دلی بک فیئر: خسرو فاؤنڈیشن کی کتابیں بن رہی ہیں توجہ کا مرکز

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 17-01-2026
دلی بک فیئر: خسرو فاؤنڈیشن کی کتابیں بن رہی ہیں توجہ کا مرکز
دلی بک فیئر: خسرو فاؤنڈیشن کی کتابیں بن رہی ہیں توجہ کا مرکز

 



نئی  دہلی :راجدھانی کے بھارت منڈپم میں منعقدہ عالمی کتاب میلے کی رونق انتہا پر ہے ۔ ہر روز لاکھوں افراد  کی آمد کا سلسلہ جاری ہے ۔ قابل غور بات یہ ہے کہ کتابی میلے میں  خسرو فاؤنڈیشن کی جدید اسلامی فکر اور تعمیری بیانیے پر مبنی کتابیں لکھاریوں محققین طلبہ اور رائے سازوں میں خاص طور پر مقبول ہو رہی ہیں۔ یاد رہے کہ دہلی میں قائم خسرو فاؤنڈیشن اردو ہندی اور دیگر زبانوں میں معیاری ادب کی تخلیق پر کام کرتی ہے تاکہ ہندوستان کے لوگوں میں حوصلہ پیدا ہو اتحاد بڑھے اور باہمی یکجہتی مضبوط ہو۔ فاؤنڈیشن نے کتاب میلے کے موقع پر معروف مصنفین کی کئی کتابیں جاری کیں اور ان پر مباحثوں کا بھی اہتمام کیا۔

خسرو فاؤنڈیشن کے اسٹال پر جن اہم کتابوں کی سب سے زیادہ مانگ ہے ان میں مصطفیٰ اکیول کی کتاب ری کنسٹرکشن آف مسلم مائنڈ کا اردو ترجمہ مسلم اذہان کی تشکیل نو شامل ہے۔ اس کے علاوہ ترنگا آنچل محمد مشتاق تجاروی کی ہندی میں ترجمہ شدہ کتاب دارا شکوہ اور ہندوستان اردو شاعری کے حوالے سے بھی خاص توجہ حاصل کر رہی ہیں۔

 سال گزشتہ کی طرح اس سال بھی خسرو فاؤنڈیشن عالمی کتاب میلے میں شرکت کر رہا ہےاور حسب سابقہ کتابوں کی رونمائی بھی عمل میں آئی جن میں مصطفی اکیول کی انگریزی کتابReopening Muslim Minds کا اردو ترجمہ مسلم اذہان کی تشکیل نو، ترنگا آنچل اور دارا شکوہ کا ہندی ترجمہ شدہ کتابوں کے نام سرفہرست ہیں۔مسلم اذہان کی تشکیل نو کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ یہ مذہب اور عقل کے درمیان کسی تصادم کو تسلیم نہیں کرتی، بلکہ دونوں کو ایک دوسرے کے معاون قرار دیتی ہے۔ یہ کتاب ایسے دور میں عمل میں آئی ہے جب دنیا مذہب کے نام پر شدت پسندی، فکری جمود اور تہذیبی تصادم جیسے بحرانوں سے گزر رہی ہے۔ مصنف اس صورت حال کا تجزیہ جذباتی نعروں یا دفاعی رویوں کے بجائے فکری بصیرت اور تاریخی شعور کے ساتھ کرتے ہیں۔ وہ اس سوال کو مرکزی حیثیت دیتے ہیں کہ اسلام اپنی اصل فکری روح میں کیا تھا اور وقت گزرنے کے ساتھ اسے کس طرح محدود تصورات اور طاقت کے ڈھانچوں میں قید کر دیا گیا۔

  مولانا آزاد اردو یونیورسٹی کے   پروفیسر ڈاکٹر عمیر منظر نے کہا کہ عالمی کتاب میلے کے موقع پرخسرو فاؤنڈیشن کے اسٹال پر پہنچ کر یہ احساس ہواکہ خسرو فاؤنڈیشن نے ہندوستان کی تہذیبی ثقافتی علمی لسانی اور ادبی روایت کو فروغ دینے کی نہایت عمدہ کوشش کی ہے اور اسی تناظر میں یہاں سے شائع ہونے والی کتابوں کو دیکھا جانا چاہیے کہ ایک طرف جہاں ادب، تہذیب اور ثقافت کے مکالمے  فروغ دینے کی کوشش کی گئی ہے تو دوسری طرف مذہبی حوالوں سے بھی بعض موضوعات پر غور و فکر کی روایت قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

خسرو فاؤنڈیشن نے جو موضوعات قائم کیے ہیں انہیں نہ صرف لوگ نہایت توجہ اور غور فکر سے دیکھ رہے ہیں بلکہ ان کتابوں کی مانگ بھی بہت ہے۔یہاں سے شائع چند کتابوں کے نام اس طرح ہیںمسلم علماء کا مطالعہ ہندو دھرم،میرے وطن کی خوشبو،ترنگا آنچل،حج گائیڈ،محمد دارا شکو ہ اور ہندوستان اردو شاعری کے حوالے سے

 پروفیسر افشار عالم وائس چانسلر جامعہ ہمدرد کی کتاب ری اوپننگ مسلم مائنڈز کی رسم اجرا کے موقع پر اسلام اور جدیدیت کے موضوع پر ایک پینل مباحثہ منعقد کیا گیا۔

اس مباحثے میں ڈاکٹر شانتنو مکھرجی اور سراج الدین قریشی بطور ڈائریکٹرز خسرو فاؤنڈیشن اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔کتاب کی اجرائی تقریب کے بعد بین المذاہب مکالمے پر ایک سنجیدہ اور بامعنی گفتگو بھی ہوئی۔ ہم اپنے معزز مہمانوں اور مصنفین کے بے حد شکر گزار ہیں۔

 آپ کو بتا دیں کہ خسرو فاونڈیشن کا مقصد اسلام کے بارے میں درست معلومات پر غور و فکر کرنا انہیں تیار کرنا اور عام کرنا تاکہ جان بوجھ کر پھیلائی گئی یا لاعلمی پر مبنی غلط فہمیوں کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔اردو ہندی اور دیگر زبانوں میں معیاری ادب تخلیق کرنا تاکہ ہندوستان کے عوام میں حوصلہ پیدا ہو انضمام بڑھے اور اتحاد مضبوط ہو۔اس کے ساتھ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان فرقہ وارانہ ہم آہنگی رواداری اور باہمی سمجھ بوجھ کو فروغ دینا۔ مذہبی طریقوں نسلی شناخت اور ثقافتی پس منظر کے تنوع کو تسلیم کرتے ہوئے کثرتیت کی ایسی ثقافت کو فروغ دینا جہاں اختلاف کو بوجھ نہیں بلکہ قدر سمجھا جائے۔

خسرو فاونڈیشن ملک بھر میں امن و آشتی اور قومی یکجہتی کی فوری ضرورت کے بارے میں بیداری پیدا کرررہی ہے ۔مختلف ذرائع ابلاغ کے پلیٹ فارمز کے ذریعے اتحاد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا پیغام عام کرناہے ۔انسانی ہمدردی قانون کی بالادستی اتحاد اور باہمی بقائے باہمی کی اقدار کو معاشرے کے تمام طبقات میں ملک بھر میں فروغ دینا۔ساتھ ہی نوجوانوں پر خصوصی توجہ دینا تاکہ انہیں انتہا پسند یا پرتشدد گروہوں کے استعمال سے بچایا جا سکے۔ ان میں خود اعتمادی مثبت سوچ اور اعتماد پیدا کرنا اور قومی فخر کا گہرا شعور اجاگر کرنا ہے ۔