کشمیر:توحیدہ نے خواتین کے کاروباری خوابوں کو کیا شرمندہ تعبیر

Story by  اے ٹی وی | Posted by  [email protected] | Date 06-09-2023
 کشمیر:توحیدہ نے خواتین کے کاروباری خوابوں کو کیا  شرمندہ تعبیر
کشمیر:توحیدہ نے خواتین کے کاروباری خوابوں کو کیا شرمندہ تعبیر

 

شیرین بانو

جولوگ اپنی مالی مشکلات کے باوجوداپنے ہدف کو سامنے رکھ کر جدو جہد کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ایسے لوگ ہمیشہ کامیاب ہوتے ہیں۔ کامیابی کبھی بھی ان سے منھ نہیں موڑتی ہے۔ کشمیر کبھی ایسا ہوا کرتا تھا، جب وہاں سے بندوقوں کی گولی کی آواز سنائی دیتی تھی، لیکن آج وادی کشمیر سے کامیابیوں کی کہانی نکل کرسامنے آ رہی ہے۔ ہر دن ہڑتال اور کشمیر بند اب ماضی کی بات بن چکی ہے۔ اب وہاں کے لوگ ملک کے ساتھ کھڑے ہونے میں فخر محسوس کر رہے ہیں۔ اور وادی میں مسلسل امن،ترقی اورخوشحالی دکھائی دے رہی ہے۔

کشمیر کے نوجوانوں کے پاس بہت سارے وسائل نہیں ہیں،اس کے باوجود وہ متاثر کن کارنامے انجام دے رہء ہیں،چاہے وہ اپنے کیرئیر میں نئی بلندیوں کو چھونے کی بات ہو یا معاشرے کے ضرورت مندوں کی مدد کرنے اور ان کے خوابوں کو اڑنے کے لیے پر دینے کی بات ہو اور آنے والے دنوں میں ان کا کردار قوم کی تعمیر میں کسی سے کم نہیں ہوگا۔

ایسی ہی ایک کہانی وادی کے ایک مزدور کی بیٹی توحیدہ اختر کی ہے۔

توحیدہ اختر کے والد گھریلو ملازم کے طور پر کام کرکے اپنا گزارہ کرتے تھے جس کی وجہ سے ان کا خاندان بمشکل چل پاتا تھا۔ اس لیے اس کے گھر میں ہمیشہ پیسے کی کمی رہتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ توحیدہ کو بارہویں جماعت کے بعد پڑھائی چھوڑنی پڑی۔ وہ اپنے خاندان اور بہن بھائیوں کے لیے کچھ کرنا چاہتی تھیں۔ اس بات کو یاد کرتے ہوئے 30 سالہ توحیدہ کہتی ہیں میرے والد ایک مزدور تھے اور مجھے تعلیم دلانے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے، تاہم، میں نے گھر میں بیکار بیٹھنے سے انکار کر دیا اور اپنا داخلہ بمینہ انڈسٹریل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ (آئی ٹی آئی) میں کرایا۔

وہ کہتی ہیں کہ میں یہاں پر بہت محنت سے تعلیم حاصل کی، اور سخت محنت کا نتیجہ بہت اچھا رہا، میں نے اپنی کلاس میں ٹاپ کیا۔ جس نے مجھے زندگی میں نئی چیزیں آزمانے کا اعتماد دیا۔لیکن یہ سفر میرے لئے آسان نہیں تھا،کئی بار، میرے پاس بس میں سفر کرنے کے کرایہ کے لیے بھی اتنے پیسے نہیں ہوتے تھے۔ تاہم، مشکل وقت نے مجھے اپنے بھائیوں اور بہنوں کو اچھی تعلیم فراہم کرنے پر مجبور کیا۔ ''میرے خواب کو پورا کرنے اور مزید محنت کرنے کی ترغیب دی۔

توحیدہ کے تین بڑے بھائی اور ایک چھوٹی بہن ہے۔ انہیں پہلی کامیابی اس وقت ملی جب انہوں نے زینب انسٹی ٹیوٹ، معصومہ کے زیر اہتمام ایک مقابلے میں حصہ لیا۔ وہ کہتی ہیں، ''میں نے یہ مقابلہ جیتا اور مجھے ایک نئی سلائی مشین انعام کے طور پر ملی، جس نے میری زندگی بدل دی۔ میں نے اپنی صلاحیتوں کو اچھے طریقے سے استعمال کیا اور سلائی کا کام شروع کیا۔ اس سے مجھے اچھی آمدنی ہونے لگی۔توحیدہ نے پھر ایک چھوٹا سا بوتیک قائم کیا، جو اب ایک کامیاب ادارہ ہے اور تقریباً 12 خواتین کو روزگار فراہم کرتا ہے۔

لیکن صرف اپنے اور اپنے خاندان کے لیے اچھی کمائی کافی نہیں تھی۔ لہذاتوحیدہ نے مجبور اور غریب  خواتین کو بااختیار بنانے کا فیصلہ کیا اور اس طرح لاوے پورہ میں ایک تربیتی مرکز کھولا۔

توحیدہ کہتی ہیں کہ میرے بوٹیک میں 12 ملازم ہیں۔ میں ٹیلرنگ اور مہندی کا فن سکھاتی ہوں۔ میں نے 1,150 سے زیادہ لڑکیوں کو تربیت دی ہے اور ان سے بہت کم فیس لیتی ہوں۔ میں غریب یا یتیموں سے فیس نہیں لیتی۔

توحیدہ شائننگ سٹار کے نام سے ایک سوسائٹی بھی چلاتی ہیں، جس کے ذریعے وہ خواتین کو اپنے بوٹیک یا آئی ٹی آئی میں مفت تربیت فراہم کرتی ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے 80 لڑکیوں کے لیے تین ماہ کا مفت فیشن ڈیزائننگ کورس اور 15 لڑکیوں اور تین لڑکوں کے لیے ایک سالہITI کورس کرنے کا بھی انتظام کیا ہے۔

توحیدہ کو یہ سب کرنے کی تحریک ان کے ماموں نذیر احمد راتھر نے دی۔ انہوں نے ہمیشہ توحیدہ کی حوصلہ افزائی کی۔ وہ کہتی ہیں کہ سلائی کے بعد، میں نے کڑھائی کا کام، بُنائی اور آری کا کام سیکھا۔ میں اپنی طالبات کو ہمیشہ کہتی ہوں کہ کوئی  بھی ہنر سیکھنے سے انہیں فائدہ مند روزگار تلاش کرنے میں مدد ملے گی، جس سے ان کا اعتماد بڑھے گا اور ان کی زندگی زیادہ آرام دہ ہوگی۔

توحیدہ کا سفر ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ اگر آپ اپنے آپ پر یقین رکھتے ہیں تو آپ اپنے خواب کو شرمندہئ تعبیر کر سکتے ہیں۔