اے ایم یو: جی ٹوینٹی کے ساتھ تعلیمی، علمی، ادبی، ثقافتی اورسیاسی رشتوں کا سفر

Story by  اے ٹی وی | Posted by  [email protected] | Date 03-09-2023
اے ایم یو: جی ٹوینٹی کے ساتھ تعلیمی، علمی، ادبی، ثقافتی اورسیاسی رشتوں کا سفر
اے ایم یو: جی ٹوینٹی کے ساتھ تعلیمی، علمی، ادبی، ثقافتی اورسیاسی رشتوں کا سفر

 

awazurdu

ڈاکٹر اسعد فیصل فاروقی

علی گڑھ

                 جی ٹوینٹی کی اس برس کی صدارت ہندوستان کے پاس ہے ، اس کا چوٹی سربراہی اجلاس اس برس دہلی میں 9۔10 ستمبر کو ہندوستان کی صدارت میں منعقد ہوگا۔ اس سلسلہ میں گذشتہ ایک برس سے ملک میں ہر جانب جی ٹوینٹی کی گہما گہمی چل رہی ہے۔ اس کے سلسلہ میں مختلف سرگرمیاں اور پرو گرام بڑے پیمانے پر ہندوستان بھر میں منعقد کئے جارہے ہیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بھی جی ٹوینٹی کے مقاصد اور اس کے اقدامات سے متعلق یونیورسٹی سطح پر سرگرمیاں جاری ہیں ۔ یہاں یہ ضروری محسوس ہوتا ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے عالمی کردار کا جائزہ بالخصوص جی ٹوینٹی ممالک کے پس منظر میں لے لیا جائے تاکہ ہندوستان کی ترقی اور اس کے مختلف ممالک سے باہمی ،خیرسگالی تعلقات اور ثقافتی و تعلیمی روابط کو پروان چڑھانے میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے جو امتیازی اور کلیدی کردار ادا کیا ، وہ لوگوں کے سامنے آسکے۔ اس مضمون میں یہ بھی کوشش کی جارہی کہ علی گڑھ کے عالمی کردار کو جو اس کے ابتدائی زمانہ سے حصہ اور خاصہ رہا ہے، اس پر بھی، اس کی مختصر تاریخ کے ساتھ حالیہ ترقی پر بھی روشنی فراہم کی جاسکے۔

                 علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ، ہندوستان کے تعلیمی اداروں میں ایک خصوصی درجہ نہ صرف اس لئے رکھتی ہے کہ وہ ایک اقلیتی ادارہ ہے، بلکہ وہ اس لئے بھی ممتاز ہے کہ اس کے طلباء دنیا کے اہم ملکوں میں رہائش پذیر ہیں۔ جہاں تک جی ٹوینٹی ممالک کا تعلق ہے، ایسا کوئی بھی ملک نہیں ہے جہاں پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی المینائی ایسوسی ایشن قائم نہ ہو اور ہاں اس کے فرزند موجود نہ ہوں۔

                 علی گڑھ میں سرسید احمد خاں کے قائم کردہ مدرسۃ العلوم کا ابتدائی دنوں سے غیر ممالک سے تعلق رہا ہے۔ نہ صرف یہ کہ سرسید کے زمانے میں بھی کولونیل حکومت کے کئی انگریز عہدہ داروں اور اعلیٰ برطانوی افسران نے علی گڑھ کالج کا دورہ کیا بلکہ دیگر ممالک سے بھی بڑی شخصیات علی گڑھ تشریف لائیں۔ اس سلسلہ میں علیگڑھ انسٹی ٹیوٹ کے صفحات پر شائع عالمی خبروں بین الاقوامی مسائل پر رپورٹوں اور کالموں سے بھی یہ واضح ہوجاتا ہے کہ کس طرح سرسید نے گزٹ کے وسیلے سے ہندوستانیوں کو بین الاقوامی معاملات اور عالمی سیاست سے روشناس کرایا۔ روس ترکی کی جنگ سلسلہ میں سرسید نے جس طرح گزٹ میں کئی ماہ تک رپورٹیں اور مضامین پیش کئے وہ بھی سرسید کی بین الاقوامی سوجھ بوجھ کی واضح مثال ہے۔

                سرسید کی اس تعلیمی تحریک میں، جہاں ان کے شانہ بشانہ ہندو اور مسلمانوں نے پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ، وہیں اس تحریک میں ابتداء سے ہی یوروپین افسران نے بھی دلچسپی لی اور سرسید کی اس تعلیمی تحریک کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا ۔ ان میں برطانوی نژاد یوروپین کی ایک بڑی تعداد تھی، سرسید نے ان اساتذہ کو جدید مضامین کی تدریس اور کالج کے پرنسپل کی حیثیت سے کالج میں اہم مقام دیا بلکہ دیگر انتظامی امور میں پیش پیش رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ ابتدائی زمانہ سے کالج نے ایک اعلیٰ مقام ہندوستان میں حاصل کرلیا تھا اور شروع سے ہی اس کے بہت سے طلباء نے جدید تعلیم کے واسطے کیمبرج اور آکسفورڈ کا رخ کیا اور یہ سلسلہ بعد کے زمانہ تک جاری رہا۔ علی گڑھ کے طلباء نے آغاز میں انگلینڈ کا رخ کیا، لیکن بیسویں صدی کے آغاز میں جرمنی اور فرانس کی یونیورسٹیوں کی جانب بھی مائل ہوئے اور بڑی تعداد میں علی گڑھ کے بعد وہاں سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ آزادی کے فوراً بعد علی گڑھ کے طلباء کی ایک بڑی تعداد نے امریکہ اور پھر جاپان، کوریا اور چین اور دیگر یوروپین ممالک سے بھی تعلیم حاصل کی۔

                علی گڑھ میں کالج کے قیام سے لے کر آزادی تک جہاں غیر ملکی اساتذہ میں بڑی تعداد برطانیہ کی رہی ، وہیں جرمنی کے کئی اساتذہ نے بھی اس ادارہ کو اپنی خدمات پیش کیں۔

                 جہاں تک علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بیرون ممالک کے طلباء کا معاملہ ہے تو بیسویں صدی کے آغاز سے ہی، جب کہ ایم اے او کالج ابھی ترقی کی راہوں پر تھا، بہت سے ممالک کے طلباء جن میں عربی، ایرانی، اور افریقی طلباء شامل تھے نے تعلیم کے سلسلہ میں محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کا رخ کیا، اور انہوں نے یہاں تعلیم حاصل کی ۔ یہی وجہ ہے کہ علی گڑھ کو مشرق کا آکسفورڈ سے موسوم کیا جانے لگا۔

                راقم الحروف کی تحقیق کے مطابق کس طرح علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اس معنی میں ایک اہم اور منفرد ادارہ ابھر کر سامنے آیاہے جس کا اپنے قیام کے دنوں سے ہی ان ممالک کے ساتھ جو کہ آج جی ٹوینٹی کا حصہ ہیں، زیادہ تر سے، کسی نہ کسی طرح سے تعلیمی، علمی رشتے کے ساتھ ساتھ ادبی، ثقافتی، اور سیاسی تعلق بھی رہا ہے۔

دراصل علی گڑھ نے سافٹ پاور کی حیثیت سے ہندوستان کی جس طرح تعاون کیا ہے، وہ منفرد ہے۔ جب ہم محمڈن کا لج اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے مختلف دور کی رپورٹوں، علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ کے صفحات، اورعلی گڑ ھ کے سلسلہ میں دیگر دستاویز ات اور تصانیف کی ورق گردانی کرتے ہیں اور ان کا جائزہ لیتے ہیں، تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ جہاں آزادی سے قبل اس عظیم ادارہ میں چین، جاپان، جنوبی افریقہ، امریکہ، ترکی، فرانس، کے تعلیمی وفود کے آنے کا سلسلہ جاری تھا، وہیں آزادی کے بعد بھی مختلف ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے وفود علی گڑھ تشریف لائے اور انہوں نے سائنس اور ٹکنالوجی، طب، کامرس، سماجی علوم کے میدانوں میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے میمورنڈم آف انڈر اسٹینڈنگ دستخط کئے۔

یہاں پر راقم ایک اہم نکتہ کو بھی واضح کردینا ضروری سمجھتاہے، وہ یہ ہے کہ برطانوی نوآبادیات اور اس کی جانب سے کئے جارہے ظلم و استبداد کے خلاف ہماری قومی جنگ صرف ہندوستان سے ہی نہیں لڑی گئی بلکہ، ہندوستانیوں ، جن میں علی گڑھ کے فرزندان بھی شامل تھے ، اس لڑائی کو غیر مکی سرزمین سے بھی لڑا، ان میں انگلینڈ کے علاوہ، جو کہ ایک استبدادی ملک بھی تھا ، امریکہ، جاپان،چین، فرانس، جرمنی، جنوبی افریقہ وہ ممالک ہیں جہاں سے ہمارے مجاہدین نے جنگ آزادی کی پرزور مہم چلائی ،آزادی کے لئے اخبارات اور رسائل جاری کئے، کتابیں شائع کیں ، جلسے کئے اور میٹنگیں کیں اور اپنے آپ کو مادر وطن پر قربان کیا اور حب الوطنی کا ثبوت دیا۔

awazurdu

 

                اس سلسلہ میں ایک ضروری امر جس پر علی گڑھ نے ابتدائی دنوں سے توجہ دی وہ غیر ملکی زبانوں کی تعلیم ہے۔ علی گڑھ نے قبل آزادی سے اردو،انگریزی، فارسی، اورعربی زبان کی تعلیم کے علاوہ جو کہ اس کے نصاب کا حصہ روز اول سے رہی ہیں،دیگر ممالک کی زبانوں جیسے کہ فرانسیسی،جرمنی اور ترکی کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس کی باقاعدہ تعلیم کا انتظام کیا۔ غیر ملکی زبانوں بالخصوص فرانسیسی اور جرمن زبانوں کی تعلیم دینے کا یہ سلسلہ آزادی کے بعد بھی قائم رہا اور آج بھی جاری ہے۔ ابتداء میں ڈپلومہ اور سرٹی فکیٹ کی سند عطاکی جاتی تھی اب یہ سلسلہ اعلیٰ ڈگری یعنی ماسٹر اور پی ایچ ڈی تک پہنچ چکاہے۔ اس سلسلہ میں ابتدائی کوششیں نواب اسحق خاں کی سکریٹری شپ کے دور میں شروع ہوئیں جب انہوں نے علی گڑھ کالج کے ٹرسٹیوں اور دیگر احباب کو اس جانب متوجہ کیا کہ طلباء کے کیریئر کو ملحوظ رکھتے ہوئے اب یہ لازمی ہے کہ ان کو دیگر زبانوں جیسے فرانسیسی ، جرمن اور ترکی سے آشنا کرایا جائے اور علی گڑھ میں ان زبانوں کی تعلیم کا بندوبست کیا جائے۔

ڈپلومہ ان فارین افیرس کا آغاز

                 آزادی کے فوراً بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے ہندوستان کے بیرونی ممالک سے تعلقات کو استوار کرنے اور آپس میں خیر سگالی بنانے میں کئی زاویوں پر اہم کردار ادا کیا۔ اسی مقصد کے تحت بین الاقوامی تعلقات کی اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے، علی گڑھ نے سب سے پہلے ڈاکٹر ذاکرحسین کے زمانہ میں1950۔1951 میں باقاعدہ ایک کورس ڈپلومہ ان فارین افیرس کا آغاز کیا گیا۔ جس کے تحت مختلف غیر ملکی زبانوں فرانسیسی، جرمنی، ترکی نیز بین الاقوامی تعلقات وغیرہ کی تعلیم دی جاتی۔ اور آج ہم کئی بین الاقوامی زبانوں اور میں گریجوئیشن اور پوسٹ گریجوئیشن کی ہی تعلیم نہیں بلکہ پی ایچ ڈی بھی کروارہے ہیں۔ہم نے فیکلٹی آف انٹرنیشنل اسٹدیز کے تحت لاطینی امریکہ، افریقہ، وسط ایشیا، اور مشرقی ایشیا کے مطالعات پر اپنی توجہ مرکوز کی۔

عالمی طور پر دیگر ممالک سے ہندوستان کے تعلیمی، ادبی اور ثقافتی رشتوں کو استوار کرنے کے لئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے آزادی کے فوراً بعد جو دوسرا اہم کام کیا، وہ یہ کہ اس نے بہت سے ممالک کی اہم شخصیات ، جن میں سیاسی، لیڈران، سائنسداں، ماہر تعلیم، ادیب شامل ہیں ڈی لٹ، ڈی ایس سی، اور ایل ایل ڈی کی اعزازی ڈگریاں بھی عطا کیں، ان شخصیات میں ایک بڑی تعداد ایسے ممالک سے تعلق رکھتی ہیں، جو آج جی ٹوینٹی گروپ کا حصہ ہے۔ ان میں چند اہم نام ہیں، واشنگٹن یونیورسٹی کے چانسلر ڈاکٹر آرتھر، ایچ کامپٹن (1950، ڈی ایس سی) ، امریکہ کے سابق صدر روزویلٹ کی اہلیہ محترمہ الینرڈی روزویلٹ (1952، ڈیل لٹ)،سعودی فرما ں روا شاہ سعود بن عبدالعزیز (1955، ایل ایل ڈی)، جرمنی کے ڈپٹی چانسلر پروفیسر لوڈی ونگ ایراہرڈ ( 1958، ایل ایل ڈی)، انگلینڈ کے معروف سائنسداں سر الکزنڈر ٹاد(1960، ڈی ایس سی) ، روسی تاجک اسکالر باباجان غفوروو (1970، ڈی لٹ)، نوبل انعام یافتہ جاپانی ماہر طبیعات پروفیسر ٹاکاکی کجیتا(2017، ڈی ایس سی) ۔

عالمی قائدین کی آمد

                 اسی طرح سے بعد آزادی بہت سے ممالک کے سربراہوں، قائدین، اور اسکالروں نے بھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وقتاً فوقتاً دورے بھی کئے ، مقصد خیر سگالی، تعلیمی، نیز ہندوستان اور ان ممالک کے رشتوں کو پائیدار اور مستحکم بنانا تھا۔ان میں نہ صرف ان ممالک کی شخصیتیں شامل تھیں جو اب جی ٹوینٹی ممالک کا حصہ ہیں بلکہ دیگر ممالک کی بھی اہم شخصیات شامل تھیں۔چند اہم سیاسی اور علمی شخصیات جو آزادی کے بعد علی گڑھ تشریف لائیں ان کے ناموں کو ذیل میں درج کیا جارہا ہے

           محمد حتیٰ ،انڈونیشیائی نائب صدر (1955 )، نائب وزیر اعظم مصر کمانڈر جنرل سلیم (۱۹۵۵ء )، شاہ ایران اور ملکہ ثریا(1956)،جمال عبدالناصرصدر، مصر(1960 )، ٹنکو عبدالرحمن، وزیر اعظم ملیشیا(1962)، محمد نوروز سابق صدر افغانستان نیشنل اسمبلی، ڈاکٹر عبد الظاہر، صدر نیشنل اسمبلی آف افغانستان(1963)، محمد انس، وزیر تعلیم افغانستان، پرفیسر ایڈ امان، یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا، پروفیسر جے این اینڈرسن، لندن یونیورسٹی(ماہر اسلامی قوانین)، معروف سائنسداں پروفیسر ڈبلیو اے والٹرس (ماہرنامیاتی کیمیاء آکسفورڈ یونیورسٹی)، وائس رائے لارڈ لیٹن کے پوتے نویل اینتھونی اسکیور بلور لیٹن (۱۹۶۳ء)، الہاج سر احمد بیلو، وزیر اعظم شمالی نائجیریا(1967)، شیخ صباح السالم الصباح، کویتی وزیر اعظم(1964)، احمد عبدالشار الباسی، نائب وزیر عظم متحدہ عرب جمہوریہ (1966) ، محمد بن موسیٰ، وزیر اعلیٰ ، صوبہ کلانتاں، ملیشیاء(1966)، نوین چندر رام غلام، وزیراعظم ماریشش(2005)

                یہاں یہ بھی واضح کردیں اس سلسلہ میں مختلف ممالک میں قائم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی المنائی ایسو سی ایشنوں اور ان سے منسلک ہمارے قدیم طلباء نے بھی ان ہندوستان کے ساتھ باہمی رشتوں اور روابط کو ان ممالک سے مضبوط کرنے میں اہم کردار کیا ہے۔ ان میں چاہے امریکہ ہوں یا جاپان یا پھر سعودیہ عرب ، یا پھر جرمنی ،انہوں نے ان انجمنوں کے ذریعہ نہ صرف فلاحی کاموں کو انجام دیا ہے بلکہ ہندوستان کی متنوع تہذیب و ثقافت کو ان ممالک میں پہنچا کر ہندوستانی معاشرہ کو عالمی سماج سے قریب تر کرنے اور اس کی ترویج کرنے میں کلیدی کردا رادا کیا ہے ۔

awazurdu

فیکلٹی آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کا قیام 

خوش آئند بات یہ ہے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے 2015 سے ایک علیحدہ جدید فیکلٹی ‘‘ فیکلٹی آف انٹرنیشنل اسٹڈیز’’ (فیکلٹی برائے بین الاقوامی مطالعات ) کا قیام عمل میں آیا ہے، جس کے تحت لاطینی امریکی، افریقی، برازیلی، وسط ایشیا، وسط مشرق ایشیا، جنوب مشرق ایشیا وغیرہ کی تہذیب و ثقافت ، زبان، سیاست پر مطالعات کا آغاز ہوا ہے۔ سردست اس فیکلٹی میں چار شعبے قائم ہیں جن میں گریجوئیشن، پوسٹ گریجوئیشن تک کی تعلیم ہوتی ہے ۔ پی ایچ ڈی کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

                 علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں غیر ممالک طلباء کا تعلیمی سفربھی آزادی سے قبل سے جاری ہے۔ یہاں نہ صرف مسلم ممالک بلکہ غیر مسلم ممالک کے طلباء بھی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ان میں سے کئی طلباء اپنے اپنے ممالک میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوئے، کئی نے اپنے ملک کی سیاست میں اعلیٰ مقام حاصل کیا ۔یمن، عمان، مصر، فلسطین، اردن ، ایران، عراق، انڈونیشیا، ملیشیا، تھائی لینڈ، فلپائن، بنگلہ دیش ، ماریشش، مالدیپ اور افریقہ اور عرب کے کئی ممالک کے لئے ایک محفوظ اور بہترین یونیورسٹی تصورکی جاتی ہے۔ ان کے علاوہ یہاں دیگر ممالک سے بھی طلباء اور ریسرچ اسکالرجوق درجوق اعلیٰ تعلیم کے غرض سے اور اپنی تشنگی علم وعرفان کو بجھانے کے خاطر آتے ہیں۔

اے ایم یو میں 33ممالک کے طلبا

                 اس سلسلہ میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے غیر ممالک طلباء کے دفتر سے حاصل شدہ معلومات اور اعداد و شمار یہ اطلاع فراہم کرتی ہے کہ گذشتہ دس برسوں میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں 33 ممالک کے طلباء نے داخلہ لیا ، ان طلباء میں سے دس ایسے ممالک کے بھی ہیں، جو جی ٹوینٹی کے رکن ہیں۔ ان میں آسٹریلیا، امریکہ، کناڈا، برطانیہ، جرمنی،انڈونیشیا، سعودی عربیہ، جنوبی کوریا، جنوبی افریقہ، ترکی شامل ہیں۔

اس رپورٹ سے یہ بھی واضح ہوا کہ کورونا وبا کے بعد علی گڑھ میں غیر ممالک طلباء کی تعداد میں بہت زیادہ کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس کی وجہ سے اب اس کا عالمی کیرکٹر خطرہ میں بھی نظر آرہا ہے۔ سردست ضروری یہ ہے کہ علی گڑھ کے عالمی کردار کو جلا بخشی جائے اور اس کوفروغ دینے کے لئے نہ صرف غیر ملکی طلباء کی تعلیم اور ان کی رہائش کے لئے آسانیاں پیدا کی جائیں بلکہ غیر ملکی طلباء کے لئے ایسی پالیسیاں بنائی جا ئیں جو خیر سگالی جذبہ کے تحت ہوں، جس سے ان کو ہندوستان میں رہنا اپنے وطن جیسا ہی محسوس ہو۔ مستقبل میں یہی طلباء ہندوستان اور اپنے ملک کے درمیان خیرسگالی رشتوں اور روابط کے امین اور پاسدار ہوں گے۔