آواز دی وائس : نئی دہلی
یوں تو آپ ایسی خبریں سنتے ہیں کہ اترا کھنڈ میں مسلمانوں کو مذہبی نعروں اور قابل اعتراض کلمات کے ساتھ نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ مگر ایس خبریں جلد سامنے نہیں آتی ہیں جن میں اترا کھنڈ میں ہندو مسلم اتحاد ،محبت اور بھائی چارہ ایک مثال ہے ۔جہاں کی پہاڑیوں میں اذان کی صدا گونجتی ہے ۔ شادی ہو یا کوئی اور تہوار مقامی مسلمان اور ہندو ایک ساتھ مناتے ہیں ۔
ایسی ہی تصویر سوشل میڈیا پر پیش کرتی ہیں ایک پہاڑی خاتون ممتا خاتون ۔۔ جو یو ٹیوب سے فیس بک تک ہزاروں بلکہ لاکھوں کی پسند ہیں کیونکہ وہ دکھاتی ہیں اترا کھنڈ کی سرزمین کا وہ پیار جو اخبارات اور ٹی وی کی خبروں میں پیش نہیں کیا جاتا ہے ۔ یہ خاتون سوشل میڈیا پر ’’ مسٹر اینڈ مسز راوت ‘‘ کے نام سے جانی پہچانی جاتی ہیں۔
ایک ایسے ہی ویڈیو میں ممتا راوت کہتی ہیں کہ ۔۔۔ دیوی بھومی اتراکھنڈ سے آپ سب کا دل سے استقبال کرتی ہوں ۔آج ہم راما گاؤں پہنچے ہیں۔ دیکھیں، یہاں گاؤں کے بالکل بیچ میں ایک خوبصورت مسجد ہے۔ مولوی صاحب بھی یہاں موجود ہیں اور لوگ عبادت کے لیے آتے جاتے ہیں۔ کچھ لوگ روزگار گارنٹی کے کام میں مصروف ہیں۔
وہ مزید کہتی ہیں کہ راما گاؤں کا نام سنتے ہی لوگ کہتے ہیں کہ یہ مسلمانوں کا گاؤں ہے۔ یہ بہت پرانا گاؤں ہے اور یہاں کے لوگ کئی سال سے آباد ہیں۔ سب لوگ مل جل کر رہتے ہیں۔ یہاں لڑائی جھگڑا نہیں ہوتا، سب بھائی چارے اور محبت کے ساتھ رہتے ہیں۔
وہ سوشل میڈیا کے مزاج کو سمجھتی ہیں اس لیے کہتی ہیں کہ ۔۔۔۔۔ دوستو، براہ کرم غلط کمنٹس نہ کریں۔ یہ گاؤں بہت خوبصورت ہے اور یہاں کے لوگ دل کے صاف اور ملنسار ہیں۔ شادی بیاہ، خوشی اور غم کی ہر تقریب میں یہ لوگ ہمارے ساتھ شامل ہوتے ہیں۔
ایک ویڈیو میں ممتا راوت نے گاوں میں مولوی محمد ارشاد سے بھی بات کی، جو بہار سے آئے ہیں۔ ان کے چار بچے ہیں اور وہ یہاں رہ کر بہت خوش ہیں۔ مقامی مسلمان پانچ وقت کی نماز ادا کرتے ہیں اور مسجد آباد ہے ، امام صاحب کہتے ہیں کہ یہاں کے لوگ سیدھے سادے اور محبت بھرے ہیں۔ گاؤں میں کھیت زیادہ نہیں ہیں، لیکن سب اپنے کام اور زندگی میں خوش ہیں۔
ایک ویڈیو میں وہ کہتی ہیں کہ ۔۔۔ شادی کی تقریب میں ہوں، آپ کو یہاں کے کھانے کا منظر دکھاتی ہوں۔ بالکل ویسے ہی کھانا ہو رہا ہے جیسے ہم پنگت میں بیٹھ کر کھاتے ہیں۔ سبزی، روٹی اور دیگر کھانے سب لوگ ایک ساتھ کھا رہے ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ یہاں ہندو اور مسلم سب لوگ شادی بیاہ اور تقریبات میں ایک ساتھ شامل ہوتے ہیں۔ یہاں کسی کے ساتھ بھید بھاؤ نہیں کیا جاتا۔ باہر کے لوگ شاید فرق کرتے ہوں، لیکن یہاں آ کر سب کو بہت اچھا لگتا ہے۔ مسجد میں 5 وقت کی نماز ہوتی ہے اور جو لوگ رہتے ہیں وہ آ کر نماز پڑھتے ہیں۔
ممتا راوت کہتی ہیں کہ آخر میں میں کہنا چاہوں گی کہ برا انسان ہوتا ہے ،کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ نہ ہندو برا ہوتا ہے اور نہ مسلمان۔ برائی انسان کی سوچ میں ہوتی ہے۔ سب کا خون ایک ہے اور سب انسان ہیں۔ انسانیت سب سے بڑی چیز ہے۔ فرقہ واریت اور نفرت کے بجائے ہمیں محبت اور بھائی چارہ اپنانا چاہیے۔یہ راما گاؤں کی کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ ایک ساتھ رہنا، ایک دوسرے کے ساتھ عزت اور محبت کرنا سب سے اہم ہے۔