ماہر تعلیم، مترجم اور اردو ادب کی نقاد ارجمند آرا

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 11-05-2026
ماہر تعلیم، مترجم اور اردو ادب کی نقاد ارجمند آرا
ماہر تعلیم، مترجم اور اردو ادب کی نقاد ارجمند آرا

 



 شاہ تاج خان (پونے) 

ماہر تعلیم، مترجم اور اردو ادب کی نقاد ارجمند آرا،دہلی یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں بطور پروفیسر اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ وہ بلند پایا مترجم ہیں تو باکمال معلمہ اور محقق بھی، وہ تانیثی مفکر اور سنجیدہ نقاد ہیں تو بے باک دانشور بھی۔وہ اردو ادبی دنیا میں روایت کی محافظ اور جدید عالمی شعور کے درمیان ایک مضبوط کڑی کے طور پر دیکھی جاتی ہیں۔ انھیں 2021میں اروندھتی رائے کے انگریزی ناول The Ministry of Utmost Happinessکا اردو ترجمہ ‘‘بے پناہ شادمانی کی مملکت’’پر ساہتیہ اکیڈمی کے ترجمہ ایوارڈ سے نوازا گیااور 2013 میں دہلی اردو اکیڈمی نے بھی ترجمہ کے لیے انہیں اعزاز سے نوازا ہے ۔ ارجمند آرا سے آواز دی وائس نے فون پر گفتگو کی۔ 
 
ایک طویل کہانی ہے 
ایک محقق اورباشعورمترجم ارجمند آرا ،اصل متن کی روح کو برقرار رکھنے کے لیے لفظی ترجمے کی بجائے مفہوم کی منتقلی پر توجہ دیتی ہیں۔ وہ آواز سے بات چیت میں  کہتی ہیں کہ ترجمہ کرنے کے لیے دونوں زبانوں پر پکڑ ہونا ضروری ہے تبھی تو آپ اس زبان کی باریکیوں کو سمجھ سکیں گے۔ آپ جس زبان میں متن منتقل کر رہے ہیں اس میں تو مہارت کی ضرورت ہے تاکہ لفظوں کا صحیح استعمال کر سکیں۔کل ملا کر دونوں زبانوں پر عبور حاصل ہونا چاہئے۔
اس کے ساتھ موضوع اور تہذیب و ثقافت سے واقفیت بھی ضروری ہے۔وہ اب تک تقریباً 20 سے زائد اہم کتابوں کے ترجمے کر چکی ہیں۔ انھوں نے عالمی ادب اور ہندوستانی ادب کو ایک زبان سے دوسری زبان میں منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ترجمہ کی گئی ان کی اہم کتابوں میں بے پناہ شادمانی کی مملکت( اروندھتی رائے کے ناول کا ترجمہ 2018)، یہ بصارت کش اندھیرے (نائیجیریائی ۔ فرانسیسی مصنف طاہر بن جلون کے ناولThis Blinding Absence of Light کا ترجمہ 2020)، لاش کی نمائش اور دیگر عراقی کہانیاں (عراقی مصنف حسن بلاسم کے افسانوں کا مجموعہ2019)، سنگ صبور( The Patience Stone(2016)، خاکستر و خاک (2017)Earth and Ashes)، خواب اور خوف کی ہزار بھول بھلیاں (2021)(تینوں ناول عتیق رحیمی کے ہیں)، سورج کا ساتواں گھوڑا(دھرم ویر بھارتی کے ہندی ناول کا اردو ترجمہ2019))، اسلام اور مغرب (ژاک دیریدا اور مصطفٰی شریف کی گفتگو کا ترجمہ2023))، جوئندہ یا بندہ(2005)(رالف رسل کی خود نوشتFindings, Keepings:Life, Communism and Everything )، شمال کی جانب ہجرت کا موسم (طیب صالح کا ناول Season of Migration to the North)،ہاشم پورہ 22 مئی ( وبھوتی نارائن رائے )وغیرہ کے علاوہ مختلف تنقیدی نظریات کے تراجم و تالیف پر مبنی کتاب‘ نظری ڈسکورس’ بھی ان کے علمی تراجم میں شامل ہے۔
عالمی ادب کو اردو زبان میں منتقل کرنے کے ساتھ انھوں نے اردو سے ہندی میں تراجم پر بھی خاص توجہ دی ہے۔ارجمند آرا نے جیم عباسی کا اردو ناو ل سندھو(2024) ،پاکستانی افسانوں کا انتخاب (2024)، آج کی پاکستانی کہانیاں۔ جلد اول ، آج کی پاکستانی کہانیاں۔ جلد دوم (2024)، مصری مصنفہ میرال الطحاوی کا ناول ‘الخباء’ کا ترجمہ ‘ خیمہ’ کے عنوان سے ہندی زبان میں کیا ہے۔ اتنا ہی نہیں ارجمند آرانے کلاسیکی متون کی تدوین کا کام بھی بہت خوبصورتی سے انجام دیا ہے۔ انھوں نے کلاسیکی اردو ادب کے قدیم متون کو جدید تحقیقی اصولوں کے مطابق مرتب کیا ۔اٹھارویں صدی کے دہلی کے شاعر احسان اﷲ خان بیان کے کلام کی تدوین ، دیوانِ بیان ((2004 میں،منشی بال مکند بے صبر کی مثنوی، مثنوی لختِ جگر (1999)میں کی۔ اس کے علاوہ سارہ شگفتہ کے کلام آنکھیں ، نیند کا رنگ(2022) میں ہندی قارئین کے لیے نہایت اثر انگیز انداز میں منتقل کیا ۔
ایک مترجم سے اپنی توقعات کا ذکر کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ مترجم کومتن اچھا کرنے کا حق نہیں ہے کہ میں اِس سے بہتر کر کے دکھاؤں۔مصنف کے ساتھ ایمانداری برتنا ہماری ذمہ داری ہوتی ہے۔ ہمیں یہ لگنا چاہئے کہ وہ ایک مختلف کلچر ہے۔میں کسی بھی جملے کو نکالتی نہیں ہوں اور نا ہی اضافہ کرنا چاہتی ہوں۔ اگر وضاحت کی ضرورت ہوگی تو میں اسے فٹ نوٹ میں لکھوں گی۔مشینی ترجمہ کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ نقل کو بھی عقل کی ضرورت ہے۔وہ مانتی ہیں کہ مشین ایک مترجم کے لیے معاون ہے۔ٹیکنالوجی نے مدد کی ہے لیکن اس کے نوک پلک در ست کرنے کے لیے ایک تربیت یافتہ ماہر مترجم کی ضرورت ہمیشہ رہے گی۔
اردو غزل میں عورت خاموش نظر ٓاتی ہے 
اردو شاعری میں عورت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ اردو غزل میں عورت بالکل خاموش نظر آتی ہے۔اس کے بارے میں مرد گفتگو کر رہا ہے،وہ اپنے جذبات پیش کر رہا ہے وہ اسے اپنے نقطۂ نظر سے دیکھ رہا ہے۔ وہ محبوبہ ہے ، ہرجائی ہے ،بے وفا ہے وہ عورت کے تئیں اپنے جذبوں کا اظہار کر رہا ہے مگر عورت مکمل طور پر خاموش ہے۔ اس کے جذبوں کو کسی شاعر نے کوئی جگہ نہیں دی۔ اس کے لیے عورت ایک چیز ہے۔جس سے وہ محبت کرتا ہے ، نفرت کرتا ہے ٹھیک اسی طرح جیسے ایک بچہ اپنے کھلونوں کے ساتھ کرتا ہے۔ 
ان کا کہنا ہے کہ شاعری کا پورا ڈسکورس ہی مردانہ ڈسکورس ہے۔آج بھی ادب کا میدان مردوں کا ہی میدان ہے۔عورتوں کے لیے آج بھی کوئی جگہ نہیں ہے۔جاگیردارانہ مزاج کا معاشر ہ جہاں عورت گھر میں رہے تو مقدس ہے اور تفریح کے لیے باہر عورت موجود ہے۔یہ کلچر آج بھی تبدیل نہیں ہوا ہے۔یہ خالص اسی جاگیردارانہ دور کی ذہنیت کا غماز ہے۔وہ عورت کو پیکرِ جمال نہیں بلکہ عورت کو بطور انسان دیکھنا چاہتی ہیں۔ ان کے نزدیک تانیثی ادب کا سب سے بڑا مقصد خاموشی کو توڑنا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ جب ایک عورت لکھتی ہے تو اس کا تجربہ مرد سے مختلف ہوتا ہے۔ اس لیے اس کی تنقید کے پیمانے بھی الگ ہونا چاہئیں۔وہ ان ادباء کی قدر کرتی ہیں جنھوں نے عورت کو گوشت پوست کے انسان کے طور پر پیش کیا۔ کتاب ‘تانیثی مطالعہ اور دوسرے مضامین’ (2015)میں انھوں نے تانیثیت کو محض ایک مغربی نظریے کے طور پر نہیں بلکہ اردو زبان و ادب کے مخصوص سماجی اور ثقافتی تناظر میں پیش کیا ہے۔ارجمند آرا اردو ادب میں خواتین کے کردار اور ان کے حقوق کی پرزور حمایت کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ خواتین ادباء کو روایتی خانوں سے نکل کر اپنی شناخت اور مسائل پر بے باکی سے لکھنا چاہئے۔
 
ٹوٹی ہوئی منڈیر پہ چھوٹا سا ایک دیا
دو دہائیوں سے زائد عرصے سے ارجمند آرا دہلی یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔وہ اردو ادب کو پرانے روایتی انداز کی بجائے جدید تنقیدی تناظر میں پڑھانے کی قائل ہیں۔ وہ ایم اے کے طلبہ کو اٹھارویں صدی کی دہلی کی شاعری، اقبالیات اور ترقی پسند تحریک وغیرہ جیسے موضوعات پڑھاتی ہیں۔ وہ ایم فل اور پی ایچ ڈی اسکالرز کو تحقیقی طریقہ کار ، متنی تنقید اور ادب کی عمرانیات میں رہنمائی کرتی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ آج جو بچے یونیورسٹی آرہے ہیں انہیں پڑھنے لکھنے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔پوری کلاس میں ایک دو بچے ہی ایسے ہوتے ہیں جو پڑھنے لکھنے کا ذوق و شوق رکھتے ہیں۔اکثر طلبہ صرف ڈگری لینے آتے ہیں۔گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ میں چاہتی ہوں کہ طالبِ علم اپنے عہد کے سماجی اور سیاسی حالات سے بھی باخبر رہیں۔
ارجمند آرا نے قومی سطح کے تعلیمی اداروں جیسے اگنو(IGNOU)، این سی ای آر ٹی (NCERT) وغیرہ کے لیے نصاب کی تیاری اور تراجم میں اہم رول ادا کیا ہے۔اپنی تمام تر مصروفیات کے ساتھ وہ علمی مقالات لکھنے پر بھی توجہ دیتی رہی ہیں۔
 ان کے تحقیقی مقالات قومی و بین الاقوامی جرائد میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ رالف رسل کی یادیں ایک ایسا مقالہ ہے جس میں ارجمند آرا نے Findings, Keepings: Life, Communism and Everything کے ترجمے کے دوران رالف رسل سے ملاقاتوں پر مبنی تاثرات کو قلم بند کیا ہے۔ ان کے کئی ریسرچ پیپر جیسے ساحر کے سروکار، کلاسیکی غزل پڑھنے سے پہلے، وچاردھارا، بھاشا اور ساہتیہ ، میر: ایک شخص اور اس کا عہد وغیرہ بھی شائع ہوئے ہیں۔ 
 
اردو کوئی نہیں پڑھتا
دو سال سے میں اردو کی بجائے ہندی میں ترجمہ کرنے پر توجہ دے رہی ہوں۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اردو میں جو کچھ شائع ہوتا ہے مجھے یاد نہیں پڑتا کہ کسی نے مجھ سے آکر کہا ہو کہ ہم نے آپ کی فلاں کتاب پڑھی ہے، کتاب پسند آئی یا ترجمہ پسند آیا ۔ کوئی بھی اردو کتاب نہیں پڑھتا ہے۔یہ تو اردو کا حال ہے۔برخلاف اس کے میں نے ہندی میں کچھ کام کیا جیسے سارہ شگفتہ کے شعری مجموعوں کو ترجمہ کیاتو ہندی والے رابطے میں آئے ۔ مجھے اس تجربے سے یہ پتہ چل گیا کہ زندہ زبان کیا ہوتی ہے۔ ترجموں اور دیوناگری کی مدد سے لوگ اردو پڑھ رہے ہیں اور اس پر بات بھی کر رہے ہیں۔
اپنے قلم سے ارجمند آرا ہندی اور اردو کے درمیان ایک مضبوط لسانی پل کا کردار نبھا رہی ہیں۔انھوں نے عالمی سطح کے ادباء کو اردو زبان میں منتقل کرکے اردو فکشن کے دامن کو وسعت عطا کی ہے تو کلاسیکی متون کی تدوین کرکے گمشدہ ادبی ورثے کو نئی زندگی دینے کا کام بھی کیا ہے۔
آخر میں یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ارجمند آرا نے اپنی محنت سے یہ ثابت کیا ہے کہ ایک تربیت یافتہ ، ماہر مترجم متن کے صرف الفاظ ہی منتقل نہیں کرتا بلکہ وہ ایک تہذیب کو دوسری تہذیب سے روشناس کرانے کی ذمہ داری بھی نبھاتا ہے