نئی دہلی : آواز دی وائس
غرارہ صرف ایک لباس نہیں ہے۔ یہ ایک تہذیب ہے۔ یہ ایک وراثت ہے جو میرے شہر کی طرف سے ملی ہے۔رامپور کے غرارے ایک ریاست کی نواب زادیاں پہنا کرتی تھیں۔ وہ خود کو خوبصورت اور شاہانہ دکھانے کے لئے یہ پہنتی تھیں۔رامپور کا غرارہ ایک بہت شاہی لباس ہے۔
رامپور کے غرارے کو فیشن کی دنیا میں نئے انداز میں پیش کرنے والی شائلہ خان نے ان خالات کا اطہار آواز دی وائس سے بات کرتے ہوئے کیا ۔ انجلی ادا کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ یہ ایک قدیم فن ہے جو ختم ہونے کے قریب تھا۔ ۔ 1774 میں نواب فیض اللہ خان رامپور آئے تھے اور اپنے ساتھ بہت سے ہنر مند لائے تھے۔ وقت کے ساتھ یہ فن ختم ہونے لگا۔
شائلہ خان کا کہنا ہے کہ اس پروفیشنل کی جانب رخ کرنا محض ایک اتفاق ہے۔ یہ خیال کیسے آیا۔ اس کے پیچھے ایک کہانی ہے۔ میں صرف فیشن ڈیزائنر نہیں ہوں بلکہ ایک وکیل اور سماجی کارکن بھی ہوں۔ میں نے اپنے شہر سے انتخاب بھی لڑا۔ جب میں ووٹ مانگنے کے لئے مختلف جگہوں پر گئی تو میں نے دیکھا کہ بہت سے کاریگر یہ کام کر رہے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ اس کام کے باوجود ہم اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی بھی نہیں دے سکتے۔ یہ بات مجھے بہت تکلیف دہ لگی۔


شوہر سے طلب کی مدد
شائلہ خان کہتی ہیں کہ انہوں نے اپنے شوہر سے بات کی کہ میں ان کاریگروں کی مدد کرنا چاہتی ہوں۔ شروع میں بہت مخالفت ہوئی۔ خاندان نے کہا کہ آپ یہ کام نہیں کر سکتیں۔ لیکن میری نیت صاف تھی۔ میں نے انسٹاگرام پر رامپور کے غرارے کے نام سے کام شروع کیا۔ آہستہ آہستہ آرڈر آنے لگے اور خاندان نے بھی ساتھ دینا شروع کیا۔
قیدیوں کو سکھایا ہنر
شائلہ خان نے کہاکہ 2017 کے بعد میں نے اس پر کام شروع کیا تو معلوم ہوا کہ صرف ایک کاریگر رہ گیا ہے۔ میں نے انتظامیہ کو بتایا۔ انہوں نے اس فن کو بچانے میں مدد کی۔ یہاں تک کہ جیل کے قیدیوں کو بھی یہ ہنر سکھایا گیا تاکہ وہ باہر آ کر روزگار حاصل کر سکیں۔ میں نے اسے او ڈی او پی میں شامل کروایا اور اب اسے جی آئی ٹیگ دلانے کی کوشش جاری ہے۔
لباس شاہی ہے مگر ہے عام پسند
پہلے یہ شاہی لباس عام لوگوں کی پہنچ سے باہر تھا کیونکہ اس میں سونے اور چاندی کے تار استعمال ہوتے تھے۔ اب یہ اسٹیل اور دوسرے دھاتوں میں بھی بنتا ہے جس سے عام لوگ بھی خرید سکتے ہیں۔ ہم ایک دلہن کا لباس مناسب قیمت میں تیار کرتے ہیں۔ آج یہ لباس عام لوگوں تک پہنچ چکا ہے۔میرے بہت سے کلائنٹس ہیں۔ انسٹاگرام پر میرے 300 فالوورز ہیں اور 15 ملین کے قریب ریچ ہے۔ میرے پاس دنیا بھر سے آرڈرز آتے ہیں۔ میرا شو روم دہلی شاہین باغ اوکھلا میں ہے اور مزید شاخیں کھولنے کی کوشش جاری ہے۔ اس سے کاریگروں کو روزگار بھی مل رہا ہے۔
لباس کی واپسی
غرارہ اور شرارہ میں فرق یہ ہے کہ غرارہ روایتی اور زیادہ شاہی ہوتا ہے۔ 2018 کے بعد غراروں کا زبردست رجحان واپس آیا ہے۔ میرے کپڑوں کی نقل بھی بنائی جاتی ہے لیکن میری سوچ کی نقل ممکن نہیں۔ میرا مقصد صرف کاروبار نہیں بلکہ کاریگروں کو روزگار دینا ہے اور ان کے بچوں کو بہتر مستقبل دینا ہے۔
میرے کئی مشہور شخصیات بھی کلائنٹ ہیں جیسے ثناء رحمان۔ ہم نے اپنے ملبوسات مختلف لوگوں کو پہنائے ہیں۔ ادھو ٹھاکرے کو شال دی گئی۔ زرین خان اور ابو عظمیٰ بھی ہمارے کلائنٹس ہیں۔میں ہندوستان سے باہر بھی کپڑے بھیجتی ہوں۔ زیادہ تر کینیڈا امریکہ دبئی اور لندن جاتے ہیں۔ میرے کلائنٹس میں سکھ حضرات کی تعداد زیادہ ہے۔ لباس کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔


کامیابی کا سہرا ماں کے سر
شائلہ خان کہتی ہیں کہ اپنی کامیابی کا سہرا اپنی والدہ کو دیتی ہوں۔ انہوں نے مجھے غرارہ کاٹنا اور بنانا سکھایا۔ آج میں اس فن کی باریکیوں کو سمجھتی ہوں۔ میرا خاندان اور میرے بچے بھی میرا ساتھ دیتے ہیں۔
خدمت کا مشن
میرا مستقبل کا مقصد لوگوں کی خدمت کرنا ہے۔ چاہے کاریگروں کو روزگار دینا ہو یا سیاست کے ذریعے عوام کی خدمت کرنا ہو۔ میں ہمیشہ اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑی رہوں گی۔بطور وکیل میں خواتین کے حقوق کے مقدمات زیادہ لیتی ہوں۔ میں چاہتی ہوں کہ خواتین مضبوط بنیں اور زندگی کے ہر شعبے میں آگے بڑھیں۔میں خود کو ایک عورت مانتی ہوں۔ ایک عورت کے اندر کئی طاقتیں ہوتی ہیں۔ جیسے ماں کے کئی روپ ہوتے ہیں ویسے ہی شائلا خان کے بھی کئی روپ ہیں۔