ہندوستانی مسلمان کیوں نہیں کرتے خواتین مذہبی اسکالرس کی حوصلہ افزائی ؟

Story by  اے ٹی وی | Posted by  [email protected] | 3 Months ago
ہندوستانی مسلمان کیوں نہیں کرتے خواتین مذہبی اسکالرس کی حوصلہ افزائی ؟
ہندوستانی مسلمان کیوں نہیں کرتے خواتین مذہبی اسکالرس کی حوصلہ افزائی ؟

 

ڈاکٹر حفیظ الرحمن

               جدہ میں او آئی سی  کے ذریعے منعقد ’’عرب و اسلامک خواتین اجلاس‘‘ کی حالیہ بین الاقوامی کانفرنس کے دوران مجھے یہ دیکھ کر قدرےصدمہ ہوا کہ ہندوستان سے کسی بھی مسلم خاتون کو مدعو نہیں کیا گیا تھا اس ایک وجہ تو یہ ہے کہ دنیا میں دوسری مسلم اکثریت ملک ہونے کے باوجود بھی ہندوستان  او آئی سی کا ممبر نہیں ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ہماری مذہبی اور سماجی قیادت نے 1947 کے بعد سے لے کرآج تک مسلم خواتین کو اسلامک اسکالر یا دانشور کی شکل میں نہیں سراہا۔ دنیا میں ایشیا کے بہت سے دوسرے ممالک جیسے بنگلہ دیش اور یہاں تک کہ مراکش سے بھی خواتین کی نمائندہ موجود تھیں۔اس سے ہندوستانی مسلمانوں کی تلخ حقیقت کی نشاندہی ہوتی ہے کہ ہمارے مذہبی رہنماؤں نے اپنے سخت قوانین کے ذریعے مسلم خواتین کو محکوم بنا کر انہیں محدود جگہوں پر رکھا ہوا ہے۔

               مسلم مرکزی مذہبی تنظیمیں اور ادارے خواتین کی آوازوں اور نقطہ نظر سے عاری ہیں۔ اس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا معاشرہ یہ مانتا ہے کہ خواتین قابل نہیں ہیں؟ یہاں تک کہ جب وہ اسرو کی سائنسداں خوشبو مرزا جیسی سائنسدان بن چکی ہیں جس نےچندریان-3 میں کردار ادا کیا تو وہیں تجارت کی دنیا میں شہناز حسین، بانی۔ ہندوستان میں شہناز حسین گروپ، کھیل کے میدان میں ثانیہ مرزا،اور بہت سی دوسری حیرت انگیز ہندوستانی مسلم خواتین شامل ہیں۔

               ہندوستانی تاریخ میں طاقتور مسلم خواتین - رانیوں، حکمرانوں، شہزادیوں، ادبی شخصیات، مجاہدین آزادی، ماہرین تعلیم، اسکالرز، اداکاروائیں اور مصنفین کی بڑی تعداد ہے جنہوں نے جدید ہندوستان کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔

               اسلام میں خواتین کی آزادی اور ان کو بااختیار بنانے کی اہمیت پر زور دینے کے باوجود، رائج دقیانوسی سوچ نے ان کے مواقع کو محدود کر دیاہے اور ماہرینِ اسلامیات اور مذہبی اسکالرس کے طور پر خدمات انجام دینے کی ان کی صلاحیت کو روک دیا ہے۔

               اسلام میں مرد اور عورت کے درمیان جہاں تک اللہ کے ساتھ تعلق کا ذکر ہے، کوئی فرق نہیں ہے، کیونکہ دونوں کو اچھے اخلاق پریکساں اجر اور برے طرز عمل پر یکساں سزا کا وعدہ کیا گیا ہے۔ قرآن کہتا ہے: اور عورتوں کے حقوق مردوں پر ایسے ہی ہیں جیسےمردوں کے عورتوں پر۔

               قرآن، مومنین کو مخاطب کرتے ہوئے، اکثر مومن مرد اور عورت کی اصطلاح استعمال کرتا ہے تاکہ مردوں اور عورتوں کی انکے متعلقہ فرائض، حقوق، فضائل اور خوبیوں کے حوالے سے برابری پر زور دیا جا سکے۔

               پوری اسلامی تاریخ میں، خواتین نے معاشرے کے مختلف پہلوؤں میں اہم کردار ادا کیا ہے، جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کےزمانے سے رائج ہے۔ اسلامی تعلیمات کا مقصد کبھی بھی خواتین کو رعایا کے کردار تک محدود کرنا نہیں تھا، اور نبی صلی اللہ علیہوسلم کی ازواج مطہرات، جیسے حضرت خدیجہؓ، حضرت عائشہؓ اور حضرت ام سلمہؓ مختلف شعبوں میں ماہر تھیں جس کی وراثت کو حضرت فاطمہؓ اور حضرت زینبؓ جیسی شخصیات نے آگے بڑھایا تو تصوف میں حضرت رابعہ بصریؓ اور بغداد کے بادشاہ کی ملکہ زبیدہ جیسی نامورشخصیات شامل ہیں۔

               برصغیر ہند و پاک میں رضیہ سلطانہ جیسے نام شامل ہیں تو وہیںشہنشاہ جہانگیر کی بیگم نور جہاں شہنشاہ کا اہم کردار رہا ہے تو وہیں مغل شہزادیوں میں جہاں آرا بیگم، تعلیم کے میدان میں فاطمہ شیخ اوربہت سی دیگر غیرمعمولی اہمیت کی حامل خواتین کے ناموںکو پیش کیا جا سکتا ہے جنہوں نے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دیں۔

               تحریک آزادی کے دوران بیگم حضرت محل، آبادی بیگم، بی بی امت السلام، ہاجرہ بیگم اور بیگم انیس قدوائی کو مسلم سماج نےبڑے پیمانے پر پہچانا اور ان کی تعریف کی۔ تاہم آزادی کے بعد ایک رجعت پسند ذہنیت نے خواتین کے لیے مواقع کو کم کر دیا، اورانہیں تعلیم تک محدود رسائی کے ساتھ گھریلو سازوسامان کے کردار تک محدود کر دیا۔ سپریم کورٹ نے حال ہی میں نشاندہی کی کہ خواتین ایک پدرانہ ذہنیت کا شکار ہیں جو انہیں بنیادی دیکھ بھال کرنے والی اور گھریلو خواتین کے طور پر دیکھتے ہیں۔

               ہمارے پرسنل لاء کے ماہرین بھی صنفی مساوات میں الجھ گئے ہیں، خاص طور پر ہندوستان میں، جہاں ہر کمیونٹی اپنے اپنے مذہبی قوانین پر عمل پیرا ہے اس تناظر میں، مسلم پرسنل لاء کو اکثر صنفی عدم مساوات کو برقرار رکھنے کے لیے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ ہندوستان میں صنفی عدم مساوات بڑی حد تک کسی حقیقی مذہبی بنیاد کے بغیر گہری جڑی ہوئی ثقافتی پدر شاہی سے پیدا ہوتی ہے اوراس طرح کی عدم مساوات کو امتیازی قانونی دفعات کے ذریعے مزید بڑھا دیا جاتا ہے۔ ہندوستان میں مسلم خواتین کی بدقسمتی اصول الفقہ کی سمجھ کی کمی کا نتیجہ ہے جس کی وجہ سے اسلامی اصولوں کے ذریعے ان کے حقوق کی ضمانت دینے میں ناکامی ہوتی ہے۔ حقیقت میں، اصول الفقہ کے بارے میں محدود آگاہی اس مروجہ لیکن غلط عقیدے کو برقرار رکھتی ہے کہ مسلم پرسنل لاءخواتین پر جبر کرتا ہے جب کہ حقیقت میں یہ انہیں مساوی حقوق دیتا ہے۔

               کچھ علمائے کرام نے مدارس میں لڑکوں کی تعلیم کی وکالت کی لیکن لڑکیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے اس غلط بیانیے کو فروغ دیا کہ جدید اور مخلوط تعلیم اسلام میں جائز نہیں ہے۔ کچھ لوگوں نے تو یہ دعویٰ بھی کیا کہ جدید تعلیم اسلامی اقدار کے خلاف ہے یا مسلم خواتین کے لیے غیر مہذب ہے۔ متعدد رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان میں مسلم خواتین سب سے کم تعلیم یافتہ ہیں۔ روایتی علمائے کرام اس میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں، کیونکہ وہ اکثر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ خواتین کے کردار کو ان کے گھروںتک ہی محدود رکھا جانا چاہیے، انہیں ماں اور بیوی کے طور پر ان کی ذمہ داریوں کو ترجیح دینا چاہیے۔ عوامی میدان میں خواتین کی شرکت کے بارے میں ان کے خیالات غیر واضح اور اکثر متضاد ہیں۔ کچھ کا خیال ہے کہ اخلاقی وجوہات کی بناء پر اسلام میں اس کیاجازت نہیں ہے، جب کہ دوسروں کا کہنا ہے کہ یہ افراتفری کا باعث بنے گا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ پہلے ادوار زیادہ نیک تھے، اورمغربی ثقافت نے عقیدے اور شناخت کو ختم کر دیا ہے۔ کچھ روایتی علمائے کرام مسلم لڑکیوں کو خصوصی طور پر مذہبی تعلیم فراہم کرنے کی وکالت کرتے ہیں۔

               ان چیلنجوں کا سامنا کرتے ہوئے، ہندوستان میں بے شمار مسلم خواتین نے اپنی آزاد شناخت قائم کرنے اور قوم اور دنیا کے لیےخاطر خواہ کردار ادا کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ تاہم، یہ افسوسناک ہے کہ کسی بھی مسلم تنظیم یا علماء نے ان کی کامیابیوں کی فعال حمایت نہیں کی۔ مسلم خواتین کو اس قدر نظر انداز کیا گیا کہ جنوری 2011 میں، بھارتیہ مسلم مہیلا آندولن‎‎‎(بی ایم ایم اے)‎، جسے 'انڈین مسلم ویمنس موومنٹ بھی کہا جاتا ہے، ذکیہ سومن کی قیادت میں ایک آزاد، سیکولر، اور حقوق پرمرکوز عوامی تنظیم کے طور پرہندوستان میں مسلم خواتین کے شہریت کے حقوق کی وکالت کرنے کے بنیادی مشن کےساتھ ابھری۔

               اسلامی اصول خواتین کو مساوی حقوق کی اجازت دیتے ہیں اور اسے فروغ دیتے ہیں، ہندوستانی معاشرہ، خاص طورپر مذہبی تنظیمیں، خواتین کی قیادت کو پروان چڑھانے اور انہیں وہ مواقع فراہم کرنے میں ناکام رہی ہیں جس کی وہ مستحق تھیں۔ اگرچہ صنفی مساوات کو فروغ دینے کے لیے اسلامی تعلیمات کی اصلاح اور تشریح کی کوششیں کی گئی ہیں لیکن ان اقدامات کو مذہبی قیادت میں وسیع پیمانے پر قبولیت حاصل نہیں ہوئی ہے۔ ہندوستان میں بہت سے اسلامی رہنما اسلامی متن کی قدامت پسند اورپدرانہ تشریحات پر عمل پیرا ہیں۔ یہ تشریحات اکثر خواتین کے کردار کو گھریلو شعبے تک محدود کر دیتی ہیں اور تعلیم اور ملازمت تک ان کی رسائی کو محدود کرتی ہیں۔

               ہندوستان میں ثقافتی رسومات اکثر مذہبی عقائد کے ساتھ ایک دوسرے کو ملتی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ اسلامی رہنما اسلام میں صنفی مساوات کی اہمیت سے پوری طرح واقف نہ ہوں، یا وہ اپنی تعلیمات اور قیادت میں اسے ترجیح نہ دیں۔

یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں فرانسیسی مصنفہ اور سیکولر کارکن ہندا عیاری جیسی خواتین اسلامی اسکالر خاتون کاظہور نہیں دیکھا جو اس سے قبل ایک سلفی مسلمان تھیں جنہوں نے 2015 میں انجمن کی بنیاد رکھی تھی۔‎‎

جو خواتین کےدفاع اور بنیاد پرستی کو روکنے میں مدد کرتی ہے۔ وہیں مراکش میں اسماء لامربیت کا نام قابل ذکر ہے جو ایک ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ معروف اسلامی اسکالر اور اسلامی کارکن ہیں اسی کے ساتھ فاطمہ مرنیسی جو ایک عظیم مصنفہ اور ماہر عمرانیات ہیں تو وہیں مصر میں شیخ الازہر کی مشیر ڈاکٹر نہلہ السعیدی کا نام قابل ذکر ہے۔

               یہ قدرے افسوسناک ہے کہ ہندوستانی مسلم خواتین یہاں پیچھے ہیں۔ یونیسکو کے مطابق، ہندوستان میں مسلم خواتین کی خواندگی کی شرح62.8 فیصد ہے۔ مذہبی گروہوں میں ہندوستان میں مسلمانوں کی شرح خواندگی سب سے کم ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اےایم یو)، جامعہ ملیہ اسلامیہ، اور ہمدرد یونیورسٹی جیسے اداروں کو اپنی پہلی خاتون وائس چانسلر کی تقرری میں ایک صدی لگ گئی، جو کہ صرف پانچ سال قبل جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ہوئی تھی۔

               قدیم ہندوستان میں خواتین بہت طاقتور عہدوں پر فائز تھیں، درحقیقت، اس وقت کے مردوں سے کہیں زیادہ اعلیٰ مقام ایک نسائی اصطلاح ’’شکتی‘‘ کو حاصل تھا۔

               ایک قدیم چینی کہاوت ہے کہ "عورتیں آدھا آسمان پکڑتی ہیں"۔ ۔

               مشہور صوفی مسلم شاعر رومی (جلال الدین محمد بلخی) جنہوں نے خواتین میں الوہیت کی عکاسی کو دیکھا، لکھا، "عورت خدا کی کرن ہے۔ وہ زمینی محبوب نہیں ہے: وہ تخلیقی ہے، تخلیق نہیں ہے۔‎"‎

               عورت کو اپنا اظہار کرنے اور تخلیقی ہونے کا ایک پلیٹ فارم دیں، اور وہ اپنے علاقے اور دنیا کو بدل دے گی‎!‎

               دیوبند، بریلی، ندوہ، اسلامی مدارس، جمعیت علمائے ہند، مسلم پرسنل لا بورڈ، اور جماعت اسلامی ہند جیسے اسلامی مرکز کے اداروں اورتنظیموں کو اس سوال کو فعال طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے کہ 1947 کے بعد آخر ہندوستانی مسلمان خواتین کی اسلامی قیادت کھڑی کرنے میں کیوں کامیاب نہیں ہو سکے؟ خواتین اسلامی سکالرس کو انکے مرد ہم منصبوں کے برابر تیار کرنا، ان اداروں کو ایسا ماحول بنانا چاہیے جو اسلامی اسکالرشپ کے میدان میں مسلم خواتین کی قیادت کی ترقی کو فروغ دیں۔

(ڈاکٹر حفیظ الرحمن، مصنف، اسلامی سکالر، اور خسرو فاؤنڈیشن، نئی دہلی کے کنوینر ہیں۔)