منصور الدین فریدی :آواز دی وائس
خانقاہ منیر شریف برصغیر کی قدیم روحانی روایت کا ایک نمایاں مرکز ہے جہاں تاریخ۔ تصوف۔ علم اور سماجی خدمت ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔ یہ صرف بزرگوں کی یادگار نہیں بلکہ ایسا ادارہ ہے جو آج بھی معاشرے کی عملی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہاں دینی تعلیم کے ساتھ جدید تعلیم۔ تحقیق۔ کتب خانہ۔ طبی خدمات۔ غریب بچیوں کی شادی اور طلبہ کی رہنمائی جیسے کام اس کی ہمہ جہت خدمات کی عکاسی کرتے ہیں۔
موجودہ دور میں جب نوجوان فکری انتشار۔ تعلیمی مسابقت اور سماجی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں تو خانقاہ منیر شریف جیسی درس گاہیں اعتدال۔ اخلاق۔ خدمت خلق اور علم کے امتزاج کا نمونہ پیش کرتی ہیں۔ یہ خانقاہ اس بات کا پیغام دیتی ہے کہ روحانیت صرف عبادت تک محدود نہیں بلکہ تعلیم۔ تحقیق۔ سماجی بہبود۔ بین المذاہب احترام۔ قومی خدمت اور کردار سازی کے ذریعے ایک بہتر معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ یہی پہلو آج کے دور میں اس کی سب سے بڑی اہمیت ہے۔
خانقاہ منیرشریف ۔ ایک تاریخ ۔ ایک وراثت
خانقاہ منیر شریف ۔۔۔ ایک ایسی سرزمین کا تعارف ہے جسے صوفیا اکرام اور بزرگان دین کا مرکز کہا گیا ہے۔ دراصل منیر شریف ایک چھوٹا سا قصبہ ہے جو ریاست بہار میں پٹنہ کے قریب ہے ۔جس کو مختلف اولیا صوفیا کا مسکن ہونے کا شرف حاصل ہے۔ جس کی شہرت سن کر بہت سے صوفیا، مشائخ، علما اور بادشاہ آئے اور اسی کی خاک میں آسودہ ہوئے۔روایت ہے کہ اسی خطے سے اسلام کی روشنی نے پہلی بار بہار کی سرزمین کو منور کیا ۔ بہار کی سر زمین پر سب سے پہلے جس مسلمان کے قدم پڑے ۔وہ مخدوم عارف مومنؒ تھے۔ 576 ھ میں مخدوم عارف مومن بغرض سیاحت و تجارت بہار تشریف لائے اور قصبہ ’’منیر‘‘ میں قیام پزیر ہوئے۔منیر شریف صدیوں سے علم و عرفان اور روحانیت کا مرکز رہا ہے۔ یہاں واقع دو عظیم الشان مزارات جنہیں عوام میں "بڑی درگاہ" اور "چھوٹی درگاہ" کے نام سے جانا جاتا ہے، عقیدت مندوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔صوفی بزرگ مخدوم یحییٰ منیری کا مزار "بڑی درگاہ" کے نام سے معروف ہے۔ دوسرا مزار مخدوم شاہ دولت کا ہے جسے عام طور پر "چھوٹی درگاہ" کہا جاتا ہے۔منیر شریف صرف ایک تاریخی مقام نہیں بلکہ روحانیت، علم، محبت اور انسانیت کے ان روشن نقوش کا امین ہے جنہوں نے صدیوں سے لاکھوں دلوں کو اپنی جانب متوجہ کر رکھا ہے۔

"خانقاہ منیر" سماجی اور تعلیمی سرگرمیوں
یہ خانقاہ صرف روحانیت کا نہیں بلکہ سماجی اور تعلیمی سرگرمیوں اور سہولیات کا بھی مرکز ہے جہاں اگرعقیدت مند وں کو روحانی سکون ملتا ہے تو سماجی مسائل سے دوچار افراد کو ان کے مسائل سے نجات ملتی ہے۔ تعلیمی راہ پر کامیابی حاصل کرنے کے خواہاں اس خانقاہ کی لائبریری سے فیضیاب ہوتے ہیں۔ کسی کی لڑکی کی شادی کا مسئلہ حل ہوتا ہے تو کسی کا تعلیمی کا۔ سید شاہ طارق عنایت اللہ فردوسی منیری ،سجادہ نشین و متولی و دیوان درگاہ و خانقاہ منیر شریف کا کہنا ہے کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ اس خانقاہ میں جو بھی آئے اپنی پریشانیوں کا دور کرکے واپس جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ خانقاہ کی جانب سے جہاں فری میڈیکل کیمپ لگائے جاتے ہیں وہیں ضرورت مند لڑکیوں کی شادی کرائی جاتی ہیں ۔قابل غور بات یہ ہے کہ اس خانقاہ میں ایک ایسی لائبریری ہے جس میں سول سروسیزکے امتحان کی تیاری کرنے والے امیدوار بھی آیا کرتے ہیں اور بیرونی طالبا کے لیے رہنے اور کھانے کا انتظام کیا جاتا ہے۔ کیونکہ خانقاہ کی لائبریری میں نایاب کتابیں ہیں جن میں کچھ قلمی نسخے بھی ہیں ۔
سید شاہ طارق عنایت اللہ فردوسی منیری کے مطابق ۔۔۔۔
خانقاہ منیر شریف، حضرت سیدنا امام محمد ابن ابو بکر ہاشمی کی دین ہے ،جن کے دستِ مبارک سے منیر شریف کی سر زمین پر خانقا ہ کی بنیاد رکھی گئی، اسے برِّ صغیر کی سب سے پرانی خانقاہ ہونے کا شرف حاصل ہے۔ ان کی ولادتِ تقریباً 450ھ میں ہوئی۔ مدرسہ نظامیہ بغداد میں داخلہ لیا اور وہیں تعلیم کی تکمیل بھی کی۔ آپ نے اس وقت کے رائج علوم میں ایسی دست رس حاصل کی کہ آپ کو "تاج الفقہا" کے لقب سے سرفراز کیا گیا، جو بعد میں کثرتِ استعمال سے "تاج فقیہ" ہو گیا۔


ہندوستان آمد
چھٹی صدی ہجری میں وہ اپنے وطن عزیز بیت المقدس سے اپنے اہل و عیال کے ساتھ ہجرت کر کے منیر شریف تشریف لائے تھے۔ ایک لمبے عرصے تک یہاں قیام فرمانے کے بعد اپنے کنبہ کو یہیں چھوڑ کے واپس چلے گئے۔اسی وقت امام تاج فقیہ قدس سرہ نے ایک درس گاہ کی بھی بنیاد رکھی، جس کی نئی شکل "جامعہ امام تاج الفقہا "ہے۔ ان کے ذخیرۂ کتب کو وسعت دے کر "مخدوم شاہ دولت منیری لائبریری" کا نام دے دیا گیا۔امام تاج فقیہ قدس سرہ نے جو تصنیف و تالیف اور تحقیق و تدقیق کا کام کیا اسی کو جاری رکھنے والے ادارے کو "مخدوم یحییٰ منیری ریسرچ سینٹر" سے موسوم کر دیا گیا۔
خانقاہ پر ایک نظر
سجادہ نشیں حضرت سید شاہ طارق عنایت اللہ فردوسی کے مطابق یہ ایک تاریخی اور روحانی کمپلکس ہے ۔خانقاہِ منیر شریف کے صدر دروازے پر حضرت سیدنا مخدوم شاہ دولت منیری کا حجرہ ہے، جس میں آپ عبادت کیا کرتے تھے۔ خانقاہ کے احاطےمیں تقریباً چار سو برس پرانی ایک حویلی ہے ، جو سجادگان اور ان کے خاندان کے لوگوں کے رہنے کی جگہ ہے، جس کے اندر مٹی کا بنا دو منزلہ مکان اور کچھ کمرے آج بھی موجود ہیں۔یہ عمارت بارہ دری کی صورت میں تھی، جس کے گر جانے کے بعد ایک بڑی عمارت کی تعمیر کرائی، جو تین منزل پر مشتمل ہے۔ اس کے آدھے حصے میں مردوں کے لیے اور آدھے حصے میں عورتوں کے رہنے کے لیے بہترین انتظام کیا گیا ہے۔یہ عمارت سماع خانے کے اوپر تعمیر کرائی گئی ہے۔ یہ ایک بہت بڑا ہال ہے، جس میں تقریباً ایک ہزار لوگوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ اس کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے بیچ میں ایک بھی پِلَر نہیں ہے۔ یہ بھی موجودہ سجادہ نشیں حضرت سید شاہ طارق عنایت اللہ فردوسی کے دور میں ہی تعمیر کرایا گیا ہے۔


مخدوم یحییٰ منیری ریسرچ سینٹر
سجادہ نشیں حضرت سید شاہ طارق عنایت اللہ فردوسی کا کہنا ہے کہ حضرت سیدنا امام محمد ابن ابو بکر ہاشمی نے جو تصنیف و تالیف اور تحقیق و تدقیق کا کام کیا اسی کو جاری رکھنے والے ادارے کو "مخدوم یحییٰ منیری ریسرچ سینٹر" سے موسوم کر دیا گیا۔اس ادارے میں تحقیق و ریسرچ کا کام ہوتا رہتا ہے۔ اس ادارے سے ایک سال کے قلیل عرصے میں اب تک کئی اہم کتابوں پر کام ہو چکا ہے۔ جن میں تذکرہ مخدومان منیر(اردو ،ہندی)، نسب نامہ مخدومان منیر(عربی و فارسی سے اردو و ہندی میں ترجمہ) ، شجرۂ مخدومان منیر(اردو ، ہندی)، تبرکات مخدومان منیر(اردو، ہندی)، درود مخدومان منیر(اردو، ہندی) اور حکایات مخدومان منیر(اردو، ہندی) وغیرہ خاص طور سے قابلِ ذکر ہیں۔
مخدوم شاہ دولت منیری لائبریری
اس کے ساتھ ہی بانی خانقاہ کے ذخیرۂ کتب کو وسعت دے کر "مخدوم شاہ دولت منیری لائبریری" کا نام دے دیا گیا۔اس لائبریری میں قدیم و جدید بے شمار اہم کتابوں کا ذخیرہ موجود ہے۔ ان میں مخطوطات بھی خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔ ملک محمد جائسی کی پدماوت، ملا محمد داؤد کی چندین، مخدوم شرف الدین یحییٰ منیری کے مکتوبات و ملفوظات اور مخدوم ہدایت اللہ منیری کی ہدایت القواعد ایسی کتابیں ہیں جو خانقاہ منیر شریف کی لائبریری میں موجود ہیں۔

مخدوم جلیل منیری پبلشنگ اکیڈمی
یہ خانقاہ منیر شریف کا اشاعتی ادارہ ہے۔ اس کے زیر اہتمام خانقاہ کے ریسرچ سیٹر سے تیار ہوتے والی کتابیں شائع ہوتی ہیں۔ اس ادارے سے تذکرہ مخدومان منیر (ہندی) شائع ہو کر عوام و خواص کے مطالعے کی دہلیز پر پہنچ چکی ہے۔ مزید کتابیں اشاعتی مراحل میں ہیں۔