سری نگر : آواز دی وائس
کشمیر میں 14ویں صدی میں لل دید نے صوفیانہ شاعری کی مضبوط بنیاد رکھی جبکہ 16ویں صدی میں حبا خاتون نے رومانوی شاعری کو نئی جہت دی۔لیکن 1990 کے بعد کے حالات نے انہیں یہ احساس دلایا کہ دنیا کشمیر کو صرف تشدد کے زاویے سے دیکھ رہی ہے۔ اسی لیے وہ چاہتی تھیں کہ کشمیر کی قدیم ادبی روایت کو بھی سامنے لایا جائے۔
کشمیر کی ممتاز ماہر تعلیم اور ادیبہ نیرجا مٹو نے آواز دی وائس سے بات چیت کے دوران اپنی اس رائے کا اظہار کیا جنہوں نے اپنی زندگی علم اور زبان کی خدمت کے لیے وقف کی ۔جنہوں نے یہ سکھایا کہ زبان محض اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ شناخت کی بنیاد ہے۔ اگر آج کشمیری ادب کی آواز عالمی سطح پر سنائی دیتی ہے تو اس میں ان کا نمایاں حصہ ہے۔

صوفیانہ تہذیب کی بات
پروفیسر نیرجا مٹو نے دانش علی کے ساتھ بات چیت میں کہا کہ کشمیر میں لل دید ایک بے حد طاقتورآواز تھیں جو خدا سے براہ راست مکالمہ کرتی تھیں، لوگوں کو چیلنج بھی کرتی تھیں۔ انہیں محسوس ہوا کہ ایسی آواز کو دنیا تک پہنچانا ضروری ہے۔ اسی لیے انہوں نے ان کی شاعری کا انگریزی میں ترجمہ کیا اور بعد میںThe Mystic and the Lyric کے عنوان سے کتاب شائع کی۔
انہوں نے بتایا کہ 1990 کے بعد کے حالات نے انہیں یہ احساس دلایا کہ دنیا کشمیر کو صرف تشدد کے زاویے سے دیکھ رہی ہے۔ وہ چاہتی تھیں کہ کشمیر کی قدیم ادبی روایت کو بھی سامنے لایا جائے۔ 1994 میں انہوں نےContemporary Kashmiri Short Stories کا مجموعہ شائع کیا جس کا عنوانThe Stranger Beside Me رکھا۔
پروفیسر نیرجا مٹو نے کشمیری پکوان پر بھی کتاب لکھی جس میں مسلم اور پنڈت دونوں روایات شامل کیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتاب کئی ایڈیشن میں شائع ہو چکی ہے اور لوگ اسے مفید سمجھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے کوئی غیر معمولی کارنامہ انجام نہیں دیا بلکہ انہیں صرف دو زبانوں سے محبت تھی۔ کشمیری اور انگریزی۔ وہ چاہتی تھیں کہ انگریزی پڑھنے والے بھی جان سکیں کہ کشمیر میں کیسا ادب تخلیق ہو رہا ہے۔ اسی مقصد سے انہوں نے تراجم کا کام شروع کیا۔

اس دور میں تعلیم
انہوں نے بتایا کہ وہ اس وقت 88 سال کی ہیں۔ ان کے بچپن میں کشمیری پنڈت لڑکیوں کو عموماً اسکول نہیں بھیجا جاتا تھا۔ اس لیے انہوں نے ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی۔ بعد میں 1951 میں جب وہ تقریباً 12 سال کی تھیں اور ان کے والد کا تبادلہ جموں ہوا تو پہلی بار انہیں اسکول میں داخل کیا گیا۔ انگریزی کے امتحان کی بنیاد پر انہیں براہ راست نویں جماعت میں رکھا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے باقاعدہ تعلیم جاری رکھی۔انہوں نے بتایا کہ 1958 میں انہیں گورنمنٹ کالج فار وومن مولانا آزاد روڈ سری نگر میں انگریزی کی لیکچرار مقرر کیا گیا اور 1996 میں ریٹائر ہونے تک 38 سال وہیں پڑھاتی رہیں۔ ان کے مطابق یہ ان کی واحد تدریسی وابستگی تھی۔
نئی نسل مادری زبان سے دور
پروفیسر نیرجا مٹو نے افسوس کا اظہار کیا کہ نوجوان اپنی مادری زبان سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق جب والدین خود بچوں سے کشمیری میں بات نہیں کرتے تو وہ زبان اجنبی محسوس ہونے لگتی ہے۔ انہوں نے اسے ایک افسوسناک صورت حال قرار دیا۔اس کے باوجود انہوں نے خوشی ظاہر کی کہ نئی نسل میں کئی نوجوان انگریزی اور کشمیری دونوں زبانوں میں معیاری ادب تخلیق کر رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جب تک نوجوان اپنی زبان سے وابستہ رہیں گے کشمیری ادب کا سلسلہ جاری رہے گا۔
موجودہ نسل کے بارے میں انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کے باعث مطالعے کی عادت کم ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہر جواب آسانی سے مل جاتا ہے تو ذہنی مشق کم ہو جاتی ہے۔ انہوں نےWhatsApp یونیورسٹی کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ادھوری معلومات کو علم سمجھ لینا تعلیم نہیں ہے۔
پروفیسر نیرجا مٹو کی زندگی اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ ایک باعزم فرد اپنی تہذیب اور زبان کی نمائندگی عالمی سطح پر موثر انداز میں کر سکتا ہے۔
آئیے سنتے ہیں دانش علی کے ساتھ پروفیسر نیرجا مٹو کی بات چیت۔