منصور الدین فریدی
ہندستان خصوصاً صوبۂ بہار کی دینی اور روحانی تاریخ میں خانقاہ عمادیہ قلندریہ منگل تلاب پٹنہ کو ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ یہ خانقاہ صدیوں سے نہ صرف روحانی فیوض و برکات کا سرچشمہ رہی ہے بلکہ تعلیم، اصلاحِ معاشرہ، خدمتِ خلق، قومی یکجہتی اور انسان دوستی کے فروغ میں بھی نمایاں کردار ادا کرتی رہی ہے۔ اس وقت خانقاہ کے دسویں سجادہ نشیں حضرت مولانا سید شاہ مصباح الحق عمادی مسندِ رشد و ہدایت پر متمکن ہیں اور اپنے اسلاف کے مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
بانیٔ خانقاہ حضرت خواجہ عمادالدین قلندر
خانقاہ عمادیہ کی بنیاد حضرت خواجہ عمادالدین قلندر نے رکھی، جنہیں ان کے پیر و مرشد حضرت فاضل قلندر سادھوری نے ’’بادشاہ‘‘ کا خطاب عطا فرمایا تھا۔ آپ نے روحانی تربیت قصبہ سادھور، ہریانہ میں حاصل کی اور 1104 ہجری میں اپنے آبائی وطن پھلواری شریف واپس آکر تبلیغِ دین اور اصلاحِ خلق کا عظیم سلسلہ شروع کیا۔آپ کے والد حضرت برہان الدین قادری نے سلسلہ جنیدیہ کی اجازت و خلافت عطا کرکے خانقاہ کی تمام ذمہ داریاں آپ کے سپرد کر دیں۔ حضرت خواجہ عمادالدین قلندر نے دینی تعلیم کے ساتھ سماجی اصلاح کو بھی خصوصی اہمیت دی۔ عورتوں کی اصلاح کے لیے آپ نے ’’صراط مستقیم‘‘ کے نام سے ایک رسالہ تصنیف کیا جو بہار کی ابتدائی اردو تصانیف میں شمار کیا جاتا ہے۔

علمی خدمات اور نادر کتب خانہ
حضرت خواجہ عمادالدین قلندر کو کتب بینی اور علمی ذخائر سے غیر معمولی شغف تھا۔ والد سے وراثت میں ملنے والی لائبریری کو انہوں نے مزید وسعت دی۔ آج بھی خانقاہ عمادیہ کا کتب خانہ موجود ہے جس میں تقریباً سات سو نادر مخطوطات محفوظ ہیں۔ ان میں بیشتر کتابیں بزرگوں کے اپنے دستِ مبارک سے لکھی ہوئی ہیں۔ یہ علمی خزانہ خانقاہ کی عظیم علمی روایت کا زندہ ثبوت ہے۔
دارالعلوم عمادیہ کا قیام
حضرت خواجہ عمادالدین قلندر نے درس و تدریس کا باقاعدہ سلسلہ بھی شروع کیا جو آج ’’دارالعلوم عمادیہ‘‘ کی صورت میں قائم ہے۔ اس ادارے میں دور دراز علاقوں سے طلبہ علم حاصل کرنے آتے ہیں۔ طلبہ کی تعلیم اور کفالت کی ذمہ داری خانقاہ کی انتظامیہ انجام دیتی ہے، جو اس کی فلاحی خدمات کا روشن پہلو ہے۔
حضرت نورالحق طپاں اور ادبی ورثہ
بانیٔ خانقاہ کے بعد مختلف سجادگان نے اس روحانی اور علمی روایت کو آگے بڑھایا۔ ان میں حضرت شاہ نورالحق طپاں کا نام خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ آپ فارسی کے صاحبِ دیوان شاعر تھے اور اردو شاعری میں بھی نمایاں مقام رکھتے تھے۔ آپ کے فارسی دیوان کی چار جلدیں آج بھی کتب خانہ عمادیہ میں محفوظ ہیں۔آپ کے کلام میں عشقِ الٰہی، معرفت اور انسانی اخوت کے بلند تصورات نمایاں نظر آتے ہیں۔ اسی دور میں خانقاہ علمی و ادبی سرگرمیوں کا اہم مرکز بن گئی۔

ہجرتِ پھلواری شریف اور عظیم سانحہ
حضرت شاہ ظہورالحق کے دور میں بعض مخالف عناصر نے خانوادۂ عماد و مجیب کے خلاف سازشیں شروع کر دیں۔ حالات یہاں تک پہنچے کہ حضرت ظہورالحق کو اپنے اہل خانہ کے ساتھ پھلواری شریف چھوڑنا پڑا۔ وہ عظیم آباد (پٹنہ سٹی) منتقل ہوگئے۔جب وہ دوبارہ سامان لینے پھلواری شریف پہنچے تو خانقاہ، مسجد، رہائشی مکانات اور کتب خانہ سب جلے ہوئے ملے۔ اس حادثے میں بے شمار نادر کتابیں اور تاریخی نوادرات ضائع ہوگئے۔ تاہم حضرت ظہورالحق چند محفوظ کتابیں، موئے مبارک رسول اکرم ﷺ اور بعض تبرکات بچا کر لے آئے جو آج بھی خانقاہ عمادیہ میں محفوظ ہیں۔
حضرت شاہ ظہورالحق کی علمی عظمت
حضرت شاہ ظہورالحق اس خانوادے کی ممتاز ترین علمی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ حافظِ قرآن، حافظِ صحیحین اور جلیل القدر محدث تھے۔ ان کی سو سے زائد تصانیف کا ذکر ملتا ہے جن میں سے سینتیس آج بھی محفوظ ہیں۔ ان کی علمی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے انہیں سندِ حدیث عطا فرمائی تھی۔علومِ شریعت، تصوف، فلسفہ اور منطق پر ان کی گہری دسترس تھی اور انہیں ولایت میں بلند مقام حاصل تھا۔
تعمیر و ترقی کا سنہری دور
حضرت شاہ علی امیر الحق کے دور میں خانقاہ کی ظاہری اور دنیوی ترقی میں نمایاں اضافہ ہوا۔ موجودہ خانقاہی عمارت، مجلس خانہ، رہائشی حصے اور مسجد کی تعمیر انہی کی نگرانی میں مکمل ہوئی۔ فنِ تعمیر سے ان کی غیر معمولی واقفیت کا اندازہ آج بھی عمارت کے نقش و نگار اور مسجد کی محراب کی خوبصورت آرائش سے ہوتا ہے۔انہوں نے اپنی نگرانی میں خانقاہ کے پورے کمپلیکس کا نقشہ تیار کیا اور مختصر مدت میں تمام تعمیرات مکمل کروائیں۔ 1934ء کے زلزلے میں عمارت کا ایک حصہ متاثر ہوا، تاہم اس کی بنیادی شان برقرار رہی۔

روحانی و علمی خدمات کا تسلسل
حضرت شاہ رشید الحق، حضرت شاہ حبیب الحق اور حضرت شاہ صبیح الحق عمادی نے اپنے اپنے ادوار میں تفسیرِ قرآن، درسِ مثنوی، مناظرے، وعظ و تبلیغ اور اصلاحِ معاشرہ کی خدمات انجام دیں۔ حضرت شاہ حبیب الحق خوش نویسی، خطابت اور مناظرہ کے میدان میں ممتاز تھے، جبکہ حضرت شاہ صبیح الحق بہترین مقرر، شاعر اور مصنف تھے۔ان کی دعائیں اور مجالسِ ذکر عوام میں بے حد مقبول تھیں۔ محرم الحرام میں شہدائے کربلا کا تذکرہ اور رمضان المبارک میں دعائیہ اجتماعات روحانی کیفیت کا منفرد منظر پیش کرتے تھے۔
حضرت فرید الحق عمادی اور احیائے ادارہ
حضرت مولانا سید شاہ فرید الحق عمادی کے دور میں خانقاہ نے نئی وسعت حاصل کی۔ انہوں نے تقریباً چوبیس برس سے بند تعلیمی سلسلے کو دوبارہ زندہ کرتے ہوئے ’’مدرسہ عمادالعلوم‘‘ قائم کیا جو بعد میں ’’مرکزی دارالعلوم عمادیہ‘‘ کے نام سے معروف ہوا۔انہوں نے مسجد کی توسیع، گنبدِ حجرۂ موئے مبارک کی تعمیر، قدیم عمارتوں کی مرمت اور کتب خانہ کی توسیع جیسے اہم منصوبے مکمل کیے۔ ان کی کوششوں سے ادارہ رشیدیہ کے ذریعے اشاعتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملا۔

موجودہ دور اور مستقبل کی سمت
17 مارچ 2001ء میں حضرت فرید الحق عمادی کے وصال کے بعد ان کے صاحبزادے حضرت مولانا سید شاہ مصباح الحق عمادی سجادہ نشیں مقرر ہوئے۔ آپ علمی، ادبی اور انتظامی صلاحیتوں کے حامل ہیں۔ عربی میں اعلیٰ تعلیم کے ساتھ کمپیوٹر پروگرامنگ کی مہارت بھی رکھتے ہیں۔ خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری پٹنہ سے وابستگی نے ان کی علمی شخصیت کو مزید نکھارا ہے۔آج خانقاہ عمادیہ قلندریہ اپنے درخشاں ماضی کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے دینی تعلیم، روحانی تربیت، تصوف، قومی ہم آہنگی اور خدمتِ انسانیت کے میدان میں سرگرم عمل ہے اور امید کی جاتی ہے کہ یہ ادارہ آئندہ بھی رشد و ہدایت کا مینار بنا رہے گا۔