میسی کے سبب ’بشت‘ہوا مقبول،اسٹورز پر گاہکوں کا رش

Story by  ایم فریدی | Posted by  [email protected] | Date 21-12-2022
میسی کے سبب ’بشت‘ہوا مقبول،اسٹورز پر گاہکوں کا رش
میسی کے سبب ’بشت‘ہوا مقبول،اسٹورز پر گاہکوں کا رش

 

 

 دوحہ: اتوار کو فیفا ورلڈ کپ کے فائنل کے بعد جب فاتح ٹیم کے کپتان لیونل میسی کو قطر کے امیر نے کالا اور سنہری چوغہ پہنایا تو اس وقت وہاں موجود احمد السلیم شائقین میں کچھ زیادہ ہی پُرجوش دکھائی دیے۔

ارجنٹائن کے کپتان کو پہنائے جانے والے گاؤن کو ’بشت‘ کہتے ہیں اور اس کی قیمت دو ہزار دو سو ڈالر ہے۔ یہ ایک روایتی عرب لباس ہے جس کو مرد اپنی شادی، گریجویشن یا پھر سرکاری تقاریب کے موقع پر پہنتے ہیں۔ احمد السلیم کے نسبتاً زیادہ پُرجوش ہونے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ یہ گاؤن انہی کی کمپنی نے تیار کیا تھا۔

سلیم نے ارجنٹائن اور فرانس کے درمیان ہونے والا فائنل دوحہ میں اپنے سٹور کے کیفے میں دیکھا جبکہ تھوڑی دیر قبل ہی انہوں نے ہاتھ سے بنے دو گاؤن ورلڈ کپ کے حکام کے حوالے کیے تھے۔

جن میں سے ایک لیونل میسی کے ناپ کا تھا جبکہ دوسرا فرانسیسی کپتان کے لیے تھا جو نسبتاً لمبا تھا۔ سلیم نے بتایا کہ ’ہمیں معلوم نہیں تھا کہ یہ چوغے کن کے لیے خریدے گئے ہیں۔‘ تاہم جب امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے میسی کو چوغہ پہنایا تو سلیم نے اپنی کمپی کا ٹیگ پہنچان لیا۔ جس کے بعد انہیں ایسا لگا کہ ایک ورلڈ کپ خود انہوں نے بھی جیت لیا ہے

قطر کے شاہی خاندان کو بشت سپلائی کرنے والا السلیم سٹور عام طور پر ایک دن میں آٹھ سے 10 پیس فروخت کرتا ہے۔ فائنل کے اگلے روز یعنی پیر کو یہ تعداد ڈیڑھ سو تک پہنچی۔

سلیم کا کہنا تھا کہ ’میسی نے بشت کو مشہور بنا دیا ہے، اس روز ایک وقت ایسا بھی آیا جب درجنوں کی تعداد میں لوگ سٹور کے باہر انتظار کر رہے تھے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق ارجنٹائن سے تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ بعدازاں انہیں سڑک پر بھی ایسے آٹھ ارجنٹائن لوگ نظر آئے جو بشت پہنے اور ورلڈ کپ کی کاپی اٹھائے اپنا قومی گیت گاتے ہوئے جا رہے تھے۔ جب سلیم اے ایف پی سے بات کر رہے تھے اس وقت بھی شائقین دکان میں داخل ہوئے اور میسی کو بشت پہنانے کو سراہتے ہوئے ایک اچھا اشارہ قرار دیا۔

اس موقع پر موریسیو گارشیا نے بتایا کہ ’ہمیں یہ دیکھ بہت خوشی ہوئی، یہ ایک بادشاہ کی جانب سے دوسرے بادشاہ کو تحفہ تھا۔‘ گارشیا نے بشت خریدنا چاہی مگر قیمت زیادہ ہونے کی وجہ سے ارادہ ملتوی کر دیا۔

جمع ہونے والے دیگر افراد جن میں زیادہ تر یورپین تھے، نے کچھ تنقید بھی کی کیونکہ اس کی وجہ سے میسی کی شرٹ نیچے چھپ گئی تھی۔ تاہم دوسری جانب عرب دنیا میں سوشل میڈیا صارفین نے اس کا بھرپور خیرمقدم کیا۔ سلیم اور دیگر عرب افراد نے وضاحت کی کہ اس کا مقصد میسی کو ’تعظیم‘ دینا تھا، جس کو شاید درست طور پر سمجھا نہیں گیا

 

سلیم نے کہا کہ ’کہ جب کوئی شیخ کسی کو بشت پہناتا ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ اس کو عزت دی جا رہی ہے اور اس کے کام کو سراہا جا رہا ہے۔ سوئٹزر سے تعلق رکھنے والی پروفیسر کیرول گومیز نے کہا کہ یہ قطر کے لیے ایک اہم موقع تھا اور ان کا کہنا تھا کہ یہ قطر کے لیے بہت ہی اہم لمحہ تھا کیونکہ وہ ورلڈ کپ کی تشہیر کو فروغ دینا چاہتا ہے۔

’وہ تصاویر بہت دور تک پہنچیں، ان کو لوگوں نے محفوظ بھی کیا اور آگے شیئر بھی کیا۔‘ سلیم نے بتایا کہ جب فیفا ورلڈ کے حکام ان کے سٹور پر پہنچے تو انہوں نے ہلکے اور شفاف بشت طلب کیا تھا۔ ان کے مطابق ’مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کیونکہ ان دنوں موسم سرما چل رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس کا مقصد یہ تھا کہ ٹیم کی کِٹ نیچے نہ چھپے اور نظر آئے۔

زیادہ تر خلیجی ممالک میں جو بشت شوق سے پہنا جاتا ہے ال سلیم اس کے بڑے پروڈیوسرز میں سے ہیں۔ ان کے پاس تقریباً 60 درزی کام کرتے ہیں۔ ایک بشت کی تیاری میں ایک ہفتے کا وقت لگتا ہے اور تیاری کے سات مراحل سے گزرتا ہے۔ اسی طرح بعدازں اس پر دیگر کاریگر کام کرتے ہیں جن میں آستینوں اور سامنے سنہری تاروں کا لگایا جانا بھی شامل ہے۔ جو بشتمیسی کو پہنایا گیا اس پر جو سونے کا دھاگہ استعمال ہوا وہ جرمنی اور نجفی کاٹن جاپان سے منگوائی گئی تھی۔