جلال الدین شیخ: عربی سمیت چھ زبانوں میں خطاطی کے ماہر

Story by  اے ٹی وی | Posted by  [email protected] | 12 d ago
جلال الدین شیخ: عربی سمیت چھ زبانوں میں خطاطی کے ماہر

 

رضوان شفیع وانی،سری نگر

 جلال الدین کی خاص بات یہ ہے کہ وہ عربی، اردو کے ساتھ ساتھ ہندی، انگریزی، سنسکرت اور پنجابی زبانوں میں بھی خطاطی کرتے ہیں۔ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے 64 سالہ شخص نے یہ ثابت کردیا کہ عمر صرف ایک عدد کے سوا کچھ نہیں ہے۔جلال الدین شیخ لکڑی پر اسلامی خطاطی متعارف کرانے والے پہلے کشمیری ہیں۔ ان کے ہاتھوں سے بنائے گئے نقش و نگاری کے مصنوعات متعدد شخصیات کو بطور تحفہ دیا گیا ہے، جن میں سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ اور برطانیہ کے امبیسڈر بھی شامل ہیں۔ جلال الدین کا تعلق دارالحکومت سرینگر کے عثمانیہ کالونی حول سے ہے۔

وہ گزشتہ 45 سالوں سے پیشہ ورانہ طور پر اس فن سے وابستہ ہیں اور اس کام کو پوری محنت اور لگن کے ساتھ کر رہے ہیں جس طرح انہوں نے آغاز کیا تھا۔ جلال الدین کو بچپن سے ہی آرٹ سے دلچسپی تھی۔ جب وہ محض 10 برس کے تھے تو انہوں نے کندہ کاری کا کام شروع کیا۔

انہوں نے آواز دی وائس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بچپن سے ہی میرے اندر سیکھنے کی چاہت اور جستجو تھی۔ پڑھائی کے ساتھ ساتھ اس کام کو سیکھنے لگا۔ مہارت حاصل کرنے کے لیے ایک کارخانے میں کام شروع کیا۔ 'میں نے عبدالمجید پرے نامی ایک مقامی کاریگر کے پاس کام کرنا اور اس فن کو سیکھنے کا عمل شروع کیا۔ چونکہ میرے اندر سیکھنے کا بہت شوق تھا جس بنا پر میرے استاد نے مجھے اس فن کے تمام اصول و ضوابط اور طریقہ کار بتائے اور میں نے اس کام میں مہارت حاصل کی۔' وہ کہتے ہیں کہ میں نے کشمیر کے متعدد کارخانوں میں کام کیا ہے۔ 2007 میں ایک دوست نے دبئی میں کام کرنے کی پیشکش کی۔

awazthevoice

جلال الدین شیخ

وہاں میں نے تقریباً آٹھ سال تک نقش و نگاری کا کام کیا۔' 'چار برس قبل کشمیر واپس لوٹا، تو میں نے کشمیری لکڑی پر اسلامی خطاطی متعارف کرانے کا سوچا۔ اللہ کا شکر ہے میں اس میں کامیاب رہا۔ اخروٹ کے لکڑی پر نقش ونگاری کی بہت زیادہ مانگ ہے۔ خطاطی کوئی آسان کام نہیں ہے۔ سبھی ایسا نہیں کر سکتے۔'جلال الدین نے اپنے گھر کے ایک حصے کو ہی کارخانہ بنا لیاہے، انہوں نے کشمیر کی مرکزی جامع مسجد سمیت وادی کی دیگر بڑی مساجد، خانقاہوں اور زیارت گاہوں کو اپنی خطاطی کے فن پاروں سے سجایا اور سنوارا ہے۔ ان کے فن پارے نہ صرف جموں و کشمیر بلکہ بیرون ملک میں بھی کافی پسند کیے جاتے ہیں۔

قرانی آیات لکھنے کا جنون رکھنے والے جلال الدین شیخ نے اخروٹ کی لکڑی پر سورہ الانشرہ کو 2 فٹ چوڑے کینوس پر دلکش انداز میں تحریر کیا ہے۔ جو لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اخروٹ کی لکڑی پر قرانی آیات تحریر کرنے کے لیے بہت زیادہ مہارت درکار ہوتی ہے اور یہ کام ایک ماہر ہی کر سکتا ہے۔ میں سورہ الانشرہ کو 2 فٹ لمبے کینوس پر دلکش انداز میں تحریر کیا ہے۔ اسے مکمل کرنے میں ایک مہینہ لگا۔ میں نے آج تک کسی اور کاریگر کو ایسا کرتے نہیں دیکھا۔ انٹرنیٹ پر اس کنیوس کی تصویر وائرل ہوئی تو مجھے بہت سارے لوگ فون کرنے لگے۔

سعودی عرب سے لوگوں نے مجھ سے رابطہ کیا، انہوں نے میرے کام کی ستائش کی۔ تب سے مجھے آرڈرز آنے لگے۔ اپنے کارخانے میں اکیلے کام کرتا ہوں۔ اس وقت لوگوں کی طرف سے اتنے آرڈرز آتے ہیں کہ دن بھر اسی کام میں مصروف رہتا ہوں

۔ جلال الدین کی خاص بات یہ ہے کہ وہ عربی اور اردو کے ساتھ ساتھ ہندی، انگریزی، سنسکرت اور پنجابی زبانوں میں بھی خطاطی کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ لکڑی پر دلکش نقش و نگار کے ساتھ ساتھ پانچ مختلف زبانوں کی تحریریں لکڑی پر تراشنے کی صلاحیت رکھتا ہوں۔ ایک فن پارے کی نقش و نگاری میں 40 اوزار استعمال ہوتے ہیں جن میں کئی اوزار ایسے بھی ہیں جوکہ بازار میں دستیاب ہی نہیں۔

awazthevoice

جلال الدین شیخ لکڑی پر خطاطی کرتے ہوئے

نقش اور تحریر کے اعتبار سے اوزار خود بنانے پڑتے ہیں۔ نقش و نگار کے لیے زیادہ اوزار استعمال کرتے ہیں، کیونکہ وہ کام کو زیادہ درست اور جمالیاتی طور پر دلکش بناتے ہیں لکڑی پر کندہ کاری کرکے قرآنی آیات تحریر کرنے میں جلال الدین شیخ کا وادی کشمیر میں کوئی ثانی نہیں ہے۔انہیں لکڑی پر اسلامی خطاطی کو متعارف کرانے کا شرف بھی حاصل ہے۔ جلال الدین کے بقول اسلامی خطاطی کو تعلیم کی ضرورت ہے- خاص طور پر اسلامی تعلیم۔ کشمیر میں لکڑی کے کام کے پیشے سے وابستہ افراد زیادہ تر ان پڑھ ہیں۔ لہذا وہ لکڑی پر قرانی آیات لکھنا نہیں جانتے ہیں۔

awazthevoice

خطاطی کا نمونہ

میں واحد شخص ہوں جو لکڑی پر قرانی آیات تحریر کرتاہوں'۔ 'جب مجھے کوئی آرڈر آتا ہے تو میں اس کام کو خوبصورت کے ساتھ ساتھ تحریروں کا انتخاب بھی پوری احتیاط اور سوچ سمجھ کرتاہوں۔ میں نے جو الفاظ منتخب کیے ہیں ان کے پیچھے معنی ہوتے ہیں۔ اپنے فن کے ذریعے محبت، ہمدردی اور بھائی چارے کا پیغام دینے کی کوشش کرتا ہوں' وادی کشمیر میں ایسے ماہر خطاط کو تلاش کرنا نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن ہے۔

جلال الدین شیخ کی طرح عربی یا کسی دوسری زبان میں ڈرائنگ اور لکھنے کا اتنا ہنر کوئی دوسرا نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر تصویر وائرل ہونے کے بعد حکام نے مجھ سے رابطہ کیا۔ میرا نام رجسٹررڈ کاریگروں کی فہرست میں نہیں تھا۔ لیکن اب دستکاری اور ہینڈلوم ڈپارٹمنٹ میں ایک رجسٹرڈ کاریگر ہوں اور حکام نے ایک باوقار ایوارڈ کے لیے نامزد کیا ہے۔

جلال الدین شیخ انڈونیشین اور ایرانی خطاطی سے متاثر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایران میں کی جانے والی اسلامی خطاطی پر فارسی رسم الخط کی چھاپ ہے، لیکن پھر بھی یہ بہت خوبصورت ہے۔ واضح رہے کہ دستکاری صنعت کو کشمیر کی معیشت کا ایک بڑا سیکٹر تصور کیا جاتا ہے۔اس شعبہ کی بدولت آج بھی آبادی کا ایک بڑا حصہ روزگار حاصل کررہا ہے، تاہم گزشتہ برسوں کے دوران اس صنعت کو کافی بڑا دھچکا لگا ہے۔

awazthevoice

اس شعبے کی عظمت کو بحال کرنے اور اسے عالمی سطح پر لے جانے کے لیے حکومت نے بہت ساری نئی کاریگر دوستانہ اسکیمیں متعارف کروائی ہیں اور ان کاریگروں کی رہنمائی کے لیے ورکشاپس اور بیداری کیمپوں کا بھی اہتمام کررہی ہے۔