درگاہ اجمیرشریف:جانیے!دنیا کی سب سے بڑی دیگ کی عقیدت،نذرانہ اور تبرک کی تاریخ

Story by  اے ٹی وی | Posted by  [email protected] | 1 Months ago
 درگاہ اجمیرشریف:جانیے!دنیا کی سب سے بڑی دیگ کی عقیدت،نذرانہ اور تبرک کی تاریخ
درگاہ اجمیرشریف:جانیے!دنیا کی سب سے بڑی دیگ کی عقیدت،نذرانہ اور تبرک کی تاریخ

 

 زیبا نسیم ۔ ممبئی

دنیا کی سب سے بڑی دیگ ۔۔۔ عقیدت کے نام ۔۔۔ روحانیت کے نام ۔۔۔۔ جی ہاں !آپ جانتے ہیں یہ ہے 4800 کلو یا 120 من کی دیگ،اجمیر شریف میں حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ کی درگاہ پر تبرک کی دیگ ۔ جس میں خواجہ غریب نواز کے عقیدت مند نذرانہ پیش  کرتے ہیں۔جس میں تیار ہونے والا تبرک لاکھوں زائرین میں کیا جاتا ہے تقسیم ۔  یہ ہے حضرت معین الدین چشتی کی درگاہ کی کہانی۔جہاں اگر پچھلے آٹھ سو سال سے چادر کی روایت جاری ہے تو تبرک اور نذرانے کا دیگ بھی ایک تاریخ رکھتا ہے۔ درگاہ اجمیر شریف پر چادر چڑھانے کی روایت پر کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے سلطان التمش نے یہاں چادر چڑھائی تھی۔اسی طرح اجمیر شریف درگاہ کے بلند دروازے کے نزدیک دو بڑی دیگ ہیں۔ شہنشاہ  اکبر اور  مغل بادشاہ جہانگیر نے یہ دیگ خواجہ معین الدین چشتی کے دربار میں نذر کی تھی۔ خواجہ بزرگ کی درگاہ میں حاضری دینے والے ان دونوں دیگ میں نذرانہ پیش کرتے ہیں۔

حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ کی ذات والا سفات کسی تعارف کی محتاج نہیں ، لاکھوں انسانوں کے دلوں پرخواجہ خواجگان کی عقیدت کی مہر لگی ہوئی ہے۔ راجستھان میں واقع حضرت خواجہ غریب نواز کی درگا ہ اجمیر شریف کو برصغیرپاک و ہند میں موجود بزرگان دین کے مقدس مزارات میں سب سے اہم ترین سمجھا جاتا ہے۔ خواجہ صاحب برصغیر میں روحانی سلسلہ چشتیہ کے بانی ہیں، آپ قطب الدین بختیار کاکی، بابا فرید الدین گنج شکر اور نظام الدین اولیاء جیسے عالی القدر پیرانِ طریقت کے مرشد ہیں،غریبوں سے خاص شفقت اور بندہ پروری کرنے کی بناء پر عوام نے آپ کو غریب نواز کا لقب دیا ۔ حضرت خواجہ غریب نواز ایک ایسی قابل احترام شخصیت ہیں جن کے ماننے والے ہر مذہب سے تعلق رکھتے ہیں اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں، ایک محتاط اندازے کےمطابق روزانہ ایک لاکھ پچاس ہزار عقیدت مند درگاہ اجمیر شریف کی زیارت کرتے ہیں اور مختلف نوعیت کی دعائیں مانگتے ہیں۔ حضرت خواجہ غریب نوازؒ کی درگا ہ کو ملک میں موجود تمام اولیاء کرام اور بزرگان دین کے مزارات میں سب سے زیادہ مقدم تصور کیا جاتا ہے۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ کو سلطان ہند کا لقب بھی حاصل ہے۔تکوین(روحانی ایڈمنسٹریشن) کا علم رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ حضرت خواجہ غریب نواز متحدہ ہندو ستان کے معاملات اور روحانی امور کے انچارج تصور کیے جاتے ہیں۔

awazurdu

درگاہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ۔


دنیا کی سب سے بڑی دیگ کا اندرونی منظر


اجمیر شریف کی درگاہ میں بڑی دیگ میں تیار ہوتا لنگر کا ایک منظر


 بڑی دیگ

 درگاہ کے ایک صحن میں ہمیشہ چراغ جلتا رہتا ہے اس لئے اس احاطہ کو صحن چراغ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس احاطہ میں رکھی دیگ اکبر بادشاہ نے 1567 میں پیش کی تھی۔ چتوڑ پر فوج کشی کے وقت اس نے منت مانی تھی کہ " بعد فتح پیدل  حاضر اجمیر ہوکر ایک بڑی دیگ در بار خواجہ میں پیش کروں گا۔ چنانچہ بعد فتح اکبر تاریخ7 / رمضان 1567 اجمیر پہنچا اور آستانہ خواجہ بزرگ میں حاضر ہو کر ایک بڑی دیگ حضرت خواجہ کی نذرونیاز کے لئے تیار کرائی۔ اس میں سومن چاول پکتے ہیں۔ اس دیگ کا محیط 36 فٹ یعنی سوا بارہ گز ہے اور قطر ( ڈائمیٹر ) 132 فٹ یعنی یہ گیارہ انچ ہے۔ اس دیگ کی خاص بات یہ ہے کہ یہ دیگ آج سے ساڑھے چار سو سال پہلے بادشاہ اکبر نے اجمیر شریف میں دی گئی تھی، اس وقت سے لے کر آج تک اس دیگ میں ہر روز متعدد افراد کے لیے کھانا تیار کیا جاتا ہے۔آپ کو جان کر حیرت ہوگی کہ  4800 کلو کی اس دیگ میں لنگر کے کھانے کو تیار کرنے اور کھانا نکالنے کے لیے بھی سیڑھی کی ضرورت ہوتی ہے۔

چھوٹی دیگ

 ایک دیگ اکبر بادشاہ کے نام سے اور دوسری دیگ جہانگیر بادشاہ کے نام سے منسوب ہے۔ اکبر کی دیگ میں ایک سو بیس من (چار ہزار آٹھ سو کلو ) اور جہانگیر کی دیگ میں ساٹھ من یعنی کہ دو ہزار دو سو کلو  غذا پکائی جا سکتی ہے۔دونوں دیگیں خواجہ غریب نواز  کی درگاہ کے صحن میں لگائی گئیں ہیں۔ سیڑھیاں چڑھ کر دیگ تک پہنچا جاتا ہے۔ زائر ین سیڑھیاں چڑھ کر ان دیگوں میں نذرانے ڈالتے ہیں۔ مغل بادشاہ نورالدین جہانگیر نے یہ دیگ آگرہ میں تیار کرائی تھی۔ 1613 میں اجمیر حاضر آستانہ ہو کر اس میں کھانا پکوایا اور پانچ ہزار فقراء و مساکین کو اپنے سامنے کھلوایا۔

 

 نیاز کا کھانا

ان دیگوں میں پكنے والے نیاز کا کھانے میں چاول اور میدے کے علاوہ زعفران، گھی، گڑ، شکر، خشک میوے اور ہلدی جیسی چیزیں شامل کی جاتی ہیں۔ درگاہ کی انتظامی کمیٹی کے مطابق عام طور پر تو لوگ منت پوری ہونے پر چھوٹی دیگیں چڑھاتے ہیں لیکن بعض مخیر حضرات ان بڑی دیگوں میں بھی اکثر کھانا پکوا کر تقسیم کرتے ہیں۔ ان بڑی دیگوں میں کھانا پکانا ہر باورچی کے بس کا کام نہیں اکبر بادشاہ نے ایک خاص باورچی اس کام کے لیے متعین کیا تھا۔ اسی باورچی کا خاندان اب تک نسل در نسل یہ کام کر رہا ہے۔

اجمیر شریف میں دنیا کی سب سے بڑی دیگ میں تیار ہوتا تبرک


دیگ میں عقیدت مند  نذرانہ نچھاور کرتے ہیں جن میں  روپئے ،زیور اور دیگر اشیا شامل ہوتی ہیں 


awazurdu

بڑی دیگ کا تبرک عقیدت مندوں میں تقسیم کرتے ہوئے حاجی سلمان چشتی ،گدی نشین ،اجمیر شریف


 نذرانے کی روایت

آپ کو بتا دیں کہ سب  سے پہلے دیگ میں زائرین چندہ ڈالتے ہیں،جن میں نقدی،زیور کے ساتھ چاول اور دیگر چیزیں بھی ڈالتے ہیں۔ پھر اس دیگ میں کچھ رضا کار سیڑھی سے اندر اترتے ہیں ۔جو نذرانے کو بوریوں میں بھرتے ہیں ۔ پیسے اور چاول نکالنے کے بعد دیگ کو صاف کیا جاتا ہے۔ پائپ کی مدد سے پانی ڈالا جاتا ہے۔ پھر زعفرانی چاول اس میں ڈالے جاتے ہیں۔

کمرہ نما ہے چولہا

جب دیگ ایک سو بیس من کی ہوگی تو پھر دیگ کے لیے چولہہ بھی کوئی عام چولہہ نہیں ہے۔بلکہ ایک کمرے جتنی جگہ موجود ہے جس میں لکڑیاں رکھی گئی ہیں۔ ایک رکن جا کر ان لکڑیاں کو جلاتا ہے۔ اس دیگ میں ہلدی، میدہ ڈالا جاتا ہے۔ اس دیگ میں موجود کھانے کو پکانے کے لیے بھی ایک بڑا چمچہ استعمال کیا جاتا ہے۔ جو کہ 20 سے 25 فٹ کا ہوتا ہے۔ اس دیگ میں چاول ڈرائی فروٹس بھی استعمال کیے جاتے ہیں جو کہ بوریوں کی بوریاں لائی جاتی ہیں۔ اس دیگ میں چینی کی تین سے چار بڑی بڑی بوریاں انڈیلی گئیں۔ اس دیگ کے چمچے کو بھی ایک طرف سے رسیوں سے باندھا گیا ہے تاکہ ڈنڈے کی طرف سے دو آدمی ہلا سکیں اور دوسری طرف سے بھی دو آدمی دیگ میں موجود کھانے کو پکا سکیں۔

دیگ کی نیلامی

اجمیر درگاہ کی اس دیگ کو ہر سال نیلام کیا جاتا ہے ۔پچھلے سال اس دیگ کو تین کروڑ ۷۰لاکھ روپئے میں نیلام کیا گیا تھا۔ جو اس کو حاصل کرتا ہے  وہ تمام نذرانے کا حقدار ہوتا ہے جبکہ نیلامی کی رقم انتظامیہ کو مل جاتی ہے۔ ٹھیکہ دار عرس سے پہلے یہ رقم درگاہ کی انتظامی کمیٹی کو دے دیتا ہے اور ان دیگوں سے آنے والے نذرانے وہ حاصل کر لیتا ہے ۔دیگوں میں اناج، نقد رقم اور سونے چاندی کے زیورات ، منت پوری ہونے کی علامت کے طور پر ڈالے ہیں

خواجہ  معین الدین چشتی اجمیریؒ کی مجالس تعلیم و تلقین کے لیے مشہور  اور ان کی صحبت عظیم درسگاہ تھی۔خواجہ غریب نوازؒ کی مجالس میں تصرفات باطنی اور فیوض روحانی کی پیہم بارش ہوتی تھی ۔ان کا قول ہے کہ   نمازایک راز ہے کیونکہ نماز میں لوگ منزل گا ہ  عزت کے قریب ہوتے ہیں۔اس کے ساتھ نماز دین کا رکن ہے اور رکن ستون ہو تا ہے،    پس جب ستون قائم ہو گیا تو مکان بھی قائم ہو گا اور اگر ستون نکل جائے گا تو چھت گر پڑے گی ۔ یہی نہیں جو شخص جھوٹی قسم کھاتا ہے ، وہ اپنا گھر ویران کرتا ہے اور اس کے گھرسےخیر وبرکت اٹھ جاتی ہے۔ جبکہ محبت میں صادق وہ ہوتا ہے،جس پردوست بلا نازل کرے اور وہ اس کو خوشی سے قبول کرے۔