سری نگر : سرینگر کے نوہٹہ بازار کی تنگ گلیوں میں واقع ایک پرانی دکان آج بھی کشمیری ثقافت کی ایک زندہ علامت بنی ہوئی ہے۔ اس دکان کا نام جان کیپ ہاؤس ہے جہاں صدیوں پرانی روایت کے تحت قراقلی ٹوپی تیار کی جاتی ہے۔ یہی وہ ٹوپی ہے جسے کشمیر میں شاہی ٹوپی کہا جاتا ہے اور جو وقت کے ساتھ کشمیری شناخت کا حصہ بن چکی ہے۔
قراقلی اگرچہ آج کشمیر سے جانی جاتی ہے لیکن اس کی جڑیں وسطی ایشیا میں پیوست ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس ٹوپی کا سفر ازبکستان کے شہر بخارا سے شروع ہوا۔ وہاں سے یہ افغانستان پہنچی جہاں اس نے اپنی مضبوط پہچان بنائی اور پھر کشمیر آ کر یہاں کی تہذیب میں رچ بس گئی۔ کشمیر میں اسے مقامی زبان میں قراقلی کہا جاتا ہے اور یہ آج بھی وقار اور روایت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

سرینگر کے نوہٹہ بازار میں جان کیپ ہاؤس نامی دکان پچھلے ایک سو پچیس برس سے قراقلی تیار کر رہی ہے۔ اس دکان کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں بننے والی ٹوپیاں نہ صرف عام لوگوں بلکہ بڑے سیاسی رہنماؤں اور اہم شخصیات نے بھی پہنی ہیں۔ دو ہزار چودہ میں جب شدید سیلاب کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کشمیر آئے تھے تو اسی دکان سے ان کے لیے دو قراقلی ٹوپیاں تیار کی گئی تھیں۔ یہ ٹوپیاں کیمل رنگ اور براؤن رنگ کی تھیں جنہیں کاریگر مظفر احمد نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تھا۔
مظفر احمد بتاتے ہیں کہ قراقلی بنانے کا کام آسان نہیں۔ اس کا خام مال افغانستان سے آتا ہے خاص طور پر مزار شریف سے۔ وہاں اس کی بریڈنگ اور ابتدائی پروسیسنگ ہوتی ہے۔ اس کے بعد یہ دہلی کے راستے کشمیر پہنچتا ہے۔ یہاں آنے کے بعد گاہک کو سب سے پہلے رنگ اور انداز کا انتخاب کرایا جاتا ہے۔ قدرتی رنگوں میں گولڈن براؤن گری اور بلیک شامل ہوتے ہیں۔ انتخاب کے بعد ٹوپی کو مکمل طور پر ہاتھ سے تیار کیا جاتا ہے۔ صرف اندر کا استر مشین سے سلا جاتا ہے باقی سارا کام ہاتھ کی محنت سے ہوتا ہے۔

یہ دکان نسل در نسل چلتی آ رہی ہے۔ پہلے مظفر احمد کے دادا اس پیشے سے وابستہ تھے پھر ان کے والد اور اب وہ خود اس روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ مظفر احمد فخر سے بتاتے ہیں کہ نائنٹین فورٹی ٹو کے آس پاس جب محمد علی جناح سرینگر آئے تھے اور جامع مسجد میں تشریف لائے تھے تو اسی دکان سے ان کے لیے قراقلی تیار کی گئی تھی جو ان کے دادا غلام محمد نے بنائی تھی۔
آج بھی اس دکان سے ملک اور بیرون ملک آرڈر آتے ہیں۔ بنگلور حیدرآباد لکھنؤ اور کئی بین الاقوامی مقامات پر یہاں کی قراقلی بھیجی جاتی ہے۔ شادی بیاہ کے موقع پر خاص طور پر باہر کے علاقوں میں یہ ٹوپی بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی ہے جہاں باراتی ایک ساتھ کئی ٹوپیاں منگواتے ہیں۔ کشمیر میں اگرچہ کم لوگ اسے وزمرہ زندگی میں پہنتے ہیں لیکن باہر اس کی مانگ کہیں زیادہ ہے۔

قراقلی کی کئی اقسام ہیں۔ جناح اسٹائل افغانی اسٹائل گاندھی کیپ وی پی سنگھ کیپ اور روسی پیٹرن کی مختلف شکلیں بنائی جاتی ہیں۔ کشمیری لوگ زیادہ تر جناح اسٹائل کو ترجیح دیتے ہیں جو آگے پیچھے برابر ہوتی ہے اور وقار کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
مظفر احمد کو اس پیشے کا سب سے بڑا چیلنج نئی نسل کی عدم دلچسپی لگتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کام محنت طلب ہے اور ایک ٹوپی بنانے میں چار سے پانچ گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ نئی نسل مشین سے بننے والے کام کو ترجیح دیتی ہے جبکہ قراقلی مکمل طور پر ہاتھ کی محنت سے تیار ہوتی ہے۔ اس کے باوجود وہ کوشش کرتے ہیں کہ نوجوانوں کو اس ہنر کی طرف راغب کریں تاکہ یہ روایت زندہ رہ سکے۔
جان کیپ ہاؤس آج بھی اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اگر محنت روایت اور ہنر کو سنبھال کر رکھا جائے تو وقت کی دھول بھی اسے مٹا نہیں سکتی۔ قراقلی صرف ایک ٹوپی نہیں بلکہ تاریخ عقیدت اور کشمیری شناخت کی علامت ہے جو نسلوں سے سر پر سجتی آ رہی ہے۔