سعودی عرب کے بابائے اردو سے ایک ملاقات

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 04-01-2026
 سعودی عرب کے بابائے اردو سے ایک ملاقات
سعودی عرب کے بابائے اردو سے ایک ملاقات

 



معصوم مرادآبادی

مملکت سعودی عرب کی زبان عربی ہے اور وہاں کے باشندے خالص عربی میں گفتگو کرتے ہیں، لیکن آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اردو سعودی عرب کی دوسری بڑی زبان ہے اور اس کے ساتھ عرب باشندوں کے رشتے بہت  مضبوط ہیں۔ نہ صرف عرب باشندے اردو شاعری سے شغف رکھتے ہیں بلکہ انھیں اردو صحافت سے بھی خاص لگاؤ ہے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت ہیں سعودی عرب کے پہلے اردو اخبار ”اردو نیوز“ کے بانی ایڈیٹر خالد المعینا،جو عربی لب ولہجے میں بہترین اردو بولتے ہیں اور اردو کے دلچسپ محاوروں کو دہراکر لطف اندوز ہوتے ہیں۔ آج کی ملاقات ان ہی کے لیے مخصوص ہے۔ خالد المعینا کو سعودی عرب کا ”بابائے اردو“بھی کہا جاتا ہے۔ 
پچھلے دنوں عمرے کی ادائیگی کے لیے سرزمین مقدس کا سفر ہوا تو میں نے ایک روز جدہ کے محبان اردو سے ملاقات کے لیے فارغ کیا۔جدہ میں باقاعدہ اردو اکیڈمی قائم ہے اور یہاں سے ”اردو گلبن“ کے نام سے ایک پرچہ بھی نکلتا ہے۔میں مکہ مکرمہ سے وقت نکال کر ایک صبح کھلتی ہوئی دھوپ میں جدہ پہنچ گیا، جہاں عزیز دوست سراج وہاب نے والہانہ استقبال کیا، جو سعودی عرب کے سب سے بڑے انگریزی اخبار ”عرب نیوز“ کے ایڈیٹر ہیں۔ سراج وہاب ایک متحرک اور مخلص صحافی ہیں۔ ان کا تعلق مہاراشٹر کے شہر اورنگ آباد سے ہے۔جدہ شہر کی صبح بڑی دلکش ہوتی ہے۔ پورا شہر سنہری دھوپ میں نہایا ہوا تھا۔ سراج وہاب نے سب سے پہلے بہترین ناشتہ کرایا اور مجھے خالد المعینا سے ملاقات کے لیے سمندر کے ساحل پر شارع ملک پر واقع کیفے بتیل لے گئے جہاں خالد المعینا پہلے سے ہی ہمارے منتظر تھے۔ کیفے بتیل پہنچ کر مجھے امریکہ کا شہر واشنگٹن ڈی سی یاد آیا کہ اس قسم کے پرسکون اور شفاف کیفے میں نے پہلے پہل وہیں دیکھے تھے۔ کیا خوبصورت اور صاف ستھرا ماحول تھا۔
خالد المعینا سے یہ ملاقات بڑی یادگار رہی۔شروع میں ان کا عربی حلیہ دیکھ کر مجھے گفتگو کرنے میں کچھ تکلف ضرور ہوا کہ آغاز کس زبان میں کیا جائے۔ میں نے انگریزی کا سہارا لیا اورجب انھوں نے پہلے ہیسوال  کا جواب بہترین اردو میں دیا تو میری جھجک دور ہوگئی اور پھر تقریباً ایک گھنٹہ ان سے اردو میں بات چیت ہوتی رہی۔ درمیان میں وہ اردو کے خوبصورت محاورے بول کر گفتگو کو دلچسپ بناتے رہے۔ 
خالد المعینا کی پیدائش1954میں ہوئی۔ انھیں صحافت سے شروع ہی سے شغف تھا۔ان کا شمار صحافت کے بڑے ناموں میں ہوتا ہے۔وہ برصغیر ہندوپاک کے امور پر بھی گہری نگاہ رکھتے ہیں۔وہ دوبار سعودی عرب کے سب سے بڑے انگریزی اخبار ”عرب نیوز“ کے ایڈیٹر رہ چکے ہیں۔ انھوں نے ’سعودی گزٹ‘جیسے معروف جریدے کی ادارت کے فرائض بھی انجام دئیے ہیں۔اپنے ایک چوتھائی صدی پر محیط صحافتی سفر کے دوران وہ ”الشرق الاوسط“ اور ”البلاد“ جیسے عربی اخباروں سے بھی وابستہ رہے ہیں۔ ان کی تعلیم امریکہ، برطانیہ اور پاکستان میں ہوئی 
 
خالد المعینانے اپنا کیریئر1972 میں سعودی ائیرلائنز میں انٹرن کے طورپر کیا تھا اور وہاں متعدد حیثیتوں سے کام کیا، ان میں ”سعودی ورلڈ میگزین“ کے چیف ایڈیٹرکا عہدہ بھی شامل ہے۔وہ ان چار سرکردہ صحافیوں میں سے ایک تھے جنھوں نے 1990میں سعودی عرب اور روس کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کی کوریج کی۔ خالد المعینا نے کراچی کے سینٹ پیٹرک کالج میں تعلیم حاصل کی ہے اور جامعہ کراچی سے صحافت میں ڈگری حاصل کی ہے۔انھیں 2008میں پاکستان کے تیسرے بڑے شہری ایوارڈ ’ستارہ امتیاز‘ سے نوازا جاچکا ہے۔ 
صاحب مضمون خالد المعینا کے ساتھ
ہند - عرب تعلقات کی بات
خالد المعینا نے ہندوستان اور سعودی عرب کے تاریخی رشتوں کے بارے میں بتایا کہ ”جب سعودی عرب میں پٹرول دریا فت نہیں ہوا تھا تو عرب باشندے جدہ کے ساحل پر ان ہندوستانی کشتیوں کے منتظر رہتے تھے جن میں بیٹھ کر ہندوستانی عازمین حج یہاں آتے تھے۔ پھر یہی عرب باشندے انھیں اپنے اونٹوں پر بٹھاکر مکہ مکرمہ لے جاتے تھے۔ راستے میں سرائے ہوا کرتی تھیں اور جدہ سے مکہ کا سفر طے کرنے میں دودن لگ جایا کرتے تھے۔
لیکن آج دنیا بدل گئی ہے۔ جدہ ائیرپورٹ جو اس وقت دنیا کے سب سے بڑے ہوئی اڈوں میں سے ایک ہے، وہاں سے آپ تیزرفتار میٹرو کے ذریعہ پلک جھپکتے ہی مکہ مکرمہ پہنچ سکتے ہیں۔ اسی طرح جدہ سے مدینہ منورہ کا سفر بھی میٹرو نے بہت آسان کردیا ہے۔“سعودی عرب کی موجودہ ترقی کا کریڈٹ وہ شہزادہ محمدبن سلمان کو دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”یہ ایک انقلابی ترقی کا دور ہے۔سعودی ولی عہد نے سعودی نوجوانوں کو وہ قیادت فراہم کی ہے جس سے پورا معاشرہ متحرک ہوگیا ہے۔خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت سے لے کر ڈیجیٹل خدمات فراہم کرنے تک ہراقدام سے سعودی شہریوں کی زندگی مزید بہتر اور آسان ہوگئی ہے۔“
 خالد المعینادوران گفتگو

خالد المعینا خود کو ایک قصباتی انسان بتاتے ہیں اور یہ بتانا بھی نہیں بھولتے کہ وہ کوئی صوفی یافقیر نہیں ہیں۔البتہ ان کا غالب رجحان روحانیت کی طرف ہے۔وہ ایک روشن خیال انسان ہیں اور رجعت پسندی کے سخت خلاف ہیں۔ وہ مسلمانوں میں مسلک کے جھگڑوں کو ناپسند کرتے ہوئے یہ بتانا نہیں بھولتے کہ یہاں سعودی عرب میں کوئی مسلکی مسجد نہیں ہے۔وہ مسلک کے نام پر تفرقہ پیدا کرنے والوں کی مذمت کرتے ہیں۔وہ شیعہ سنی تفریق کے بھی مخالف ہیں۔انھوں نے بتایا کہ”اس وقت سعودی عرب دنیا کے ان تین ملکوں میں سے ایک ہے جہاں انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) سے سب سے زیادہ استفادہ کیا جارہاہے۔“
اردو کیسے سیکھی 
جب میں نے ان سے پوچھا کہ انھوں نے اردو کہاں سے سیکھی تو انھوں نے بتایا کہ ان کے خاندانی رشتے ہندوستان، پاکستان اور افغانستان کے ساتھ ہیں۔ ان کے اجداد نے ہی انیسویں صدی میں کلکتہ اور کراچی میں ٹریڈنگ پوسٹ قائم کئے تھے۔ ان کی تعلیم کا ایک حصہ کراچی میں مکمل ہوا ہے اور وہیں انھوں نے اردو زبان سیکھی۔ وہ اردو کو ایک نفیس زبان کے طورپر استعمال کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جب وہ اپنے والد کی تجارت کے سلسلہ میں کراچی میں مقیم تھے تو وہیں انھیں اردو سے دلچسپی پیدا ہوئی۔ اس کی ابتداء شعر وشاعری سے ہوئی۔ جب انھوں نے دیکھا کہ اردو شاعری میں عربی کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں تو ان کا رجحان اردو کی طرف بڑھتا چلا گیا۔ انھیں سب سے زیادہ دلچسپی اردو کے محاروں سے ہے۔’’گھر کی مرغی دال برابر“اور ”ملا کی دوڑ مسجدتک‘‘جیسے محاورے انھیں اچھے لگتے ہیں۔ انھیں اس بات کی شکایت ہے کہ پاکستان میں پنجابیوں نے اردو زبان کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔ خالد المعینا کو تاریخ میں دلچسپی ہے اور وہ کرکٹ کھیلنا پسند کرتے ہیں۔خالد المعینا کئی بار ہندوستان آچکے ہیں۔2008میں سعودی عرب کے شاہ عبداللہ نے جب ہندوستان کے یوم جمہوریہ تقریبات میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی تھی تو ان کے ڈیلی گیشن میں سول سوسائٹی کے قائد خالد المعینا ہی تھے۔