احمد آباد ۔ پانی کے لیے مسجد نے کھولے مندر کے لیے دروازے

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 05-02-2026
احمد آباد ۔ پانی کے لیے مسجد نے کھولے مندر کے لیے دروازے
احمد آباد ۔ پانی کے لیے مسجد نے کھولے مندر کے لیے دروازے

 



ارسلا خان : نئی دہلی 

 احمد آباد سے سامنے آنے والی یہ تصویریں آج کے دور میں انسانیت بھائی چارے اور گنگا جمنی تہذیب کی ایک خوبصورت مثال بن کر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔ گجرات کے اس بڑے شہر میں جب اچانک پانی کی سپلائی متاثر ہوئی اور لوگوں کو پینے کے پانی کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تو ایک مسجد نے انسانیت کا ایسا دروازہ کھولا جس نے سب کے دل جیت لیے۔
 
وائرل تصاویر میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ مسجد کے احاطے میں غیر مسلم بھائی بہن قطار میں کھڑے ہو کر پانی بھر رہے ہیں۔ نہ کوئی امتیاز ہے اور نہ کوئی سوال ہے بلکہ صرف ضرورت اور مدد کا جذبہ نظر آتا ہے۔ جیسے ہی علاقے میں پانی کی قلت سنگین ہوئی مسجد انتظامیہ نے فوراً تمام مذاہب کے لوگوں کے لیے دروازے کھول دیے اور مسجد میں موجود پانی کی سہولت عوام کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے دی تاکہ کوئی پیاسا نہ رہے۔
 
مقامی لوگوں کے مطابق گزشتہ چند دنوں سے احمد آباد کے اس علاقے میں پانی کی سپلائی درست نہیں ہو پا رہی تھی۔ کئی گھروں میں پانی بالکل ختم ہو چکا تھا۔ ایسے حالات میں جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ مسجد میں پانی دستیاب ہے اور وہاں سے سب کو پانی لینے کی اجازت ہے تو بڑی تعداد میں لوگ وہاں پہنچنے لگے۔ ان میں ہندو مسلم خواتین بزرگ اور بچے سب شامل تھے۔ مسجد کے باہر اور اندر کا منظر کسی مذہبی مقام سے زیادہ ایک مشترکہ انسانی جگہ جیسا دکھائی دے رہا تھا
 
 اس واقعے نے یہ ثابت کر دیا کہ مذہب کا اصل مقصد انسان کی مدد کرنا اور سماج کو جوڑنا ہے نہ کہ تقسیم کرنا۔ مسجد کے ایک مقامی ذمہ دار نے بتایا کہ پانی جیسی بنیادی ضرورت پر کوئی شرط یا پہچان نہیں ہونی چاہیے۔ جب آس پاس کے لوگ مشکل میں ہوں تو مدد کرنا ہر انسان کا فرض بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسجد صرف نماز کی جگہ نہیں بلکہ سماج کی خدمت کا مرکز بھی ہے۔
 
سوشل میڈیا پر تصاویر سامنے آتے ہی لوگوں کے ردعمل کی لہر دوڑ گئی۔ ٹوئٹر فیس بک اور انسٹاگرام پر ہزاروں صارفین نے تصاویر شیئر کرتے ہوئے اسے انسانیت کی جیت قرار دیا۔ کئی لوگوں نے لکھا کہ ایسی خبریں آج کے وقت میں امید پیدا کرتی ہیں جب معاشرے میں نفرت اور تقسیم کی باتیں زیادہ سنائی دیتی ہیں۔ کچھ صارفین نے اسے بھارت کی اصل پہچان بتایا جہاں مختلف مذاہب کے لوگ مشکل وقت میں ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں۔
 
مقامی ہندو خاندانوں نے بھی مسجد انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔ ایک خاتون نے کہا کہ انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ پانی کی ایسی صورتحال میں مسجد سے اتنی بڑی مدد ملے گی۔ ان کے مطابق اس وقت نہ مذہب یاد تھا اور نہ پہچان بلکہ صرف یہ سکون تھا کہ بچوں اور بزرگوں کے لیے پانی مل گیا۔
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Gaow Diary (@gaowdiary)

 
 یہ واقعہ صرف پانی کی فراہمی تک محدود نہیں بلکہ ایک بڑے سماجی پیغام کو سامنے لاتا ہے۔ احمد آباد کی یہ تصویریں بتاتی ہیں کہ جب حالات مشکل ہوں تو انسانیت سب سے اوپر ہوتی ہے۔ مذہب مسلک اور شناخت پیچھے رہ جاتے ہیں اور آگے آتا ہے صرف مدد کا جذبہ۔
آج جب یہ خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہے تو یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ بھارت کی طاقت اس کی گوناگونی اور باہمی بھائی چارے میں چھپی ہے۔ احمد آباد کی اس مسجد نے صرف پانی نہیں بانٹا بلکہ محبت اعتماد اور انسانیت کا پیغام بھی دیا۔ یہی وہ تصویر ہے جو سماج کو جوڑتی ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک مثال بن جاتی ہے۔