عالمی تبلیغی اجتماع میں ہندووں کی خدمت بنی ہندوستانیت کا پیغام

Story by  منصورالدین فریدی | Posted by  [email protected] | Date 08-01-2026
عالمی تبلیغی اجتماع میں ہندووں کی خدمت بنی ہندوستانیت کا پیغام
عالمی تبلیغی اجتماع میں ہندووں کی خدمت بنی ہندوستانیت کا پیغام

 



نئی دہلی /آواز دی وائس

 مغربی بنگال کے ضلع ہگلی میں واقع پوئنن گاؤں میں دو سے پانچ جنوری تک چار روزہ عالمی تبلیغی اجتماع منعقد ہوا جس میں ملک کے مختلف حصوں سے آئے لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ یہ اجتماع نہ صرف دینی اور اصلاحی پیغام کے اعتبار سے اہم رہا بلکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارے کی ایک روشن مثال بھی بن کر سامنے آیا۔

اجتماع کے دوران ایک منفرد منظر دیکھنے کو ملا جہاں بڑی تعداد میں ہندو بھائیوں نے بڑھ چڑھ کر خدمت انجام دی۔ کوئی چائے پلا رہا تھا کوئی بسکٹ تقسیم کر رہا تھا اور کوئی پانی کی بوتلیں مہمانوں کو پیش کر رہا تھا۔ بعض مقامی افراد نے اجتماع گاہ کی مٹی کو تبرک کے طور پر محفوظ کرتے ہوئے اسے عقیدت کی علامت قرار دیا۔ یہ سب مناظر اس بات کا عملی ثبوت تھے کہ انسانیت اور محبت مذہبی سرحدوں سے بالاتر ہو سکتی ہے۔

یہ چار روزہ اجتماع تقریباً پندرہ کلو میٹر طویل علاقے میں پھیلا ہوا تھا۔ اس کے لیے استعمال کی گئی زمین کا بڑا حصہ مقامی ہندو کسانوں کی ملکیت تھا جنہوں نے خوش دلی کے ساتھ اپنی زمین اجتماع کے لیے فراہم کی۔ انتظامیہ کے مطابق کسانوں کو ان کی فصل کی مکمل قیمت ادا کی گئی اور کھیتوں کو ہموار کر کے اجتماع کے لیے تیار کیا گیا۔ مقامی باشندوں کا کہنا تھا کہ کسی بھی مذہب کا روحانی اجتماع انکے لیے خوشی اور فخر کا باعث ہوتا ہے۔

 ایک مقامی باشندے سبروتو کا کہنا تھا کہ میری ساڑھے تین بیگھا زمین اجتماع گاہ میں استعمال کی گئی،ہمیں خوشی ہے کہ ہماری زمین ایک اچھے کام میں استعمال کی گئی ہے جبکہ میں اپ کو بتا دوں کہ اجتماع کے لیے بیشتر زمین دینے والے ہندو ہی ہیں مسلمانوں کی زمین اس میں کم ہے 

 مقامی ہندو باشندوں نے تبلیغی اجتماع کے انعقاد پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ ہر مذہبی اجتماع کی حمایت کرتے ہیں خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو اور ایسے پروگرام انہیں دلی مسرت دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روحانی اور مذہبی سرگرمیاں معاشرے میں امن اور بھائی چارے کو فروغ دیتی ہیں۔ اس اجتماع کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی رہی کہ تبلیغی اجتماع کے لیے مقامی کسانوں نے خوشی خوشی اپنی زمین فراہم کی۔ مزید یہ کہ کسانوں کی فصل کو ہونے والے ممکنہ نقصان کی تلافی کے لیے تبلیغی جماعت کی جانب سے انہیں ان کی فصل کی مکمل قیمت ادا کی گئی تھی 

اجتماع کے آخری دن مولانا سعد نے دعا کرائی جس میں پوری دنیا کے لیے امن سکون اور بھائی چارے کی خصوصی دعا کی گئی۔ ان کی دعا میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شریک نظر آئے جو کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے تھے۔ جو کہ اس اجتماع کا سب سے مضبوط پیغام بن کر ابھرا۔

ہگلی میں منعقد ہونے والا یہ عالمی تبلیغی اجتماع مغربی بنگال ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے لیے ایک مثبت پیغام چھوڑ گیا کہ محبت سب سے بڑی طاقت ہے شانتی سب سے قیمتی دولت ہے اور بھائی چارہ ہی سب سے بڑی خدمت ہے۔