آزاد ہندوستان میں مسلم سیاستدان- سیکولر قدروں ، فرقہ وارانہ اتحاد اور قوم پرستی کے علمبردار

Story by  منصورالدین فریدی | Posted by  [email protected] | Date 04-08-2025
آزاد ہندوستان میں مسلم سیاستدان-  سیکولر قدروں ، فرقہ وارانہ اتحاد اور قوم پرستی کے علمبردار
آزاد ہندوستان میں مسلم سیاستدان- سیکولر قدروں ، فرقہ وارانہ اتحاد اور قوم پرستی کے علمبردار

 



آواز دی وائس/ نئی دہلی

ہندوستان کی سیاست میں اگر مسلم قیادت کا نام آتا ہے تو  سب سے بڑا نا م مولانا ابواکلام آزاد کا ہی ہے جو  ملک کی آزادی کے بعد  پہلے وزیر تعلیم رہے ۔آج بھی ملک ان کی خدمات کو سلام کرتا ہے  مگر ان کے بعد  نئے ہندوستان میں  نئی نسل کےمسلم لیڈران  جو نام اور چہرے سامنے آئے ان میں کسی کو  آزاد کا ہم پلہ نہیں کہا جاسکتا ہے ۔حالانکہ  بڑے بڑے نام رہے ،جنہوں نے ملک  میں اتحاد کا نعرہ بلند کیا، فرقہ وارانہ  ہم آہنگی کی حفاظت کی ، ساتھ ہی  سیکولر قدروں اور اقلیتوں کی آواز بنے۔جنہوں نے ملک کے مسلمانوں کے حقوق کیلئے آواز اٹھائی ۔سڑکوں سے ایوان تک جدوجہد کی ۔سیاسی اختلافات کے باوجود یہ مسلم رہنما کبھی کبھی ایک پلیٹ فارم پر بھی آجاتے ہیں۔الگ الگ سیاسی محاذوں پر  مسلمانوں کی آواز بنتے رہے ہیں۔

آئیے نظر ڈالتے ہیں  ایسے مسلم چہروں پر جنہوں نے آزاد ہندوستان میں کہیں نہ کہیں تاریخ رقم کی

  ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی پسماندہ کی آواز بنے 


  ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی 

 ملک کا سیاسی مرکز اتر پپردیش نے ایک سے بڑھ کر ایک مسلم سیاستداں دئیے ہیں۔وہ ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی ہوں،رفیع احمد قدوائی۔جنرل شہنواز خان ہوں یا پھر محسینہ قدوائی۔حافظ ابراہیم کا نام ہو یا مولانا حفظ الرحمان۔سلیم شیروانی ہوں یا اعظم خان ۔ راشید علوی ،سلیمان خورشید کےساتھ مختار عباس نقوی۔بہرحال یہ عام تاثر پایا جاتا ہے کہ بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے بانی کانشی رام وہ پہلے رہنما تھے جنہوں نے تمام مذاہب کی 85 فیصد نچلی ذاتوں کا ایک سیاسی محاذ 15 فیصد اعلیٰ ذاتوں کی بالادستی کے خلاف تشکیل دینے کی تجویز پیش کی۔ لیکن وقت کے دھندلکوں میں چھپی حقیقت یہ ہے کہ لکھنؤ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے اعلیٰ ذاتوں کے غلبے کے خلاف تمام محروم اور پسماندہ طبقات کی سیاسی یکجہتی کا تصور پیش کیا تھا ،ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی (1913–1974)، لکھنؤ کے ایک مشہور دل اور تپ دق کے ماہر، نہ صرف شہر کے سرکردہ معالجین میں سے تھے بلکہ ایک پرجوش سماجی مصلح اور سیاسی کارکن بھی تھے۔ طبی دنیا میں نمایاں کامیابی کے باوجود، ڈاکٹر فریدی مظلوموں، خصوصاً مسلمانوں اور آزادی کے بعد ملک میں پسماندہ طبقات کی خدمت کے جذبے سے سرشار تھے۔جب انہوں نے دیکھا کہ مسلمانوں کو سیاسی طور پر حاشیے پر دھکیلا جا رہا ہے، تو وہ ان کے حقوق کے لیے سیاسی تحریکوں سے وابستہ ہوئے ۔بعد ازاں خود بھی تحریکوں کی بنیاد رکھی۔ ابتدائی طور پر وہ مجلسِ مشاورت سے وابستہ رہے، بعد ازاں 1968 میں انہوں نے مسلم مجلس قائم کی، جو اقلیتوں کی تعلیم، روزگار، ثقافتی تحفظ اور سیاسی خودمختاری کے لیے سرگرم رہی۔۔ 1974 میں ایک سخت انتخابی مہم کے دوران انہیں دل کا دورہ پڑا اور وہ انتقال کر گئے

 محسنہ قدوائی نایک پروقار سیاستداں


 محسنہ قدوائی

ہندوستانی سیاست میں محسنہ قدوائی ایک پر وقار اور سلجھی ہوئی سیاست داں رہی ہیں ، سابق مرکزی وزیر اور انڈین نیشنل کانگریس پارٹی سے رکن پارلیمنٹ ہیں جن کا تعلق اتر پردیش کے بارہ بنکی ضلع سے ہے۔ انہوں نے وزرائے اعظم اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے تحت مرکزی وزیر کے طور پر کئی اہم محکموں پر کام کیا۔وہ اتر پردیش کے میرٹھ حلقے سے 6ویں لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئیں اور 7ویں اور 8ویں لوک سبھا میں اس سیٹ کو برقرار رکھا۔ انہوں نے 2004 اور 2016 کے درمیان چھتیس گڑھ سے راجیہ سبھا کی رکن کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ ایمرجنسی کے بعد جب ملک بھر میں کانگریس کا صفایا ہوا تھا تو محسینہ قدوائی نے کامیابی حاصل کی تھی ۔

 ڈاکٹر فاروق عبداللہ قومی دھارے کے سیاستداں


  ڈاکٹر فاروق عبدللہ

ہندوستان کے تاج یعنی کشمیر نے بھی قومی سیاست میں اہم کردار ادا کیا ہے،کشمیر کو قومی سیاست سے جوڑنا کوئی آسان کام نہیں ۔عبداللہ خاندان ،مفتی خاندان کے ساتھ کانگریس کے پرانے لیڈر سیف الدین سوز،مظفر حسین بیگ،شفیع قریشی،عبدالرشید شاہین اور کئی نام ہیں۔لیکن ریاست میں عبداللہ خاندان نے اس جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا ہے۔تقسیم ملک کے وقت شیخ عبداللہ سے یہ سلسلہ شروع ہوا ۔‘‘شیر کشمیر’’کا لقب پانے والے، عبد اللہ نیشنل کانفرنس کے بانی تھے۔ کشمیری عوام کی نبض سے واقف تھے اس لئے سیاست میں کامیاب رہے۔

ان کے جانشین ڈاکٹر فاروق عبدللہ رہے۔جو کشمیر سے دلی تک کی سیاست میں سرگرم رہے ہیں۔آخری بار وہ1996سے2002تک ریاست کے وزیر اعلی رہے جس کے بعد انہوں نے مرکز کا رخ کیا تھا اور کشمیر کی کمان اپنے بیٹے عمر عبدللہ کو سونپ دی تھی۔وہ پھر دو مرتبہ راجیہ سبھا کیلئے چنے گئے اور پھر2009میں استعفا دیکر انہوں نے لوک سبھا کی سیٹ جیتی جس کے سبب یو پی اے حکومت میں شامل ہوئے تھے۔2014میں وہ ہار گئے تھے مگر2017ضمنی انتخاب میں جیت گئے تھے۔اس کے بعد ۲۰۱۹ میں انہوں نے لوک سبھا انتخاب میں کامیابی حاصل کی

غلام نبی آزاد ایک سنجیدہ  سیاستداں


 غلام نبی آزاد کشمیر

   غلام نبی آزاد کشمیر کے سیاستدان ہیں ،ایک سینئر رہنما ،جنہیں کشمیر سے راجدھانی تک سیاست میں ایک اہم ستون مانا جاتا ہے ،ایک طویل مدت تک کانگریس سے وابستہ رہے ، جنہوں نے 2014 سے 2021 تک راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وہ 2005 سے 2008 تک سابق ریاست جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ بھی رہے۔منموہن سنگھ حکومت میں وہ وزیر پارلیمانی امور تھے، یہاں تک کہ 27 اکتوبر 2005 کو انہیں جموں و کشمیر کا وزیر اعلیٰ مقرر کر دیا گیا۔ 26 اگست 2022 کو انہوں نے انڈین نیشنل کانگریس سے استعفیٰ دے دیا -26 ستمبر 2022 کو آزاد نے اپنی نئی سیاسی جماعت ڈیموکریٹک پروگریسیو آزاد پارٹی (Democratic Progressive Azad Party) کے قیام کا اعلان کیا۔ وہ اس جماعت کے بانی اور سرپرست اعلیٰ ہیں۔انہوں نے 2002 کے جموں و کشمیر اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی قیادت کامیابی کے ساتھ کی تھی۔ 2022 میں حکومت ہند نے انہیں شعبۂ عوامی خدمات میں نمایاں کارکردگی پر بھارت کے تیسرے بڑے شہری اعزاز پدم بھوشن سے نوازا۔

سیاسی سفر کا آغاز انہوں نے 1973 میں بلاک کانگریس کمیٹی بھلیسہ کے سکریٹری کے طور پر کیا۔ صرف دو سال بعد وہ جموں و کشمیر پردیش یوتھ کانگریس کے صدر بنے۔ 1980 میں وہ آل انڈیا یوتھ کانگریس کے صدر مقرر کیے گئے۔اسی سال وہ مہاراشٹرا کے واشم لوک سبھا حلقہ سے ساتویں لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئے، اور 1982 میں مرکزی حکومت میں وزارت قانون، انصاف و کمپنی امور کے نائب وزیر بنے۔ 1984 میں وہ آٹھویں لوک سبھا کے لیے بھی منتخب ہوئے، اور 1990 سے 1996 تک وہ مہاراشٹرا کی نمائندگی کرتے ہوئے راجیہ سبھا کے رکن رہے۔پی وی نرسمہا راؤ کی حکومت میں انہیں پارلیمانی امور اور شہری ہوا بازی کی وزارتیں دی گئیں۔ بعد ازاں وہ 30 نومبر 1996 سے 29 نومبر 2002 اور پھر 30 نومبر 2002 سے 29 نومبر 2008 تک جموں و کشمیر سے راجیہ سبھا کے رکن منتخب ہوئے۔ تاہم 29 اپریل 2006 کو انہوں نے راجیہ سبھا کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا کیونکہ 2 نومبر 2005 کو وہ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ بن گئے تھے۔

جموں و کشمیر میں انڈین نیشنل کانگریس کی اتحادی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (PDP) نے آزاد حکومت سے حمایت واپس لے لی، اور اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے، غلام نبی آزاد نے 7 جولائی 2008 کو استعفیٰ دے دیا اور 11 جولائی 2008 کو عہدے سے سبکدوش ہوئے۔یونائیٹڈ پروگریسیو الائنس کی دوسری حکومت میں، آزاد نے وزیر صحت کے طور پر حلف لیا۔ وہ چوتھی اور پانچویں مدت کے لیے بھی راجیہ سبھا میں جموں و کشمیر سے منتخب ہوئے۔ 

 نجمہ ہپت اللہ


 نجمہ ہپت اللہ 

نجمہ ہپت اللہ کا تعلق کانگریس سے تھا جنہوں نے بعد ازاں بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی تھی ۔وہ مہاراشٹر ،مدھیہ پردیش اور راجستھان سے 1980، 1986، 1992، 1998 میں راجیہ سبھا کے لیےکانگریس کی رکن رہی تھیں ۔ سولہ سال تک راجیہ سبھا کی ڈپٹی چیئرمین رہیں ۔انہوں نے 2004 میں بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی ۔بعد میں وہ 2007 میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی نائب صدر نامزد ہوئیں، نریندر مودی کی پہلی حکومت میں بی جے پی کی رکن کے طور پر 2014-2016 تک وزیر رہیں۔ 2016 سے 2021 تک اس نے منی پور کی 16ویں گورنر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے اگست 2007 میں ہونے والے 13ویں نائب صدر کے انتخاب میں حصہ لیا لیکن حامد انصاری سے 233 ووٹوں سے ہار گئیں۔وہ 2017 سے 2023 تک جامعہ ملیہ اسلامیہ کی چانسلر رہیں۔انہیں ایک باوزن سیاستداں کے طور پر جانا جاتا رہا ہے ۔

غنی خان چودھری


 غنی خان چودھری

بنگا ل کا نام آتا ہے تو مرکزی سیاست میں غنی خان چودھری کا نام بھی زبان پر خود بخود آجاتا ہے ، وہ پہلی بار 1957 میں مغربی بنگال کی ریاستی قانون ساز اسمبلی کے ایم ایل اے کے طور پر منتخب ہوئے تھے، انہوں نے 1962، 1967، 1971 اور 1972 میں سیٹ جیتی تھی۔ انہوں نے 1972 سے 1977 تک مغربی بنگال کی حکومت میں ریاستی کابینہ کے وزیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ 1984، 1989، 1991، 1996، 1998، 1999 اور 2004 میں دوبارہ جیت کر آٹھ بار حلقہ انتخاب کیا۔ 1982 سے 1984 تک، چودھری نے اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کی حکومتوں میں وزیر ریلوے کے طور پر خدمات انجام دیں۔انہوں نے کولکتہ شہر میں کولکتہ میٹرو ریلوے اور سرکلر ریلوے کو متعارف کرانے اور مالدہ ٹاؤن ریلوے اسٹیشن کو خطے کے اہم ترین اسٹیشنوں میں سے ایک کے طور پر قائم کرنے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ان کی شراکت کے لئے، چودھری کو اکثر جدید مالدہ کے معمار کے طور پر جانا جاتا ہے۔

 ٰعبدالغفور


 عبدالغفور

اگر بات کریں بہار میں مسلم سیاستدانوں کی تو  اس سرزمین پر بھی ایک لمبی فہرست تیار ہوجائے گی ،غلام سرور ہوں یا عبدالغفور یا سید شہاب الدین ۔ یا پھر تسلیم الدین ،شکیل احمد  اور  سید شہنواز حسین۔ان کے ساتھ  اسرار الحق   اور محمد علی اشرف فاطمی،سب کی ریاست سے مرکز تک اہمیت رہی۔عبدالغفور  بہار کے 13ویں وزیر اعلیٰ کے طور پر خدمات انجام دیں۔ 2 جولائی 1973 سے 11 اپریل 1975 تک اور راجیو گاندھی کی حکومت میں کابینہ کے وزیر رہے۔ وہ بالترتیب سیوان اور گوپال گنج پارلیمانی حلقوں سے کانگریس اور سمتا پارٹی (ادے منڈل موجودہ صدر ہیں) کے ٹکٹ پر سال 1984 اور 1996 میں دو بار لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ وہ بہار قانون ساز کونسل کے سابق چیئرمین بھی رہے۔ وہ پہلی بار 1952 میں ریاستی مقننہ کے رکن بنے، ان کا انتقال 10 جولائی 2004 کو پٹنہ میں ہوا۔انہوں نے آزادی کی جدوجہد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا  تھااور جیل کی صعوبتیں بھی برداشت کی تھیں

جعفر شریف


 جعفر شریف

کرناٹک میں جعفر شریف ایک سینئر کانگریس لیڈر تھے ،کرناٹک سے مرکز میں ایک مضبوط آواز رہے ،جعفر شریف نے کانگریس میں پھوٹ کے بعد اندرا گاندھی کا ساتھ دیا۔جعفر شریف نے بطور وزیرِ ریلوےملک کے لیے بے شمار کارنامے سرانجام دیے، ان کی خدمات بے حد شاندار، قابلِ تحسین اور یادگار ہیں۔ پورے ملک میں ریلوے لائنوں کو سنگل گیج، یعنی "یونی گیج" میں تبدیل کرنا ان کی وہ پہچان بنی جس نے انہیں قومی سطح پر مقبول بنا دیا۔جب مرکزی حکومت مالی بحران کا شکار تھی، تو انہوں نے ریلوے کے محکمے میں موجود سکریپ لوہے کو فروخت کر کے 2000 کروڑ روپے جمع کیے، جنہیں پورے ملک میں گیج کی بدیلی کے لیے استعمال کیا۔ ملک آج بھی انہیں انڈین ریلویز کی ترقی کے لیے یاد کرتا ہے

اویسی خاندانی وراثت کے نگہبان 


 اسدالدین اویسی

اسدالدین اویسی محتاج تعارف نہیں ، تلنگانا میں اویسی خاندان کی سیاسی وراثت کے نگہبان آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے تیسرے قومی صدر ہیں، اس سے پہلے ان کے والد اور دادا تھے۔ اسد الدین نے اپنا سیاسی آغاز 1994 میں آندھرا پردیش قانون ساز اسمبلی کے لیے چارمینار حلقہ سے انتخاب لڑ ا تھا جہاں ان کی پارٹی 1967 سے جیت رہی ہے۔اس کے بعد 2004 میں اویسی کے والد سلطان صلاح الدین اویسی جو کہ لوک سبھا میں حیدرآباد کے حلقے کی نمائندگی کر رہے تھے، نے خرابی صحت کی وجہ سے مزید الیکشن لڑنے سے انکار کر دیا۔جس کے بعد اویسی نے لوک سبھا قدم رکھا اور اب تک پانچ بار لوک سبھا کے منتخب ہو چکے ہیں ۔ وہ نہ صرف ہندوستانی مسلمانوں کی آواز ہیں بلکہ دو قومی نظریئے کے کٹر مخالف ہونے کے سبب پاکستان کے زبردست مخالف ہیں ،حالیہ آپریشن سیندور کے بعد پاکستان کے خلاف سفارتی مہم میں اویسی ہندوستان کی مضبوھ اور طاقتور آواز رہے۔اویسی کو ہندوستانی پارلیمنٹ کے 15 ویں اجلاس میں ان کی کارکردگی کے لئے اکتوبر 2013 میں سنسد رتن ایوارڈ (جیم آف پارلیمنٹرین) سے نوازا گیا تھا۔اپنی قابلیت اور مہذبانہ انداز کے سبب  حلیف اور حریف سب کی نظر میں احترام رکھتے ہیں ۔

  سیدہ انورہ تیمور


  سیدہ انورہ تیمور

بات کریں آسام کی سیاست کی ،تو یقینا ریاست میں کئی مسلم چہرے ہیں ،جن میں ایک بدر الدین اجمل کا بھی ہے ،جنہوں نے آسام یونائٹیڈ ڈیمو کریٹک فرنٹ کےساتھ سیاست کا آغاز کیا تھا ۔جو اب آل انڈیا آسام یونائٹیڈ ڈیمو کریٹک فرنٹ ہے۔مگر ہم بات کریں گے سیدہ انورہ تیمورکی۔ ایک مضبوط خاتون ، جنہوں نے آسام کی سیاست میں اپنا لوہا منوایا ، وہ آسام میں انڈین نیشنل کانگریس کی رہنما اور آل سی سی اے آئی کمیٹی آف انڈیا کی رکن تھیں۔ وہ 1972، 1978، 1983 اور 1991 میں آسام اسمبلی کی منتخب رکن (ایم ایل اے) تھیں۔یہی نہیں ریاست کی تاریخ میں آسام کی واحد خاتون اور مسلم وزیر اعلیٰ ہیں۔وہ 6 دسمبر 1980 سے 30 جون 1981 تک آسام کی وزیر اعلیٰ رہیں۔ ہندوستانی تاریخ میں بھی سیدہ انورہ تیمور کسی بھی ریاست کی پہلی مسلم خاتون وزیر اعلیٰ تھیں۔ وزیر اعلیٰ کے طور پر ان کی مدت اس وقت ختم ہوئی جب ریاست کو چھ ماہ کے لیے صدر راج کے تحت رکھا گیا۔ 1988 میں انہیں ہندوستانی پارلیمنٹ (راجیہ سبھا) کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ان کا انتقال 28 ستمبر 2020 کو آسٹریلیا میں ہوا۔