘‘جونئیر پٹودی ’’ کے نام سے جانا جاتا ہے۔جو کرکٹ کی دنیا کے سب سے کم عمر کپتان بنے تھے۔انہوں نے 46ٹسٹ میں ملک کی نمائندگی کی جن میں 2793رن بنائے تھے ۔سب سے بڑا اسکور203رنوں کا تھا جو 1961میں انگلینڈ کے خلاف بنایا تھا۔ایک کار حادثہ میں ان کی ایک آنکھ ضائع ہوگئی تھی جس کے سبب کرکٹ سے دوری ہوئی ۔مگر1974میں وہ پھر واپس آئے ،ایک بار پھر قیادت کی۔ہندوستان نے ان کی قیادت میں مزید9ٹسٹ کھیلے تھے۔

ایک نام تھا عباس علی بیگ کا ،جنہوں نے 1959میں انگلینڈ کے خلاف ٹسٹ کیر ئر کا آغاز کیا تھااور 112رن کی اننگ کھیلی تھی۔وہ انگلینڈ کے خلاف سینچری بنانے والے پہلے مسلمان کرکٹر تھے۔انہوں نے ملک کیلئے 10ٹسٹ کھیلے تھے۔ان کے ساتھ ایک چہرہ تھا غلام احمد کا۔جو کہ منصور علی خان پٹودی کے بعد دوسرے مسلمان کپتان تھے۔وہ ہندوستان کے پہلے ورلڈ کلاس آف اسپنر تھے۔22ٹسٹ میں 68وکٹ حاصل کی تھیں۔بہترین بالنگ 49رنوں پر7وکٹ تھی۔

 سید عابد علی کو ہندوستانی کرکٹ میں میڈیم پیس بالر کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔جنہوں نے1967میں آسٹریلیا کے خلاف اپنے کیرئر کا آغام کیا تھا۔29ٹسٹ میں 47وکٹ چٹخائے ۔ایکم بیٹسمین کی حیثیت سے 1018رن بنائے۔ہندوستان کی ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلی ٹسٹ فتح میں شامل تھے۔انہوں نے 5ون ڈے بھی کھیلے تھے۔

بات فرمائشی چھکے باز سلیم درانی کی کریں توکابل میں پیدا ہوئے درانی نے 1959میں آسٹریلیا کے خلاف ٹسٹ کیر ئر کا آغاز کیا تھا،انہوں نے29ٹسٹ کھیلے تھے۔جن میں 1202 رن بنائے تھے۔ان میں ویسٹ انڈیز کے خلاف پورٹ آف اسپین کی104رن کی اننگ بھی شامل ہے۔انہوں نے 75وکٹ بھی لی تھیں۔

اس کے بعد کرمانی کی شکل میں ہندوستان کو ایک اور سب سے کامیاب وکٹ کیپر ملا تھا۔انہوں نے 1975میں ٹسٹ کرکٹ کا آغاز کیا تھا۔88ٹسٹ کھیل کر انہوں نے 2759رن بنائے تھے۔جن میں دو سینچریاں شامل تھیں۔وکٹ کے پیچھے ٹسٹ میں 198شکار پکڑے تھے جبکہ ون ڈے کرکٹ میں بھی49میچوں میں 36شکار پکڑے اور373رن بنائے تھے۔

 اس کے بعد محمد اظہر الدین نے کرکٹ کے افق پرچمکنا شروع کیا تو اس وقت کرمانی کا زوال تھا۔اظہر نے تین ٹسٹ میں لگاتار تین سینچریاں بناکر ‘‘ونڈر بوائے’’ کا اعزاز حاصل کیا تھا۔اس کے بعد وہ ملک کیم سب سے کامیاب کپتان بنے ۔1984میں کولکتہ میں اظہرالدین نے پہلا ٹسٹ ایڈن گارڈن میں کھیلا اور110رن بنائے ،وہ پہلے ٹسٹ میں سینچری بنانے والے آٹھویں ہندوستانی تھے ۔دوسری سینچری105 مدراس ٹسٹ میں اور تیسری122 کانپور ٹسٹ میں بنائی تو دنیا میں ہلچل مچ گئی تھی۔اظہر الدین نے 9000ہزار سے زیادہ رن بنائے۔ان کا سب سے بڑا اسکور 199رن تھا ۔ اظہر کا کیرئر میچ فکسنگ کے چکر میں ہوا جس میں ان پر تاحیات پابندی عائد کی گئی

 اس کے بعد ایک نام ارشد ایوب کا آیا تھا۔ایک ذہین اسپنر۔مگر بد قسمتی سے اہم مواقع پر کرشمہ نہیں دکھا سکے ،اس لئے13ٹسٹ میں ہی کیرئر سمٹ گیا۔جن میں اس نے41 وکٹ لئے اور257رن بنائے تھے۔ساتھ ہی31ون ڈے میں31وکٹ لی تھیں۔اس کے بعد محمد کیف اور محمد جعفر نے ہندوستانی کرکٹ میں نمائندگی کی اور بہت زیادہ کامیاب نہ ہونے کے باوجود ایک چھاپ چھوڑی ہے۔اس کے ساتھ ظہیر خان ،عرفان پٹھان ،یوسف پٹھان ،مناف پٹیل اور محمد شامی  اور محمد سراج   کے نام ہیں۔ جبکہ  خان برادرس  یعنی  سرفراز خان اور مشیر خان بھی ہندوستانی کرکٹ کی دہلیز پر ہیں ۔ظہیر خان کو ہندوستان کا سب سے کامیاب فاسٹ بالر مانا جاتا ہے۔کپل دیو کے بعد ظہیر خان نے ہندوستانی کرکٹ میں رفتار اور سوئنگ کا کمال دکھایا ۔جس نے 92ٹسٹ میں311وکٹ اکھاڑے اور 200ون ڈے میں 282وکٹ لیے

awazurduہندوستان کے بابائے فٹ بال رحیم 


فٹ بال کے جادوگر

ہندوستان کیلئے اب فٹ بال ورلڈ کپ ایک خواب ہے،جیتنا نہیں بلکہ صرف حصہ لینا ۔مگر ماضی میں ایساوقت آیا تھا کہ ایک گروپ ٹیم کے ہٹ جانے کے سبب ہندوستان کو1950 فیفا ورلڈ کپ میں نمائندگی کا موقع مل رہا تھا۔لیکن ہندوستان نے بھی معذرت کرلی تھی جس کیلئے کیا وجہ بیان کی گئی تھی اس بارے میں اختلاف رائے ہے۔ مگر اولمپک گیمز اورایشین گیمز میں ہندوستانی فٹ بال کا نام رہا مگر یہ ماضی کی کہانی ہے۔بس فٹ بال کا ٹیلنٹ انفرادی طور پر سرخیوں میں رہا ۔نام آئے بڑے بڑے ۔ایک عرصے تک چھائے رہے مگر تنہا کون کہاں تک قومی ٹیم کو گھسیٹ سکتا ہے؟

بابائے فٹ بال سید عبدالرحیم کے ساتھ احمد خان،یوسف خان،بی پی صالح،سید نعیم الدین،نور محمد،رحمت،ٹی عبدالرحمان ،محمد حبیب ،محمد اکبر،لطیف الدین کے نام ہیں

ماضی کی بات کریں تو ہندوستانی فٹ بال میں تقسیم ملک سے قبل اور بعد میں بھی سب سے بڑا نام بابائے فٹ بال عبدالرحیم کا رہا ہے جنہیں حیدرآ باد ی فٹ بال کی روح بھی کہاجاتا ہے۔جنہوں نے جتنی کامیابی ایک فٹ بالر کی حیثیت سے حاصل کی اتنی ہی ایک کوچ کی حیثیت سے۔فٹ بال میں ہندوستان کی پانچویں اورچھٹی دہائی میں کامیابی کا سنہرا دور در اصل ان فٹ بالرز کے نام ہے جن کا آج تک کوئی متبادل نہیں آسکا ۔رحیم کو ہندوستانی فٹ بال میں ‘‘رحیم صاحب ’’ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔جن کی کوچنگ میں بعد ازاں ہندوستانی فٹبال ٹیم نے 1962ایشین گیمز میں گولڈ میڈل جیتا تھا۔

احمد خان کا نام بھی ہندوستانی فٹ بال میں ہمیشہ یاد کیا جائے گا ،جن کو 1950کی دہائی میں ایسٹ بنگال کی ٹیم کے مشہور پانچ پانڈومیں ایک نام احمد خان کا بھی تھا۔جن کو ہندوستانی فٹ بال میں پہلا ‘گیم میکر ’ مانا جاتا ہے۔انہوں نے ایسٹ بنگال کو لیگ،شیلڈ اور روورس کپ 1949میں دلایا تھا۔احمد خان خدا داد صلاحیتوں کے مالک تھے۔

دراصل تقسیم ملک سے قبل ہندوستانی فٹ بال کی طاقت کچھ اور تھی مگر بٹوارے نے اس کو بھی باٹ دیا تھا۔آزادی کے بعد حیدرآباد کے ساتھ کولکتہ سب سے بڑا فٹ بال مرکز رہا۔ملک بھر کے فٹ بالرز کولکتہ لیگ کے سبب اس شہر کا رخ کرتے تھے جہاں ملک کے تین بڑے کلب۔۔محمڈن اسپورٹنگ کلب ،ایسٹ بنگال اور موہن بگان ہیں۔رحیم صاحب کے ساتھ حیدرآبا د کا جو رشتہ جڑا،وہ سید نعیم الدین کے ساتھ محمد اکبر اور محمد حبیب کے ساتھ جاری رہا ۔اس دوران اور بھی حیدرآبادی فٹ بالر آئے ۔مگر نعیم الدین نے ایک کھلاڑی کے ساتھ ایک کوچ کی حیثیت سے بھی کامیابی حاصل کی،حبیب ۔اکبر د و بھائیوں کی جوڑی بھی بہت مشہور ہوئی۔ اس کے بعد ایک دور آیا جب محمد فرید،اسلم خان،محی الدین ،رحمت اللہ ،الیاس پاشا اور دیگر ناموں نے فٹ بال میں مسلمانوں کی نمائندگی کی۔

ہاکی کے رکھوالے

بات ہاکی کی کریں تو ایک ایسا کھیل جس میں کبھی ہندوستان کی طوطی بولتی تھی۔اب اس کا سایہ بھی نہیں ہے۔پانچویں دہائی میں اختر حسین کا نام تھا۔جنہوں نے 1948اولپکس میں گولڈ میڈل حاصل کیا تھا۔1980میں ہی ایک نام محمد شاہد کا تھا جن کو ہندوستانی ہاکی کا جادوگر کہتے تھے۔انہیں اسی سال ارجن ایوارڈ بھی ملا تھا۔ان کو 1981میں ہی پدم شری ایوارڈ بھی ملا تھا۔ظفر اقبال نے 1984اولمپک گیمز میں قیادت کی تھی،انہیں بھی 1983میں ارجن ایوارڈ دیا گیا تھا۔2012میں انہیں پدم شری ملا تھا۔1975میں ورلڈ کپ جیتنے والی ہندوستانی ٹیم میں ایک نام اسلم شیر خان کا تھا۔1998میں محمد ریاض اس ایوارڈ کے حقدار بنے تھے۔

سب سے زیادہ شہرت محمد شاہد کے حصے میں آئی تھی جن کا تعلق بنارس سے تھا ،1970 اور 80 کے عشرے کی ہاکیمیں محمد شاہد کے ہنر کا جادو سب کو یاد ہوگا۔ میدان میں ان کی چستی اور ‘جادوئی’ ڈربلنگ نے انہیں بہت کم عمر میں ہی سٹار بنا دیا تھا۔بطور فارورڈ کھیلنے والے شاہد 1980 کے ماسکو اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے والی ٹیم کے رکن تھے اور اس کے پانچ سال بعد انھیں قومی ٹیم کی کپتانی کرنے کا بھی اعزاز ملا۔ماسکو اولمپکس میں گولڈ جیتنے والی ٹیم میں سابق کپتان ظفر اقبال بھی شامل تھے۔ ‘شاہد ایک عظیم کھلاڑی تھے، وہ اتنے تیز رفتار تھے کہ حریف ٹیمیں انھیں مارک کرنے کیلئے دو کھلاڑیوں کی ڈیوٹی لگاتی تھیں، لیکن ان کے کھیل میں وہ جادو تھا کہ انھیں کوئی روک نہیں پاتا تھا۔ میں چاہ کر بھی ویسا نہیں کھیل سکتا تھا۔شاہد ریلویز کے ملازم تھے لیکن ہاکی کو خیر باد کہنے کے بعد اپنی باقی زندگی گمنامی میں ہی گزاری۔ وہ بڑے اسٹار بنے لیکن کبھی انکساری کا دامن نہیں چھوڑا۔ہاکی کے ماہرین مانتے تھے کہ شاہد خدا داد صلاحیت کے مالک تھے۔ ان کے کھیل کا انداز کچھ ایسا تھا کہ کسی کوچنگ اکیڈمی میں نہیں سکھایا جاسکتا۔ ان سے بال چھیننا مشکل تھا اور ان کے ‘ڈاج’ سے دفاعی کھلاڑی پریشان رہتے تھے۔

awazurduٹینس کی سنسنی ثانیہ مرزا


 ٹینس میں چمکتے ستارے

ہندوستانی ٹینس میں یوں تو اختر علی اور ذیشان علی کا نام تھا جو اپنے کھلاڑی دور کے بعد کوچنگ میں بھی آئے تھے مگر ہندوستانی ٹینس کو شباب دینے کا سہرا ثانیہ مرزا کے سر ہی جاتا ہے۔ اختر علی 1958سے 1964تک ڈیوس کپ میں ہندوستانی ٹیم کے ممبر رہے تھے،2008میں وہ کپتان رہے تھے۔اس کے بعد انہوں نے کوچنگ سنبھال لی تھی۔ایک کوچ کی حیثیت سے انہوں نے ملک کو رمیش کرشنن ،وجے امرت راج،آندد امرت راج اور لینڈر پیس جیسے کھلاڑی دئیے جبکہ ذیشان علی ان کے بیٹے ہیں۔انہیں ارجن ایوارڈ کے ساتھ درونا چاریہ ایوارڈ بھی ملا ہے جو کوچنگ کیلئے سب سے بڑا اعزاز ہے۔ان کے بعد ذیشان علی نے ہندوستانی ٹینس میں سنسنی پھیلائی تھی وہ1995تک ایک کھلاڑی کی حیثیت سے کھیلے تھے۔وہ 1987سے 1993تک ڈیوس کپ ٹیم کا حصہ رہے۔2014میں انہیں صدر جمہوریہ کے ہاتھوں پر وقار دھیان چند ایوارڈ ملا تھا۔

بات کریں ثانیہ مرزا کی تو انہیں ہندوستانی ٹینس کی سنسنی کہا گیا۔ وہ حقیقت میں ہندوستانی ٹینس کی سب سے بڑا ستارہ بنیں ۔کئی دہائیوں کے دوران انہوں نے کیریئر کے 43 بڑے ٹائٹل جیتے، ڈبیلو ٹی اے کی ڈبلزز رینکنگ میں نمبر ون بننے والی پہلی انڈین بن گئیں، یہ کارنامہ انہوں نے 2015 میں انجام دیا۔ ثانیہ مرزا چھ گرینڈ سلام ڈبلز ٹائٹل کے ساتھ انڈیا کی سب سے کامیاب ٹینس اسٹار ہیں۔ ثانیہ مرزا ایک فطری کھلاڑی بن کر ابھریں اور جونیئر ٹینس کھلاڑی کے طور پر کامیابی حاصل کی۔ جب وہ 15 سال کی تھیں تو 2003 ومبلڈن چیمپئن شپ کا لڑکیوں کا ڈبلز ٹائٹل جیتا۔ لیکن وہ 2005 میں اس وقت سپاٹ لائٹ میں آگئیں جب انہوں نے آسٹریلین اوپن کے تیسرے راؤنڈ میں جگہ بنائی، سنگلز میں میجر کے اس مرحلے تک پہنچنے والی پہلی انڈین خاتون نے سُپر اسٹارسرینا ولیمز کا سامنا کیا۔ بہرحال مخالفین کی تنقید اور چوٹوں کے باوجود برسوں تک ثانیہ کی کھیل سے لگن بے مثال رہی ہے۔ ان کی بہترین کارکردگی 2015 میں سامنے آئی جب انہوں نے اور مارٹینا ہنگس نے 16 ٹائٹل جیتے، جن میں تین گرینڈ سلام شامل ہیں۔ انہیں خواتین کی ڈبلز کی اب تک کی سب سے کامیاب جوڑی قرار دیا گیا ہے۔ لیکن جب بہت سے لوگ ثانیہ مرزا کے عروج کا جشن منا رہے تھے تو مسلم علما کے ایک گروپ نے ایک فتویٰاری کیا، جس میں ان کے ٹینس کے کپڑوں کو ’غیر شرعی، غیر اسلامی اور فحش‘ قرار دیا تھا۔ ثانیہ مراز کو 2004 میں انہیں ارجن اعزاز سے نوازاگیا ۔ثانیہ مرزا ہندوستان کی تاریخ میں سب سے کامیاب ٹینس سٹار بنی ان کی ذاتی زندگی میں اتھل پتھل ضرور آئی ہے لیکن اگر ان کے ٹینس کیریئر کی بات کریں تو نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا کے لیے ایک مثال رہا ہے۔

یہ فہرست مکمل نہیں، بیڈمنٹن سے کشتی تک اور کبڈی سے باکسنگ تک اور بھی نام ہیں جنہوں نے اپنی دھاک  قائم کی ہے، ان میں ایک نام  نکہت زرین کا بھی ہے جس نے ایک دقیانوسی ماحول کے باوجود تمام رکاوٹیں پار کیں،۔ عالمی چیمپئن بنی اور ملک کا نام روشن کیا-انہوں بیڈمنٹن کی بات کریں تو سید مودی کا نام ذہن میں آتا ہے- ایک خوبصورت کیریر کا انتہائی دردناک خاتمہ ہوا جب انہیں گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا-

آزادی کے بعد اگر نظر ڈالیں تو ہندوستانی اسپورٹس میں  مسلمانوں  کے کارناموں کی طویل داستان  ہے، بلا شبہ آبادی کے تناسب کے اعتبار سے مسلمانوں کی نمائندگی کم رہی ہے لیکن اس میں کہیں نہیں کہیں اس تعلیمی پستی کا بھی ہاتھ ہے جس کا ذکر سفر کمیٹی کی رپورٹ میں کیا گیا تھا، اب جوں جوں مسلمانوں کی تعلیمی حالت بہتر ہو رہی ہے اور  بیداری پیدا ہو رہی ہے، کھیلوں کے میدان میں بھی نیچے نام اور چہرے سامنے آرہے ہیں، جس کی ایک مثال کرکٹ میں سرفراز خان اور مشیر خان کا ظہور ہے- ایک مثبت سوچ کے ساتھ  مختلف میدانوں میں یہ سفر جاری ہے جو ملک کی ترقی کے ساتھ قوم کی سوچ اور فکر کو بھی روشن کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے