مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے تعلیمی پروگرام، اردو میڈیم اور دور دراز علاقوں کے طلبہ کے لیے مواقع پر خصوصی گفتگو
سری نگر : آواز دی وائس
’’عزم راسخ ہو، عزمِ شوقِ کامل کی قسم
یہ خیال خام ہے کہ تری منزل دور ہے‘‘
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے ریجنل ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد اعجاز اشرف کا کہنا ہے کہ علم انسان کی روحانی طاقت ہے اور اسے صرف روزگار کے حصول تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر کسی نوجوان کے پاس علم اور ہنر موجود ہو تو وہ اپنے لیے روزگار کے راستے خود تلاش کرسکتا ہے۔ انہوں نے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ علم سے محبت کریں، اپنی تعلیم جاری رکھیں اور جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ خود کو بھی اپ ڈیٹ کرتے رہیں۔
’آواز دی وائس‘ کی نمائندہ یاسمین خان سے خصوصی گفتگو میں ڈاکٹر محمد اعجاز اشرف نے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے قیام، اس کے تعلیمی پروگراموں، اردو میڈیم کے ذریعے اعلیٰ تعلیم، خواتین کی شمولیت، دور دراز علاقوں کے طلبہ کے لیے مواقع اور یونیورسٹی کی مستقبل کی ترجیحات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ڈاکٹر اعجاز اشرف نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد کا قیام 1998 میں پارلیمنٹ کے ایک ایکٹ کے تحت عمل میں آیا۔
یونیورسٹی کا بنیادی مقصد اردو زبان کے ذریعے تعلیم کو عام کرنا تھا، خاص طور پر ان طبقات تک اعلیٰ تعلیم پہنچانا جو انگریزی زبان میں تعلیم حاصل کرنے سے قاصر رہے ہیں۔ان کے مطابق یونیورسٹی نے 1998 میں اپنے سفر کا آغاز کیا تھا اور آج اس کے مراکز، سیٹلائٹ کیمپس، ریجنل سینٹرز اور سب ریجنل سینٹرز ملک کے مختلف حصوں میں قائم ہیں۔ ان مراکز کے ذریعے اردو داں طبقے تک تعلیم پہنچانے کی مسلسل کوشش کی جارہی ہے۔
روایتی اور فاصلاتی تعلیم، دونوں کے مواقع
ڈاکٹر اعجاز اشرف نے بتایا کہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی بنیادی طور پر دو طرح کے تعلیمی پروگرام فراہم کرتی ہے۔ ایک روایتی نظامِ تعلیم اور دوسرا فاصلاتی نظامِ تعلیم۔فاصلاتی تعلیم ان طلبہ، ملازمت پیشہ افراد، کاروباری لوگوں اور مدارس سے فارغ التحصیل طلبہ کے لیے خاص طور پر مفید ہے جو کسی وجہ سے روایتی نظامِ تعلیم میں داخل نہیں ہوسکتے۔ بہت سے لوگ ملازمت، کاروبار یا دیگر مصروفیات کے باعث باقاعدہ کلاسوں میں شرکت نہیں کرپاتے، اس لیے فاصلاتی تعلیم ان کے لیے ایک اہم ذریعہ بن جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ تعلیم کا ذریعہ کسی شخص کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہونا چاہیے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں طلبہ مقامی زبانوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ روس میں طلبہ روسی زبان میں ایم بی بی ایس کرتے ہیں، ایران میں فارسی کے ذریعے تعلیم حاصل کرتے ہیں اور اسی طرح دیگر ممالک میں بھی مقامی زبانیں تعلیم کا ذریعہ بنتی ہیں۔ان کے بقول، اصل بات یہ ہے کہ طالب علم جس زبان میں کسی موضوع کو آسانی سے سمجھ سکتا ہو، اسے اسی زبان کے ذریعے تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔

یونیورسٹی میں خواتین کی 50 فیصد شمولیت
ڈاکٹر اعجاز اشرف نے بتایا کہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے لیے یہ ایک بڑی کامیابی ہے کہ یونیورسٹی میں خواتین کی شرکت تقریباً 50 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ فاصلاتی اور روایتی، دونوں نظامِ تعلیم میں خواتین بڑی تعداد میں شامل ہیں اور تعلیم کے میدان میں اپنی جگہ بنا رہی ہیں۔ان کے مطابق آج سوشل میڈیا اور جدید ذرائع ابلاغ نے معلومات تک رسائی کو بہت آسان بنا دیا ہے۔ وہ معلومات جو کئی دہائیاں پہلے طلبہ تک پہنچنا مشکل تھیں، آج گھر بیٹھے حاصل کی جاسکتی ہیں۔
’’علم کو غیر مشہور کر دیجیے‘‘
ڈاکٹر اعجاز اشرف نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے پاس بین الاقوامی معیار کا اسٹڈی میٹریل موجود ہے، جسے یونیورسٹی ’اسٹوڈنٹس لرنرز میٹریل‘ یعنی ایس ایل ایم کے طور پر فراہم کرتی ہے۔ان کے مطابق طلبہ اس مواد کے ذریعے پی جی، یو جی، ڈپلومہ اور سرٹیفکیٹ کورسز کرسکتے ہیں۔انہوں نے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ علم کے حصول کے مواقع سے فائدہ اٹھائیں اور علم کو عام کریں۔ان کا کہنا تھا:’’اگر آپ کو علم سے محبت ہے تو اس محبت کو شرطوں سے نہ باندھیے۔ علم کو روزگار سے ضرور جوڑیے، لیکن علم کو صرف روزگار کی بنیاد بنا کر چھوڑ دینا درست نہیں۔‘‘انہوں نے خاص طور پر طلبہ کو اسلامک اسٹڈیز، ہندی، اردو اور تاریخ سمیت مختلف مضامین میں تعلیم حاصل کرنے کی دعوت دی اور کہا کہ یونیورسٹی کے مختلف کورسز طلبہ کو اپنے علمی دائرے کو وسیع کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
کشمیر میں اعلیٰ تعلیم کے وسیع مواقع
ڈاکٹر اعجاز اشرف نے بتایا کہ جموں و کشمیر اور لداخ میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے مختلف مراکز قائم ہیں، جن کے ذریعے دور دراز علاقوں کے طلبہ تک تعلیم پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سری نگر میں یونیورسٹی کا علاقائی مرکز موجود ہے، جب کہ جموں و کشمیر کے مختلف اضلاع میں لرنر سپورٹ سینٹرز قائم ہیں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کشمیر کے کیمپس میں اسلامک اسٹڈیز، فارسی، عربی، اکنامکس، انگلش اور دیگر مضامین میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع دستیاب ہیں۔ ان مراکز میں ملک کی معروف جامعات سے وابستہ تجربہ کار اساتذہ طلبہ کی رہنمائی کرتے ہیں۔ان کے مطابق جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، دہلی یونیورسٹی اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سمیت ملک کے ممتاز تعلیمی اداروں سے وابستہ اساتذہ طلبہ کو تعلیم دینے کے لیے دستیاب ہیں۔
’’تعلیم کو ترک مت کیجیے، یہ آپ کی روحانی غذا ہے‘‘
ڈاکٹر اعجاز اشرف نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج بہت سے طلبہ روزگار کو پیش نظر رکھتے ہوئے تعلیم کو ترک کررہے ہیں۔انہوں نے کہا:’’تعلیم ترک مت کیجیے۔ یہ آپ کی روحانی غذا ہے، یہ آپ کی روحانی طاقت ہے۔ جب انسان کی روحانی طاقت ختم ہوجاتی ہے تو وہ صرف پیسے کی طاقت کے سہارے زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا۔‘‘انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ دور مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ ایسے میں تعلیمی اداروں اور طلبہ دونوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ وقت کے ساتھ خود کو تبدیل اور اپ ڈیٹ کریں۔

اردو اب صرف ادب کی زبان نہیں
ڈاکٹر اعجاز اشرف نے اردو زبان کے بدلتے ہوئے دائرۂ کار پر بھی تفصیل سے گفتگو کی۔ ان کے مطابق ماضی میں اردو کا ذکر آتے ہی غالب، اقبال، میر، شاعری، افسانہ، ڈراما اور نظم جیسے الفاظ ذہن میں آتے تھے، لیکن آج اردو کا دائرہ اس سے کہیں آگے بڑھ چکا ہے۔انہوں نے بتایا کہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں اردو کے ذریعے کمپیوٹر سائنس، سول انجینئرنگ، مکینیکل انجینئرنگ، آئی ٹی آئی، پولی ٹیکنک، فیشن ٹیکنالوجی اور قانون سمیت مختلف شعبوں میں تعلیم فراہم کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بوٹنی، زولوجی، کیمسٹری اور فزکس سمیت متعدد سائنسی مضامین بھی اردو زبان میں پڑھائے جارہے ہیں۔ان کے مطابق اسی سال یونیورسٹی نے قانون کی تعلیم کے لیے بھی اپنا کالج شروع کیا ہے۔انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ جس زبان نے ملک کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کیا، اس زبان سے محبت نہ کرنا مناسب نہیں۔
ایک لاکھ سے زیادہ طلبہ نے حاصل کیا فائدہ
ڈاکٹر اعجاز اشرف نے بتایا کہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے جموں و کشمیر ریجنل سینٹر سے اب تک تقریباً ایک لاکھ طلبہ مختلف کورسز مکمل کرچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان طلبہ میں سے بہت سے لوگ آج جموں و کشمیر کے مختلف سرکاری اور تعلیمی اداروں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ کشمیر یونیورسٹی، سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر، اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور جموں یونیورسٹی سمیت مختلف اداروں میں یونیورسٹی کے سابق طلبہ تدریسی اور دیگر ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔اسی طرح محکمہ تعلیم، پولیس، ریونیو اور دیگر سرکاری شعبوں میں بھی مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اردو میڈیم کے ذریعے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ بھی زندگی کے مختلف شعبوں میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔
دور دراز علاقوں کے طلبہ کے لیے لرنر سپورٹ سینٹر
ٹانگدار، گریز، کرگل، لیہہ، ترّتک، اوڑی، شوپیاں اور اننت ناگ جیسے دور دراز علاقوں کے طلبہ کے لیے تعلیم کے مواقع کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر اعجاز اشرف نے بتایا کہ یونیورسٹی کا فاصلاتی نظام ان طلبہ کے لیے خاص طور پر اہم ہے۔انہوں نے بتایا کہ حیدرآباد میں سینٹر فار ڈسٹنس اینڈ آن لائن ایجوکیشن (CDOE) کام کرتا ہے، جس کے تحت ریجنل سینٹرز، سب ریجنل سینٹرز اور لرنر سپورٹ سینٹرز کام کرتے ہیں۔ان کے مطابق دور دراز علاقوں کے طلبہ انہی لرنر سپورٹ سینٹرز میں داخلہ لیتے ہیں، کلاسز کرتے ہیں اور امتحانات بھی وہیں دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس نظام کا فائدہ یہ ہے کہ جو شخص ملازمت، کاروبار، زراعت یا ڈرائیونگ جیسے کاموں سے وابستہ ہے، وہ اپنی مصروفیات جاری رکھتے ہوئے تعلیم بھی حاصل کرسکتا ہے۔ بیشتر طلبہ کو ہفتے میں مخصوص دن مرکز آنا ہوتا ہے، جبکہ باقی دن وہ اپنی روزمرہ کی ذمہ داریاں ادا کرسکتے ہیں۔

’’روزگار سے پہلے علم کے بارے میں فکر کیجیے‘‘
ڈاکٹر اعجاز اشرف نے علم اور روزگار کے تعلق کو ایک مثال کے ذریعے سمجھایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر سامنے دریا ہو اور انسان کو اس کے دوسری طرف جانا ہو تو سب سے پہلے اسے تیرنا آنا چاہیے۔ان کے مطابق دریا کے دوسری طرف پہنچنے کا ذریعہ تیرنے کا علم ہے۔ اسی طرح زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے علم ضروری ہے۔انہوں نے کہا:’’بے روزگار وہ بنتا ہے جس کے پاس پہلے علم نہیں ہوتا۔ علم آپ کو زندگی جینے کے ہنر سکھاتا ہے، زندگی کے راستے کھولتا ہے اور پھر وہی راستے روزگار کے مواقع تک لے جاتے ہیں۔‘‘طلبہ کے نام پیغامآخر میں ڈاکٹر اعجاز اشرف نے طلبہ، بالخصوص مدارس سے فارغ التحصیل نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ تعلیم کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔انہوں نے کہا کہ خواہ کوئی نوجوان ملازمت کررہا ہو، کاروبار کررہا ہو، گاڑی چلا رہا ہو یا کسی اور شعبے سے وابستہ ہو، اسے علم کا سلسلہ نہیں چھوڑنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے بہت سے دوست آج بھی روزانہ سیکڑوں صفحات پڑھتے ہیں۔ وہ صرف روزگار کے لیے نہیں پڑھتے بلکہ اس لیے پڑھتے ہیں کہ انہیں علم حاصل ہو، وہ دوسروں کی رہنمائی کرسکیں اور زندگی کے مختلف معاملات کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا’’مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے جو بھی کورسز ہیں، جب بھی آپ داخلہ لینا چاہیں، میں آپ کی خدمت کے لیے حاضر ہوں۔ آپ آئیے اور ہمیں خدمت کا موقع دیجیے۔‘‘انہوں نے گفتگو کے اختتام پر کہا کہ تنخواہیں اور ملازمتیں ملتی رہیں گی، لیکن کسی اچھے کام کو کرنے کا جو موقع آج ہاتھ میں ہے، وہ بار بار نہیں آتا۔ اس لیے انسان کو علم اور خدمت کے مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔