اردو شعرا کا محبوب موضوع : دیپاولی

Story by  اے ٹی وی | Posted by  [email protected] | 3 Months ago
اردو شعرا کا محبوب موضوع : دیپاولی
اردو شعرا کا محبوب موضوع : دیپاولی

 

سید تالف حیدر 

اردو شاعری میں ہندوستان کی  تہذیبی علامتوں  کے جن عناصر کو سب سے زیادہ استعمال میں لایا گیا ہے ان میں تہواروں کی اہمیت اول درجے کی ہے۔ ہولی، دیوالی، بسنت ،  بیساکھی، بھیا دوج، راکھی اور ایسے ہی دوسرے تہوار جن کو شاعروں نے تہذیبی  علامت کے طور پہ   اپنی نظموں اور غزلوں میں سجایا ہے۔  لیکن ان تہواروں میں بھی دیوالی کو جو خاص اہمیت حاصل ہے وہ کسی دوسرے تہوار کو نہیں۔ نظیر اکبر آبادی اپنی ایسی نظموں کے لیے مشہور ہیں ۔جنہوں نے ہندوستانی تہواروں کو خاص طور پہ اپنا موضوع بنایا ۔ لیکن دیوالی کے لیے ہم صرف نظیر کے محتاج نہیں کیوں کہ ایسے مسلم اور غیر مسلم اردو شعرا کی ایک طویل فہرست ہے جن کے یہاں دیوالی کی روشنیاں شاعری کے رنگوں میں گھل کر مسکراتی ہوئی  نظر آتی ہیں ۔بالخصوص مسلم شعرا میں نظیر اکبر آبادی کے علاوہ نذیر بنارسی، حیدر بیابانی، جمیل مظہری، وسیم بریلوی،آنس معین، ممتاز گورمانی، عبید اللہ علیم، منظر بھوپالی، جمیل الدین عالی اور مخدوم محی الدین  جیسے کئی  اہم شعرا  کے نام شامل ہیں ۔ان سب نے دیوالی کے روشن تہوار کو اپنی وراثت کے طور پہ ظاہر کیا ہے۔ ان کے کلام سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے دیوالی کسی ایک خاص مذہب کے ماننے والوں کا نہیں بلکہ ہندوستان میں بسنے والے ہر مذہب اور طبقے   سے تعلق رکھنے والےشخص کا تہوار ہے۔ نذیر بنارسی جب اپنی نظم دیپاولی میں یہ کہتے ہیں کہ

گھٹ گیا اندھیرے کا آج دم اکیلے میں

ہر نظر  ٹہلتی ہے  روشنی  کے میلے میں

آج ڈھونڈھنے  پر بھی  مل سکی نہ تاریکی

موت کھو گئی شاید  زندگی کے ریلے میں

تو ایسا لگتا ہے جیسے وہ اپنے ہمسایوں کا نہیں بلکہ اپنے گھر آنگن کا قصہ سنا رہے ہیں ۔جس سے وہ ساری تفریق مٹ جاتی ہے جو ایک خاص ذہنیت کے زیر اثر  فروغ پاتی ہے۔ یہاں نذیر خود کو ایک ہندوستانی کی طرح پیش کرتا ہے جس میں مذہب کے تمام رنگ دیوالی کی روشنیوں میں گھل کر مٹ چکے ہیں  اور شاعر ایک بچے کی طرح ان دیوں سے  لطف انداوز ہو رہا ہے جو اس کے گھر آنگن کو روشن کر رہے ہیں ۔ حیدر بیابانی نے بھی اپنے ایسے ہی شدید احساسات کا اظہار کیا ہے کہ دیوالی   انہیں عید سے بڑھ کر خوشی کا موقع لگتی ہے۔ ان کے احساسات کی شدت ملاحظہ کیجیے:

دیوالی کے دیپ جلے ہیں ،یار سے ملنے یار چلے ہیں

چاروں جانب دھوم دھڑاکا،چھوٹے راکٹ اور پٹاخہ

گھر میں پھلجھڑیاں بھی چھوٹے، من ہی من میں لڈو پھوٹے

دیپ جلے ہیں گھر آنگن میں ، اجیارا  ہوجائے من میں

یہ کسی طور ایک ایسے معاشرے کا کلام نہیں جہاں  تہواروں کو قوم  کے الگ الگ دھاروں میں بانٹا جاسکے۔ یہ تو ایسی سچی خوشیوں کااظہار ہے جس میں ساری اقوام ایک دھارے میں آ جائیں اور ایک خاص دن پہ اپنی ہر شناخت بھول کر ایک تہوار کی شناخت کا لباس پہن لیں۔ اردو شاعری نے ہمیشہ اسی بات کا پیغام عام کیا ہے کہ ہندوستانی رنگ ایک ایسا پختہ رنگ ہے جس کا تلک اگر آپ کے ماتھے کی زینت ہے تو آپ کی ہر  طرح کی پہچان ایک ہندوستانی کی پہچان میں ضم ہو جاتی ہے۔ دیوالی ایسی پہچان کو فروغ دینے کی ایک علامت ہے۔ یہ تہوار صرف بچوں کے لیے روشنیوں کا سامان نہیں کرتا ، بلکہ یہ ہمارے دلوں  میں یک جہتی کا ایسا دیا جلاتا ہے جو نفرت کے اندھیروں پہ غالب آجائے۔اسی لیے اسے وسیم بریلوی نے ایک معصوم امنگ سے تعبیر کیا ہے۔ان کا شعر ہےکہ

دیوالی  کی رات آئی  ہے تم دیپ جلائے بیٹھی ہو

معصوم امنگوں کو اپنےسینے سے لگائے بیٹھی ہو

یہ وہی معصوم امنگیں ہیں جن کو بیان کرنے کی ابتدا نظیر  اکبر آبادی نے کی تھی ۔ ان کی نظم دیوالی کا مطالعہ کرو تو اٹھارویں اور انیسویں صدی کے ہندوستان کی وہ جھلکیاں نظر آتی ہیں جہاں ہندو مسلم ایک ساتھ اس تہوار کو کتنے جوش و خروش سے مناتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ یہ نظیر کا ہی فیضان ہے کہ انہوں نے اردو شاعری میں پہلی مرتبہ اس طرح اپنا تہوار بنا کر  پیش کیا اور اسے ایسی زبان میں بیان کیا جس سے اگلے وقتوں کے شاعروں کو تہذبی اخلاقیات کی ایک نئی راہ ملی اور عوام کو یہ سبق ملا کہ کس طرح ہم آہنگی  کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ اردو شاعری میں دیوالی کے روشن دیئے اب صرف شاعری تک نہیں بلکہ اس ادب کی ہر صنف میں ایسے ہی روشن  ہوتے چلے جا رہے ہیں جس طرح انہیں نظیر نے اول اول روشن کیا تھا اور خوشی کی بات یہ ہے کہ یہ روشنی اب اردو زبان کے دنیا بھر کے لکھنے والوں میں پھیلتی چلی جارہی ہے   جو  ہمارے ادب کو دنیا کے دوسرے ادبی میلانوں سے جدا کرتی ہے۔