خطبہ حج :جب عبدالکریم العیسیٰ نےمسلمانوں کو اخلاق، رواداری اقدار کا پیغام دیا

Story by  منصورالدین فریدی | Posted by  [email protected] | Date 09-07-2023
خطبہ حج :جب عبدالکریم العیسیٰ نےمسلمانوں کو اخلاق، رواداری اقدار کا پیغام دیا
خطبہ حج :جب عبدالکریم العیسیٰ نےمسلمانوں کو اخلاق، رواداری اقدار کا پیغام دیا

 

 آواز دی وائس : نئی دہلی 

مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اخلاق کو اختیار کریں اور آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رواداری اور اقدار کا خیال رکھیں۔ ایک دوسرے سے اچھے اخلاق سے بات کریں۔ مسلمان ہو یا غیر مسلم، ہر کسی سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے کلام میں نرمی پیدا کریں اور انتہائی محبت کے ساتھ گفتگو کریں، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے لوگوں کے ساتھ اچھے رویے اور اچھے انداز سے گفتگو کریں۔

 یہ پیغام یا نصیحت رابطہ عالم اسلامی کے سربراہ شیخ محمد بن عبد الکریم العیسی  کی ہے جو انہوں نے پچھلے سال خطبہ حج میں دیا تھا۔دراصل متعدد ایوارڈز اور اعزازات حاصل کرنے والے العیسی کو ان کی زندگی کا سب سے بڑا خطبہ حج  کی شکل میں حاصل ہوا ۔ خطبہ حج میں العیسی نے جو باتیں لاکھوں عازمین کے سامنے بیان کی تھیں انہیں دنیا نے سراہا تھا۔

انہوں نے اپنی زندگی کے اس تاریخی اور روحانی موقع پر عالم اسلام کو ایک واضح پیغام دیا تھا  کہ ۔۔۔ اسلامی اقدارکا تقاضہ ہے کہ جو چیز نفرت کاباعث بنے اس سے دور ہو جائیں۔

 خطبہ حج میں  شیخ محمد بن عبد الکریم نے مزید کہا تھا کہ اللہ نے تقویٰ اختیار کرنے کی بار بار ہدایت کی ہے، تقوی اختیار کرنے والا اللہ کا قرب پاتا ہے اور اللہ نے فرمایا کہ متقی کے لئے جنت کی خوشخبری ہے۔

خطبہ میں انہوں نے کہا تھا کہ ۔۔۔  سب سے بڑی نعمت توحید ہے۔لوگو صرف اللہ کی عبادت کرو جس نے تمھارے لئے آسمان و زمین بنائے۔ دنیا کے مسلمانو، اللہ سے ڈرو کیونکہ اللہ سے ڈرنے میں ہی تمھاری کامیابی ہے۔ سارے انسان آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے بنے تھے۔ انسانیت کی قدر اور احترام کرنا مسلمانوں پر لازم ہے۔آپ کی مصیبت اللہ کے سوا کوئی دور نہیں کر سکتا۔ آخرت کی کامیابی بھی صرف اللہ کے احکامات کو ماننے میں ہے۔

ایک پیغام یہ تھا کہ ۔۔۔  حج ایسے ادا کرو جیسے نبی کریم نے ادا کیا۔ اللہ تعالی نے جن چیزوں سے بچنے کے لئے کہا اگر ہم ان سے بچ گئے تو ہمارا حج قبول ہو گا۔

 آپ کو بتا دیں کہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبد العزیز نے شیخ ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ کو حج 1443 ہجری کا خطیب مقرر کیا تھا۔

سعودی وزارت حج و عمرہ کے مطابق ڈاکٹر محمد بن عبد الکریم العیسیٰ رابطہ عالم اسلامی کے جنرل سیکریٹری اور علما کونسل کے رکن بھی ہیں۔

 یاد رہے کہ ڈاکٹر محمد بن عبد الکریم العیسیٰ وقوفہ عرفہ کے دن مسجد نمرہ میں خطبہ حج دیا تھا ۔

ڈاکٹر شیخ محمد بن عبدالکریم العیسی نے کہا  تھاکہ  شیخ محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تقویٰ اختیار کرنے کی بار بار تعلیم دی، حقیقتاً حج کا زاد راہ تقویٰ ہے، ہمیں چاہیے کہ ہم تقویٰ اختیار کریں اور تقویٰ توحید سے آتا ہے جس کی دعوت نبی اکرم سمیت تمام انبیائے کرام لے کر آئے۔

ڈاکٹر شیخ محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے خطبہ دیتے ہوئے کہا  تھا کہ اللہ رب العزت سے ڈرتے رہو جس طرح اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ تمہارے سب معاملات اللہ کے علم میں ہیں اور یہ بات ذہن نشین رکھو کہ اگر تم اللہ کا ڈر اور خوف اپنے دل و دماغ میں قائم رکھو گے تو اللہ ڈرنے والوں کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے تقویٰ اختیار کرنے کی بار بار تعلیم دی۔ ہمیں چاہیے کہ ہم تقویٰ اختیار کریں اور تقویٰ توحید سے آتا ہے۔ توحید اسلامی عقائد میں بنیادی جزو ہے۔

awazurdu

اے لوگو! اللہ رب العزت کی عبادت کرو کہ وہ تمہارا پروردگار اور تمہیں پیدا کرنے والا ہے اور تمہیں رزق دینے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی اقدار کا تقاضہ ہے جو چیز نفرت کا باعث بنے، اس سے دور ہو جاؤ۔ اللہ نے فرمایا متقی کے لیے جنت کی خوشخبری ہے۔ سارے انسان آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں اور آدم علیہ السلام مٹی سے بنے ہیں۔

اپنے خطبے میں انہوں نے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے اور یہی وہ دعوت ہے جسے تمام انبیائے کرام لے کر آئے۔ ہر نبی نے یہی دعوت دی کہ اللہ کی عبادت کی جائے اور اسی کی طرف رجوع کیا جائے۔ ہر نبی نے اپنی امت کو توحید کی دعوت دی حتیٰ کہ ہمارے نبی نے بھی توحید کی تعلیم دی۔'

ڈاکٹر شیخ محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ تمہیں دنیا کی کوئی بھی تکلیف پہنچے، وہ تکلیف بھی اللہ کی طرف سے ہے، جب تم اس تکلیف میں پڑ جاتے ہو تو اللہ رب العزت ہی تمہیں اس تکلیف سے نجات دلاتا ہے۔ کوئی اور نہیں جو تمہاری تکالیف کو دور کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ نبی اکرم نے خود فرمایا کہ اسلام کی بنیاد پانچ باتوں پر ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ کی وحدانیت کی گواہی دینا یعنی کلمہ طیبہ پڑھنا، نماز ادا کرنا، روزہ رکھنا، زکوٰۃ دینا اور حج کرنا' اور حقیقت یہ ہے کہ نماز اسلام کا بنیادی رکن ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ بے شک نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ رمضان کا مہینہ پاؤ تو روزے رکھا کرو۔ جب حج کا مہینہ آئے تو حج کریں کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے پاک کلام میں ارشاد فرمایا کہ اللہ نے استطاعت رکھنے والے تمام اہل ایمان پر حج فرض کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ حج جاتے ہوئے مہینوں میں ادا کیا جاتا ہے اور حج یہ ہے کہ اس میں کسی قسم کا ربط نہ کیا جائے۔ کوئی فسق و فجور کی بات نہ کی جائے، حقیقت یہ ہے کہ حج کا زاد راہ تقویٰ ہے۔'

خطبہ حج دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت ایسے کرو کہ گویا تم اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہے ہو اور اگر ایسا نہ ہو تو تمہیں اتنا احساس ہونا چاہیے کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اور خوف اختیار کرو کہ اللہ نے خود قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ 'مغفرت کی طرف تیزی سے دوڑو'۔

شیخ محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے کہاکہ نبی اکرم کے اخلاق عالیہ کے متعلق کلام مجید میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ بے شک آپ کے اخلاق سب سے اعلیٰ اور بلند ہیں۔ خطبہ حج دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اے حجاج اور اے تمام سننے والوں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمارے لیے یہ لازم کردیا ہے کہ ہم ایک دوسرے سے اخوت، محبت، اتحاد اور اتفاق کے ساتھ پیش آئیں اللہ کے نبی نے بھی ارشاد فرمایا کہ تم میں بہترین شخص وہ ہے جو لوگوں کو زیادہ فائدہ پہنچانے والا ہے۔

awazurdu

انہوں نے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات نے تمہارے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے الفت اور محبت پیدا کردی حالانکہ تم لوگ اس سے پہلے ایک دوسرے کے شدید ترین دشمن تھے۔ تمہارے درمیان اختلاف تھا، اللہ تعالیٰ نے رسول پاک کے سبب تمہارے درمیان سے اختلاف دور کردیا ۔ تمہارے درمیان الفت اور آپس میں محبت اور بھائی چارہ پیدا کردیا۔انہوں نے کہاکہ آپ نے فرمایا کہ میدان عرفات میں عرفات کے دن کثرت کے ساتھ اللہ کا ذکر کریں اور اللہ کو یاد کریں۔ اے حجاج کرام اسی عرفات کے میدان میں حضور اکرم پر یہ آیت نازل ہوئی کہ آج ہم نے تمارے اوپر تمہارا دین مکمل کردیا اور اللہ تعالیٰ نے اسلام کو بحیثیت دین پسند فرما دیا، میدان عرفات میں جو دعا کی جاتی ہے۔ اللہ تبارک تعالیٰ اس دعا کو قبول فرماتا ہے'