مصر : دنیا کی سب سے قدیم تہذیب کے رنگ

Story by  ایم فریدی | Posted by  [email protected] | 17 d ago
مصر : دنیا کی سب سے قدیم  تہذیب کے رنگ

 

مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی ملک کے 74ویں یوم جمہوریہ کی تقریبات کے مہمان خصوصی ہیں، 24 جنوری کو ہندوستان کے دورے پر پہنچ رہے ہیں۔ السیسی 25 جنوری کو وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ دو طرفہ میٹنگ میں شرکت کریں گے اور اگلے دن 26 جنوری کو کرتویہ پتھ پر یوم جمہوریہ کی پریڈ میں بطور مہمان خصوصی شرکت کریں گے۔ سفارتی طور پر اس دورے کو ہندوستان اور مصر کے درمیان ایک نئے دور کا آغاز مانا جارہا ہے ہے اس موقع پر ہم آپ کو بتائیں گے کہ ہندوستان اور مصر کے تعلقات کتنے اہم ہیں - ہم آپ کو بتائیں گے سلسلہ وار طور پر مصر کی تہذیب ،ثقافت اور سیاست کے کیا رنگ ہیں۔


علی احمد 

مصر کو قدیم تہذیب کا گہوارہ کہا جاتا ہے۔ مصر میں موجود تاریخی آثار پوری دنیا سے سیاحوں کو اپنی جانب کھینچتے ہیں۔ مصری حنوط شدہ لاشیں یعنی ’’ممیاں‘‘ پوری دنیا میں مصر کی پہچان ہیں۔ اس ملک کو فرعون اور حضرت موسیٰؑ کے حوالے سے انسانی تاریخ میں بھی خصوصی مقام حاصل ہے۔ قدیم مصر کے رہنے والے لوگ اپنے زمانے کے مانے ہوئے نامور اور شہرت یافتہ تہذیب کے مالک تھے۔ ان کی تہذیب سے بہت بڑا علاقہ متاثر ہوا۔

تقریباً آٹھ ہزار سال پہلے مصری لوگ کسان تھے۔ پھر چند صدیوں ہی میں مصر دنیا کی طاقتور قوموں میں شمار ہونے لگا۔ مصر میں بادشاہوں (فرعونوں) کے لیے مقبرے تعمیر کیے جاتے تھے جو دریائے نیل کے مغربی کنارے پر ہوتے جہاں سورج غروب ہوتا ہے۔ وہ اس عقیدے کے قائل تھے کہ ان کا بادشاہ مرا نہیں، بلکہ سورج دیوتا سے ملنے گیا ہے۔

قدیم مصری لوگ دریائے نیل کے کنارے آباد تھے، جہاں پانی کی بہتات کی وجہ سے وہ کھیتی باڑی کر سکتے تھے۔ یہ لوگ دور دراز کی دنیا کے بارے میں نہیں جانتے تھے البتہ ایشیا اور افریقہ کے بارے میں خاصی معلومات رکھتے تھے۔ ان کے سوداگر نزدیکی ممالک سے لکڑی، سونا، ہاتھی دانت، گرم مسالے حتیٰ کہ بندر وغیرہ بھی لا کر تجارت کرتے تھے۔ مصری لوگ عمدہ طرز پر کھیتی باڑی کرتے تھے اور اس وجہ سے جلد دولت مند ہو گئے تھے۔ یہ اپنے دیوتاؤں کے لیے اعلیٰ درجے کی خوبصورت عبادت گاہیں تعمیر کرتے تھے۔ ان کے پاس فوج، بحری جہاز اور اعلیٰ نظام موجود تھا۔ ان کے ماہر فلکیات ستاروں کا علم جانتے تھے۔ ماہر کاریگر سونے چاندی سے بہترین زیورات تیار کرتے تھے۔

اس دور میں مصر پر حکومت کرنے والے بادشاہوں کو فرعون کہا جاتا تھا۔ وہ انہیں دیوتا جیسا مقام دیتے تھے۔ دنیا کی پہلی خاتون حکمران کا تعلق بھی غالباً مصر سے تھا۔ انسانی تاریخ کی اولین خاتون حکمرانوں میں ہٹشپ سوٹ شامل تھی۔ جب اس کا کم سن بھتیجا تخت نشین ہوا تو اس خاتون کو مصر پر اس کمسن بادشاہ کے قائم مقام کے طور پر حکومت کرنے کی دعوت دی گئی، تاوقتیکہ وہ بڑا ہو جائے، مگر ملکہ کو حکومت اور اقتدار کا ایسا چسکا لگا کہ اس نے اپنے بھتیجے کو پھر حکومت نہ کرنے دی۔ اس نے 1458 ق م سے 1478 ق م تک قدیم مصر پر حکومت کی۔

فرعون عام طور پر تاج پہنتے تھے، بعض اوقات فرعون دو تاج بیک وقت پہنتے تھے۔ یہ تاج مصر کے دو مختلف علاقوں کی نشاندہی کرتا تھا۔ لکسر شہر میں مصر کے کئی آثار قدیمہ موجود ہیں۔ اسے ’’بادشاہوں کی وادی‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ شہر دریائے نیل کے عین کنارے پر واقع ہے۔ اسی لیے یہ فرعونوں کا منظور نظر اور دارالحکومت رہا۔ انہوں نے اس شہر میں بے شمار عمارتیں تعمیر کرائیں۔یہاں فرعونوں کے بہت سے مقبرے ملے ہیں۔ ان میں توتن خامن اور اس کی بیوی سیتی کے مقابر بہت شاندار ہیں۔ قدیم مصر کے آثار دیکھنے کے لیے سیاح بڑی تعداد میں مصر کا رخ کرتے ہیں۔

قدیم مصری تہذیب کیسی تھی؟

جب قدیم مصری تہذیب کا ذکر آتا ہے تو عموماََ اہرام مصر اور ان کی تعمیر بارے محققین کا اختلاف یا نعشوں کو حنوط کرنے کے طریقے کی طرف ہمارا ذہن جاتا ہے۔ لیکن قدیم مصری تہذیب کا تعارف محض یہی نہیں ہے۔ اس کے متعلق اور بھی بہت ساری دلچسپ واہم معلومات ہیں جنہیں کم لوگ جانتے ہیں۔ ان میں سے بعض کا ذکر ہم یہاں کریں گے۔

تعلیم: اُس دور میں تعلیم کو بہت اہمیت حاصل تھی۔ کسانوں کے بچے لکھنے پڑھنے کی ابتدائی مہارت کے ساتھ زراعت کی خصوصی تعلیم حاصل کیا کرتے تھے۔ مڈل کلاس خاندان اپنے بچوں کو تعلیم کے لیے معبدوں میں بھیجتے تھے، جبکہ اشرافیہ کے ہاں تعلیم وتربیت کے لیے الگ مدارس ومعلمین کا انتظام تھا۔منطق، ریاضی اور روحانیت کی تعلیم سب کے لیے لازمی تھی۔ شواہد کے مطابق لکھنے پڑھنے کی عمر 13 سے 19 سال مقرر تھی۔

حروف تہجی

صنفی تفریق۔ عہدِ فراعنہ میں مردو عورت کے مابین فرق کے تصور کے آثار نہیں ملتے۔ اکثر محققین کی رائے ہے کہ عورتوں کو قانونی طور پہ مردوں کے برابر درجہ حاصل تھا۔ عورتیں وراثت اور اپنی ملکیت کے مال متاع میں وصیت لکھا کرتی تھیں۔ زراعت کا نظام تھا توعورتیں کھیتوں میں مردوں کے ساتھ مل کر کام کرتی تھیں۔ بادشاہت کے منصب پر بھی کئی خواتین براجمان رہیں۔ البتہ گے رابنز کے خیال میں صنفی تفریق کی مثالیں بھی موجود ہیں، جیسے کہ معبدوں میں عورتیں کاہن نہیں بن سکتی تھیں، اسی طرح سرکاری سطح پر معبدوں میں عورتوں کا تقرر نہیں کیا جاتا تھا۔ عورتوں اور مردوں کے بین صنفی تفریق نہیں تھی۔

شعرو ادب۔ قدیم مصری تہذیب میں شعرو ادب پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی تھی۔ اشعار میں تخیل کا پیرایہ اتنا لطیف اور جاذب ہے کہ اسے قدیم کہنا زیادتی ہوگی۔ بیسویں صدی میں ماہرین آثار قدیمہ نے ایسی تختیوں کی دریافت کی جن پر اُس عہد کے شعرا کے فن پارے درج تھے۔ جب ان کا ترجمہ کیاگیا تو وہ ایسی تشبیہات وکنائے اور استعاروں پر مشتمل تھے کہ لوگ ان کے سحر میں گرفتار ہوگئے۔ کینیڈین شاعرہ مصنفہ سونیا پلیسیدو نے اپنی کتاب

the love poetry of ancient Egypt

میں قدیم مصری تہذیب کے اشعار کا انگریزی ترجمہ پیش کیا ہے۔ عہد فراعنہ میں شعر کی تمام اصناف پر طبع آزمائی کی گئی تھی۔ دینی وتعلیمی اشعار لکھے گئے، شادی کے مواقع کے لیے دوہے قسم کی الگ ایک صنف تھی، محبت ورومانس کا اظہار بھی اشعار کی صورت میں کیا جاتا تھا۔ ان سب میں وزن اور قافیے کی رعایت موجود تھی۔

ایک رہاعی کا ترجمہ یہ ہے

میں گھر سے نہیں نکلوں گا اور بستر پر سوجاؤں گا

جھوٹ بول دوں گا اور کہوں گا میں بیمار ہوں

سب مجھے پوچھنے اور تیمار داری کے لیے آئیں گے

ان کے ساتھ میری محبوبہ بھی آجائے گی

ایک اور شعر کا ترجمہ یوں ہے:

جیسے شراب اور پانی مل کر یک جان ہوجاتے ہیں

میری رُوح میں تمہاری محبت یوں ہی جذب ہوگئی ہے

رہن سہن اورعادات

عہد فراعنہ میں لوگ سونے کے لیے  پتھر کے تراشے ہوئے مخصوص تکیوں کا استعمال کرتے تھے۔ ان کی شکل دیکھ کر شاید یقین نہ آئے لیکن اس کی تصدیق ہو چکی ہے۔

پتھر سے بنایا گیا تکیہ

اس دور کے لوگ بلیوں سے شدید اُنس رکھتے تھے حتیٰ کہ ان کی پوجا بھی کی جاتی تھی۔ کسی گھر میں بلی کی وفات ہوجاتی تو گھر کے تمام افراد غم میں اپنی بھنویں مونڈ دیتے تھے۔ بلی کو قتل کرنے پر موت کی سزا مقرر تھی۔

بلی سے شدید انس رکھا جاتا

مصریوں نے جن خداؤں کی پوجا کی تھی ان کی تعداد 1400 ہے۔

جو بادشاہ تخت نشین ہوتا وہ اپنی عبادت کا حکم جاری کرتا تھا

بعض حکام فراعنہ خود کو مکھیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنے قریب میں کچھ غلام بٹھاتے تھے جن پر شہد مَلا ہوتا تھا،اس طرح مکھیاں ان پر بیٹھتیں اور حکام تنگ نہ ہوتے۔

آخری خاتون فرعونِ مصر کلوپیٹرا نسلاََ مصری نہیں تھی بلکہ یونانی تھی۔

کلوپیٹرا کا مجسمہ

شادی کے موقع پر عورت مرد کے درمیان انگوٹھیوں کے تبادلے کی رسم سب سے پہلے مصری تہذیب میں شروع ہوئی۔

شہد اور تیل کے زیادہ استعمال کی وجہ سے زیادہ تر مصری موٹاپے کا شکار تھے اور اس سے پریشان رہتے۔ دبلا ہونا خوبصورتی کی علامت تھا جیساکہ دیواروں پر تصویروں کے نقش سے واضح ہوتا ہے۔

تصویری نقوش میں لوگوں کو دُبلا دکھایا جاتا ہے

جب کوئی خاتون بچے کو جنم دیتی تو اس کا خیال رکھنے کے لیے اس کے شوہر کو کچھ دنوں کے لیے کام سے چھٹی دی جاتی تھی۔