جمیلہ نشاط: شاعرہ، سماجی کارکن اور خواتین کے حقوق کی توانا آواز

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 01-07-2026
جمیلہ نشاط: شاعرہ، سماجی کارکن اور خواتین کے حقوق کی توانا آواز
جمیلہ نشاط: شاعرہ، سماجی کارکن اور خواتین کے حقوق کی توانا آواز

 



 شاہ تاج خان(پونے)

حیدر آباد سے تعلق رکھنے والی جمیلہ نشاط کی شخصیت کے دو اہم رخ ہیں، ایک ان کی مزاحمتی شاعری اور دوسرا ان کا فلاحی ادارہ ‘شاہین’۔ جمیلہ نشاط نے اپنی زندگی خواتین کے حقوق کے لیے وقف کر دی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ہر عورت کو چاہئے کہ وہ ہمت سے رہے، اپنے آپ پر بھروسہ رکھے اور کبھی مجبور محسوس نہ کرے۔تعلیم کے ذریعےخواتین خود مختار بنیں، ظلم اور نا انصافی کے خلاف آواز اٹھائیں۔ معاشی،ذہنی اور جذباتی طور پر اپنے آپ کو مضبوط بنائیں۔تاکہ وہ کندھے سے کندھا ملا کر چل سکیں۔
جمیلہ نشاط نے آواز دی وائس سے فون پر ہوئی گفتگو میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ جب میں نے شاہین ویمین ریسورس اینڈ ویلفئیر قائم کرنے کے بعد کام شروع کیا تب لڑکیوں کو صرف دسویں تک اور لڑکوں کو ڈاکٹر ، انجینئر بنانے پر توجہ دی جاتی تھی۔ مگر اب حالات بدلے ہیں ، لڑکیاں اعلٰی تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور اپنے پیروں پر کھڑی ہو رہی ہیں۔جمیلہ نشاط ایک ممتاز اردو شاعرہ، ادیبہ اور سماجی کارکن ہیں۔وہ خواتین کے حقوق بالخصوص مسلم خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے خدمات انجام دے رہی ہیں۔ 
 
منزل کی جستجو ہے تو جاری رہے سفر
جمیلہ نشاط کا قائم کردہ ادارہ ‘شاہین’ حیدر آباد کے پرانے شہر سلطان شاہی میں پسماندہ خواتین خاص طور پر مسلم خواتین کے مسائل کے حل تلاش کرنے میں ان کی مدد کر رہا ہے۔جمیلہ نشاط کوپختہ یقین ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم ان کی خود مختاری اور سماجی انصاف کے لیے پہلی سیڑھی ہے۔وہ مانتی ہیں کہ لڑکیوں کی تعلیم ان کے معاشی طور پر با اختیار ہونے کا حل ہے۔ اسکول چھوڑنے والی لڑکیوں کو دوبارہ تعلیم سے جوڑنا ادارہ شاہین کی ترجیحات میں شامل ہے۔
جمیلہ نشاط غربت یا سماجی دباؤ کی وجہ سے اسکول چھوڑ چکی لڑکیوں کی اوپن اسکولنگ کے ذریعے ان کی تعلیم کا انتظام کراتی ہیں۔ ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں تاکہ وہ امتحانات دے کر اپنا تعلیمی سفر جاری رکھ سکیں۔ اتنا ہی نہیں تعلیم کے ساتھ وہ پیشہ ورانہ تربیت دے کر انھیں خود کفیل بنانے میں مدد کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ خواتین کو تعلیم کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کا ادراک کرنا چاہئے روایتی تعلیم کے ساتھ پیشہ ورانہ تربیت بھی ضروری ہے، تاکہ لڑکیاں کسی کی محکوم بننے کی بجائے اپنی دنیا خود پیدا کریں۔ وہ کہتی ہیں کہ اگر ایک لڑکی تعلیم یافتہ ہو کر کمانے لائق ہو جائے تو وہ نہ صرف اپنی بلکہ اپنے خاندان کی بھی بہتر کفالت کر سکتی ہے۔
 عورت ہوں مگر صورتِ کہسار کھڑی ہوں
اس ادارے کا بنیادی مقصد گھریلو تشدد، جنسی ہراسانی کی شکار خواتین کو قانونی و سماجی تحفظ فراہم کرنا ہے۔ 2002میں قائم اِس تنظیم نے ‘کنٹریکٹ میرج’ کے خلاف مہم چلائی، کم عمر ی کی شادیوں کو رکوانے میں کلیدی رول ادا کیا۔جس کے تحت انھوں نے ہزاروں خواتین کو قانونی و معاشی مدد فراہم کی۔جمیلہ نشاط نے بتایا کہ تنظیم شاہین کے تحت ہم‘‘سکھی’’ پروگرام چلاتے ہیں۔ جو خاص طور پر تشدد کی شکار خواتین کو فوری مدد کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ سکھی ون اسٹاپ سینٹر جسمانی، ذہنی یا جنسی تشدد کا شکار ہونے والی خواتین کو ایک ہی چھت کے نیچے تمام ضروری سہولیات فراہم کرتا ہے۔اِس پروگرام کے تحت متاثرہ خواتین کو طبی امداد، قانونی مشاورت، نفسیاتی کونسلنگ، پولیس معاونت اورہنگامی صورتحال میں عارضی پناہ گاہ کا بھی فوراً انتظام کیا جاتا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ سکھی پروگرام کے ذریعے اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ سماجی رکاوٹوں یا خوف کی وجہ سے کوئی بھی عورت خود کو تنہا محسوس نہ کرے ۔
تم مجھ سے پوچھتے ہو مرا حوصلہ ہے کیا
جمیلہ نشاط1955میں حیدر آباد میں پیدا ہوئیں۔انھوں نے عثمانیہ یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ایم اے اور تھیٹر آرٹس میں پوسٹ گریجوئیٹ ڈپلوما حاصل کیا۔ادبی دنیا میں وہ ایک شاعرہ کی حیثیت سے مقبول ہیں۔انھوں نے خواتین کے احساسات اور سماجی ناانصافیوں کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے۔ان کی شاعری کا سب سے بڑا خاصہ خواتین کے وجود کا بے باک اظہار ہے۔ان کا کلام محض شاعری نہیں بلکہ سماجی جمود کے خلاف ایک احتجاج ہے۔ ان کے لہجے میں دکنی اردو کی چاشنی اور وہاں کی تہذیب کی جھلک نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ ان کی شاعری دکنی تہذیب اور جدیدیت کا خوبصورت سنگم ہے۔ ان کی شاعری کا لہجہ دھیمہ مگر اس کا اثر بہت گہرا ہے۔ان کی مختصر نظموں میں سماجی درد کو فنکارانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ لاوا (2000)، انکشاف(2000)، لمحے کی آنکھ(2002)، لمس کی سوغات(2006) ، Butterfly Caresses(2015) کتابیں شائع ہو کر داد وصول کر چکی ہیں۔ ان کی اگلی کتاب دہکتے انگارے کا 21 فروی(2026)کو حیدر آباد میں رسمِ اجرا عمل میں آئے گا۔
طوفان سے لڑنے کا مزا اور ہی کچھ ہے
جمیلہ نشاط کو ان کی ادبی اور سماجی خدمات کے اعتراف میں کئی ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔مخدوم ایوارڈا(1972) انھیں ان کی ادبی خدمات کے آغاز میں ہی آندھرا پردیش اردو اکیڈمی کی جانب سے دیا گیاتھا۔دیوی پرشاد رائے چودھری ایوارڈ (1990) ان کی بہترین تخلیقی اور ادبی کاوشوں کے لیے دیا گیا۔یہ ایوارڈ عام طور پر ان شخصیات کو دیا جاتا ہے جو اپنے فن کے ذریعے معاشرے میں تبدیلی لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لاڈلی ایوارڈسے (2012)میں نوازا گیا۔ یہ ایوارڈ انھیں صنفی حساسیت اور خواتین کے مسائل کو میڈیا اور ادب میں نمایاں طور پر پیش کرنے کے لیے دیا گیا۔ مارتھا فیرل ایوارڈ(2021)جمیلہ نشاط کو صنفی مساوات کے زمرے میں انھیں اس ایوارڈ سے نوازا گیا ۔ شاہین کے ذریعے خواتین کے حقوق کے لیے نمایاں کام کے لیے انھیں یہ ایوارڈ دیا گیا۔ اس کے علاوہ حکومتِ تلنگانہ کی جانب سے 2019میں خصوصی ایوارڈ اور دیگر مقامی اور قومی تنظیموں کی جانب سے انھیں اور ان کے کام کو سراہا گیاہے۔
گو آبلے ہیں پاؤں میں پھر بھی
جمیلہ نشاط وہ نام ہے جس نے نہ صرف شاعری کو عورت کی آواز بنایا بلکہ عملی میدان میں اتر کر ہزاروں خواتین کی زندگیوں میں امید کے چراغ روشن کیے۔ بحیثیت شاعرہ جب قلم اٹھایا تو معاشرے کے فرسودہ روایات کو چیلینج کیا۔ انھوں نے اپنے کاموں سے واضح کیا کہ مضبوط ارادہ معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کے لیے امید کی کرن بن سکتا ہے۔ جمیلہ نشاط اس بات پر اطمینان کا اظہار کرتی ہیں کہ اب تعلیم کے میدان میں لڑکیاں خود کو منوا رہی ہیں مگر اب گھریلو تشدد کے واقعات میں اضافہ درج ہواہے جو کہ تشویش کا باعث ہے۔سکھی سینٹر میں اب ہر روز کم سے کم تین تشدد کے معاملات آنے لگے ہیں ۔کام اب مزید بڑھ گیا ہے وہ کہتی ہیں کہ جب تک کسی مظلوم کو انصاف نہ مل جائے مجھے سکون نہیں ملتا ۔ جمیلہ نشاط کا قلم اور قدم لگاتار چل رہے ہیں۔ ان کا سفر جاری ہے۔۔۔!