شاہ تاج خان(پونے)
عصرِ حاضر کی ایک بلند پایہ ماہرِ تعلیم، منتظم اور خواتین کی خود مختاری کی روشن علامت پروفیسر نجمہ اختر کو جامعہ ملیہ اسلامیہ جیسی مقتدر یونیورسٹی کی پہلی خاتون وائس چانسلر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔بطور وائس چانسلر 11اپریل 2019سے 12نومبر2023کے اپنے دور میں انھوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر ایک نئی پہچان دلانے میں اہم رول ادا کیا۔ 1920میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی تشکیل کے بعد نجمہ اختر جامعہ کی 16ویں وائس چانسلر بنیں۔ اس کے علاوہ دہلی کی کسی مرکزی یونیورسٹی کی پہلی خاتون وائس چانسلر بن کر انھوں نے تاریخ رقم کی۔ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے حکومتِ ہند نے انھیں 2022 میں پدم شری اعزاز سے نوازا۔
پروفیسر نجمہ اختر جو جامعہ ملیہ اسلامیہ کی پہلی خاتون وی سی بنیں
وہ کیا آرزو جس میں کاوش نہیں
پروفیسر نجمہ اختر اردو زبان کی حامی رہی ہیں لیکن ان کی زیادہ تر تصانیف اور تحقیقی کام انگریزی زبان میں ہیں۔ ان کی علمی خدمات کا ایک بڑا حصّہ تعلیمی پالیسی سازی اور انتظامی امور پر مبنی ہے۔ انھوں نے کئی اہم کتابیں تصنیف اور ایڈٹ کی ہیں۔ انھوں نے اپنی کتاب Revolutionizing Education: Navigating the NEP 2020 Eraمیں نئی تعلیمی پالیسی کے نفاذ اور اس کے ممکنہ اثرات کا علمی جائزہ لیا ہے۔ان کی دوسری اہم کتاب Mann ki Baat: A Medium of Communication ہے جو کہ ایک منفرد کافی ٹیبل بُک ہے۔ جس میں وزیرِ اعظم نریندر مودی کے ریڈیو پروگرام کے سماجی اور تعلیمی اثرات کو قلم بند کیا گیا ہے۔ Higher Education in India: Issues and Challenges میں نجمہ اختر نے اعلٰی تعلیم کے نظام میں پیش آنے والے مسائل کو تحریر کیا ہے جس میں خاص طور پر انھوں نے معیارِ تعلیم اور انتظامی اصلاحات پر توجہ مرکوز رکھی ہے۔تصانیف کے علاوہ ان کے 100سے زائد تحقیقی مقالات قومی اور بین الاقوامی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔ وہ تعلیمی انتظام اور صنفی مساوات جیسے موضوعات کو زیرِ بحث لاتی رہی ہیں۔ انھوں نے قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان کے لیے عربی زبان سیکھنے کے ماڈیولز کی تیاری میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
کوششیں خود ہی کرنا پڑتی ہیں
پروفیسر نجمہ اخترنے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی تاریخ ساز قیادت کرتے ہوئے نہ صرف جامعہ کو ملک کی بہترین یونیورسٹیوں میں تیسرے درجہ تک پہچایا بلکہ این آئی آر ایف(NIRF)اور این اے اے سی(NAAC)سے اعلٰی ترین A++ گریڈ بھی حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ اس کے علاوہ جامعہ میں میڈیکل کالج کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں اور دیرینہ خواہش کو بھی نجمہ اختر کے دور میں ہی حکومتِ ہند سے باقاعدہ منظوری ملی۔جامعہ ملیہ اسلامیہ کی سو سالہ تاریخ میں میڈیکل کالج کا قیام ایک خواب تھا جسے پروفیسر نجمہ اختر نے حقیقت میں تبدیل کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے۔
بطور وائس چانسلر انھوں نے جامعہ میں تیس سے زائد نئے اور جدید کورسز متعارف کرائے ہیں۔ ان کے دورِ اقتدار میں جامعہ میں طبی اور تکنیکی شعبوں ، ڈیزائن اینڈ انوویشن، ہاسپیٹیلیٹی مینجمنٹ ، ڈیجیٹل لرننگ اور آئی او ٹی وغیرہ جیسے مستقبل کی ضرورت کے مطابق نئے تکنیکی کورسز بھی شروع کیے گئے ہیں۔
صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کے ساتھ پروفیسر نجمہ اختر
سفر میں دھوپ تو ہوگی جو چل سکو تو چلو
نجمہ اختر کی تعلیمی خدمات چار دہائیوں پر محیط ہیں۔ان کی زندگی علمی پیاس اور قائدانہ صلاحیتوں سے عبارت ہے۔ نجمہ اختر 13نومبر1953میں پیدا ہوئیں۔ انھوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی جہاں انہیں گولڈ میڈل سے بھی نوازا گیا۔ پروفیسر نجمہ اختر نے اپنی پی ایچ ڈی کروکشیتر یونیورسٹی سے مکمل کی۔ ان کا موضوع ‘‘اعلٰی تعلیم کے روایتی اور فاصلاتی نظام کا تقابلی جائزہ’’ (A Comparative Study of Conventional and Distance Education Systems in Higher Education)تھا۔ ان کی تحقیق کا محور روایتی یونیورسٹیوں اور اوپن یونیورسٹیوں کے تعلیمی معیار ، انتظام اور نتائج کے فرق کو واضح طور پر پیش کرنا تھا۔
پروفیسر نجمہ اختر کو برطانیہ کی واروک یونیورسٹی(University of Warwick)میں تحقیق کا موقع ملا۔ اس کے علاوہ انھوں نے امریکہ میں فل برائٹ فیلو شپ کے تحت تعلیمی منصوبہ بندی پر کام کیا۔ انھوں نے فرانس میں انٹر نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ایجوکیشنل پلاننگ (IIEP) سے تعلیمی منصوبہ بندی کی تربیت بھی حاصل کی۔
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
پروفیسر نجمہ اختر نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز علی مسلم یونیورسٹی سے کیا۔ جہاں وہ کنٹرولر آف ایگزامینیشن اور داخلہ کے شعبے کی سربراہ رہیں۔ انھوں نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشنل پلاننگ اینڈ ایڈمنسٹریشن(NIEPA)میں پندرہ سال سے زائد عرصہ تک بطور پروفیسر اور شعبہ ٹریننگ کے سربراہ کے طور پر کام کیا۔ وہ اتر پردیش کے شہر پریاگ راج میں قائم ہونے والے اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشنل مینیجمنٹ اینڈ ٹریننگ(SIEMAT)کی بانی ڈائیریکٹر رہیں۔انھوں نے بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی مہارتوں کا مظاہرہ کیا۔ وہ یونیسکو(UNESCO)، یونیسیف(UNICEF)اور ڈینایڈا(DANIDA)جیسے اداروں کے ساتھ بطور تعلیمی مشیر وابستہ رہی ہیں۔
متعدد ایوارڈ ز اور اعزازات کی حقدار بنیں پروفیسر نجمہ اختر
اپنا زمانہ آپ بناتے ہیں اہلِ دل
پروفیسر نجمہ اختر کو ان کی خدمات بالخصوص جامعہ ملیہ اسلامیہ کو بلندیوں تک پہنچانے پربھارت کے چوتھے بڑے شہری اعزاز پدم شری سے نوازا گیا۔ وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ایسی پہلی وائس چانسلر تھیں جنہیں عہدے پر رہتے ہوئے 2022میں صدرہند رام ناتھ کووند کے ہاتھوں یہ معزز اعزاز حاصل ہوا۔2023میں ٹیم ایز ایڈٹیک(TeamLease EdTech)نے تعلیم کو روزگار سے جوڑنے کی کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں لائف ٹائم اچیومینٹ ایوارڈ۔اکیڈمیا سے نوازا۔ اسی سال (2023)میں زی میڈیا گروپ نے تعلیم کے میدان میں ان کی بصیرت افروز قیادت پر انہیں نیشنل اچیورز ایوارڈ دیا۔ پروفیسر نجمہ اختر کو 2023میں این سی سی کا اعزازی ‘کرنل کمانڈنٹ’ بھی مقرر کیا گیا۔
پروفیسر نجمہ اخترکو تدریس و تحقیق میں بہترین کارکردگی کے لیے 2013میں یو جی سی ایکسی لینس ایوارڈ تفویض کیا گیا۔ بہترین استاد کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے انھیں 2010 میں مولانا ابوالکلام آزاد ایوار ڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔
پروفیسر نجمہ اختر کی کامیابی کوئی اتفاق نہیں بلکہ یہ انعام ہے مسلسل کی جانے والی محنت اور کبھی نہ ہار ماننے والے جذبے کا۔منزلیں ان ہی کو ملتی ہیں جو جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھتے ہیں۔ گولڈ میڈل سے پدم شری تک پہنچنے والی پروفیسر نجمہ اختر کی زندگی عزم، حوصلہ ، قیادت اور تعلیمی اصلاحات کی ایسی روشن مثال ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہے۔