اسلام کا تصورِ محبت اور پاکیزہ تعلقات

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 17-02-2026
اسلام کا تصورِ محبت اور پاکیزہ تعلقات
اسلام کا تصورِ محبت اور پاکیزہ تعلقات

 



 زیبا نسیم : ممبئی

اسلام میں محبت ایک پاکیزہ، فطری اور باہم تعلق کی بنیاد ہے، جس کا مرکز اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا ہے۔ حقیقی محبت تقویٰ اور سنت کی پیروی سے مشروط ہے، جہاں سب سے بڑھ کر محبت اللہ سے، پھر نبی کریم ﷺ سے، اور پھر ان کے احکامات کے مطابق رشتوں اور مخلوق سے کی جاتی ہے۔

کیونکہ محبت ایک فطر ی عمل ہے اور اسلام فطرت کا ترجمان ہے اس لحاظ سے محبت کا اسلام سے گہرا تعلق ہے۔اسلام فطرت کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمیں محبت کا حکم بھی دیتاہے جو اللہ نے ہمارے دلوں میں القا ء کی ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے -

(فَأَلَّفَ بَیْنَ قُلُوبِکُمْ۔۔۔۔۔۔)[آل عمران:103]

اس اللہ نے تمہارے دلوں میں محبت ڈال دی۔۔۔۔۔۔

اس کی تاکید پیغمبر نے بھی ان الفاظ میں فرمائی۔

((تَہَادُوْا تَحَابُّوا۔۔۔۔۔۔))[مؤطأ :1413]

آپس میں تحفے تحائف دو اور محبت کرو۔۔۔۔۔۔

محبتِ الٰہی و رسول ﷺ ایمان کی بنیاد ہے اور کامل ایمان کے لیے نبی کریم ﷺ سے اپنی جان و مال سے بڑھ کر محبت ضروری ہے۔ محبتِ الٰہی کا تقاضا اتباعِ سنت ہے۔ جبکہ پاکیزہ تعلقات ہی اسلام میں جائز محبت کا تصور نکاح کے پاکیزہ رشتے، والدین، اولاد اور بہن بھائیوں کے درمیان شفقت پر مبنی ہے۔رشتہ داروں اور امت سے محبت کو بہت اہمیت دی گئی ہے ۔ اللہ کی رضا کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرنا، عفو و درگزر (معاف کرنا) اور انسانیت کے لیے رحم و کرم کا پیکر بننا محبت کا اسلامی تصور ہے۔اگر بات حدود و قیود کی کریں تو اسلام فطری جذبات کو روکتا نہیں بلکہ انہیں شرعی حدود میں لاتا ہے۔

نبی مکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشادِ مبارک ہے کہ قیامت کے دن انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ دنیا میں محبت کرتا تھا۔ اس فرمان سے معلوم ہوتا ہے کہ محبت اسلام میں ایک اہم اور بامعنی جذبہ ہے جو انسان کے ایمان اور کردار سے جڑا ہوا ہے۔

 اللہ تعالیٰ سے محبت

قرآن و حدیث میں محبت کو ایمان کا بنیادی جز قرار دیا گیا ہے اور اس میں سب سے اعلیٰ درجہ بندے کی اپنے رب سے محبت کو حاصل ہے۔ مومن کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت ہر چیز سے بڑھ کر ہوتی ہے اور کوئی بھی دنیاوی چیز اس پر غالب نہیں آتی۔ قرآن کریم میں اہل ایمان کی کیفیت بیان کی گئی ہے کہ وہ سب سے زیادہ محبت اللہ سے کرتے ہیں۔ اسی طرح حدیث میں بھی آیا ہے کہ جس شخص کے دل میں اللہ اور اس کے رسول ہر چیز سے زیادہ محبوب ہوں وہ ایمان کی مٹھاس محسوس کرتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ سے محبت

نبی کریم ﷺ سے محبت ایمان کی تکمیل کا لازمی حصہ ہے۔ ایک سچے مسلمان کی کامیابی اسی میں ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو اپنی جان مال اور تمام رشتوں سے بڑھ کر عزیز رکھے۔ حدیث شریف میں واضح فرمایا گیا ہے کہ کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک رسول اللہ ﷺ اسے اپنے والدین اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جائیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیاں اس بے مثال محبت کی روشن مثال تھیں اور دشمن بھی اس حقیقت کا اعتراف کرتے تھے۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت رکھنا بھی ایمان کی علامت ہے کیونکہ وہ دین کے اولین علمبردار اور رسول اللہ ﷺ کے وفادار ساتھی تھے۔ قرآن و حدیث میں ان کے ایمان اور اخلاص کو مسلمانوں کے لیے نمونہ قرار دیا گیا ہے۔ ان سے محبت دراصل دین سے محبت ہے جبکہ ان سے بغض و عناد رکھنا نفاق اور گمراہی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

میاں بیوی کی آپس کی محبت

اسلام میں نکاح کا رشتہ محبت سکون اور رحمت پر قائم ایک پاکیزہ بندھن ہے۔ شریعت اس بات کی ترغیب دیتی ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے سے خلوص محبت اور حسن سلوک کے ساتھ زندگی گزاریں اور اپنے حقوق ادا کریں۔ قرآن کریم میں واضح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زوجین کے درمیان محبت اور رحمت پیدا کی تاکہ وہ ایک دوسرے سے سکون حاصل کریں اور خوشگوار زندگی بسر کریں۔

والدین اور اولاد کی آپس میں محبت

والدین اور اولاد کے درمیان محبت ایک فطری اور ضروری جذبہ ہے جسے اسلام نے تسلیم کیا ہے۔ تاہم شریعت اس بات کی تعلیم دیتی ہے کہ یہ محبت اللہ اور اس کے رسول کی محبت پر غالب نہ ہو۔ یعنی رشتوں کی محبت اپنی جگہ اہم ہے مگر سب سے مقدم حق اللہ اور رسول ﷺ کی محبت کو حاصل ہے اور اسی ترتیب کو برقرار رکھنا ایمان کا تقاضا ہے۔

عام افراد کی آپس میں محبت

اسلام بھائی چارے امن اور باہمی محبت کا درس دیتا ہے۔ تمام مسلمانوں کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا گیا ہے اور انہیں باہمی الفت ہمدردی اور خیرخواہی کے ساتھ زندگی گزارنے کی تلقین کی گئی ہے۔ اللہ کی رضا کے لیے کسی سے محبت کرنا ایک عظیم نیکی ہے اور ایسی بے غرض محبت انسان کو روحانی بلندی عطا کرتی ہے۔ یہ محبت اسی وقت قابل تعریف ہے جب اس میں لالچ مفاد اور دنیاوی غرض شامل نہ ہو بلکہ خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے ہو۔

دینِ اسلام میں رشتوں ناطوں محبت دوستی اور باہمی تعلقات کی بنیاد پاکیزگی اخلاص اور شفافیت پر رکھی گئی ہے۔ اسی لیے اسلام اپنے ماننے والوں کو سب سے پہلے ان رشتوں سے محبت کرنے ان کا احترام کرنے اور ان کی نگہداشت کرنے کی تعلیم دیتا ہے جن سے ایک مضبوط گھرانہ صالح خاندان اور متوازن معاشرہ وجود میں آتا ہے۔

اسی طرح مرد اور عورت کے درمیان تعلق محبت اور الفت کی اصل بنیاد بھی اسلام میں پاکیزہ اور جائز حدود پر قائم ہے۔ جیسے شوہر اور بیوی کا رشتہ ماں اور بیٹے کا رشتہ باپ اور بیٹی کا رشتہ بہن اور بھائی کا رشتہ دادا اور پوتی کا رشتہ نانا اور نواسی کا رشتہ چچا اور بھتیجی کا رشتہ اور ماموں اور بھانجی کا رشتہ۔ یہ تمام وہ عظیم اور باعزت رشتے ہیں جنہیں اسلام میں محرم رشتے کہا جاتا ہے اور جن کی اساس جائز شفاف اور پاکیزہ محبت پر قائم ہوتی ہے۔