بدایوں (اتر پردیش): اتر پردیش کے ضلع بدایوں کے قصبہ اُجھانی میں انسانیت، بھائی چارے اور مذہبی ہم آہنگی کی ایک دل کو چھو لینے والی مثال سامنے آئی، جہاں ایک مسلم نوجوان نے اپنی منہ بولی ہندو بہن کی شادی کی تمام ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے ہندو رسم و رواج کے مطابق اس کا کنیا دان بھی کیا۔
یہ واقعہ 8 جولائی کی رات پیش آیا، جب والدین کے سائے سے محروم دیپانشی کی شادی تھی۔ ایسے موقع پر، جب ہر بیٹی کو اپنے والد اور بھائی کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، ریاست عرف ببلو صدیقی اس کے ساتھ ایک حقیقی بھائی کی طرح کھڑے نظر آئے۔
ریاست اور دیپانشی کے درمیان خون کا کوئی رشتہ نہیں تھا، لیکن برسوں پہلے قائم ہونے والا منہ بولا بھائی بہن کا تعلق وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوتا گیا۔ جب دیپانشی کی شادی طے ہوئی تو سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ والدین کے بغیر شادی کی تمام رسومات اور انتظامات کون سنبھالے گا۔
ریاست صدیقی نے یہ ذمہ داری اپنے خاندان کے ساتھ مل کر خوش دلی سے قبول کی۔ انہوں نے شادی کی تمام تیاریاں کیں، بارات کے استقبال سے لے کر مہمانوں کی خدمت اور ضیافت تک ہر انتظام خود سنبھالا۔ تقریباً 800 مہمانوں کے کھانے پینے کا بہترین انتظام کیا گیا تاکہ کسی قسم کی کمی نہ رہ جائے۔

شادی کی سب سے جذباتی گھڑی اس وقت آئی جب ہندو رسم کے مطابق کنیا دان کی باری آئی۔ چونکہ دیپانشی کے والدین اس دنیا میں موجود نہیں تھے، اس لیے ریاست عرف ببلو صدیقی آگے بڑھے اور مکمل احترام کے ساتھ ہندو روایات کے مطابق اپنی منہ بولی بہن کا کنیا دان کیا۔ اس منظر نے تقریب میں موجود متعدد افراد کو آبدیدہ کر دیا۔رخصتی کے وقت بھی جذبات دیدنی تھے۔ دیپانشی نے کہا کہ ببلو بھائی اور ان کے پورے خاندان نے انہیں کبھی والدین کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔ ان کے مطابق شادی کے ہر مرحلے پر انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے ان کا اپنا خاندان ان کے ساتھ موجود ہو۔
اس موقع پر ریاست عرف ببلو صدیقی نے کہا، "میری صرف یہی خواہش تھی کہ میری بہن کی رخصتی اسی عزت، محبت اور خوشی کے ساتھ ہو، جیسی ہر بھائی اپنی بہن کے لیے چاہتا ہے۔ اسی لیے ہم نے اس شادی کو اپنی خاندانی ذمہ داری سمجھ کر مکمل کیا۔"
مقامی لوگوں نے اس اقدام کو مذہبی ہم آہنگی، بھائی چارے اور انسانیت کی ایک بہترین مثال قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ اس حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ رشتے صرف خون سے نہیں بلکہ محبت، اعتماد اور خلوص سے بھی قائم ہوتے ہیں، اور انسانیت ہر مذہب سے بالاتر مشترکہ قدر ہے۔