شاہ تاج خان ۔ پونے
معاشرے کی فکری اور اخلاقی تعمیر میں تعلیم،ادب اور خدمتِ خلق کا کردارہمیشہ اہم رہا ہے۔جب یہ تینوں خوبیاں ایک ہی شخصیت میں یکجا ہو جائیں تو وہ سماج کے لیے ایک مثال بن جاتا ہے۔ ایک ایسی ہی شخصیت ڈاکٹر زاہدہ صدیقی ہیں جو دن رات مصروفِ عمل ہیں۔ شدید اور مسلسل علالت کے باوجود تعلیم، اردو زبان و ادب اور عام لوگوں کی فلاح و بہبود کی ان کی سرگرمیوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔زاہدہ آپا درس وتدریس کے پیشے سے وابستہ ہیں،ڈائیلسز پر ہونے کے باوجو داردو سے محبت اور خدمتِ خلق میں ان کاعزم و حوصلہ کبھی مانند نہیں پڑا ہے ۔آواز دا وائس نے ان سے گفتگو کی۔
بیمار وجود، بیدار عزم
ڈاکٹر زاہدہ صدیقی، انجمن اسلام ڈاکٹر محمد اسحٰق جمخانہ والا گرلز ہائی اسکول باندرہ میں تدریس کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔ وہ کوئز ٹائم ممبئی کی بانی و کنوینر ہیں جس کے تحت گزشتہ ستائیس برسوں سے اردو اسکولوں کے طلبہ میں جنرل نالج کے رجحان کو فروغ دینے کے لیے جدید طرز پر کوئز مقابلوں کا انعقاد کیا جاتا رہا ہے۔اب تک تقریباً تین سو کوئز مقابلوں کا انعقاد کیا جا چکا ہے۔اردو اسکولوں کی سب سے بڑی تعلیمی سرگرمی یعنی ‘‘دھمال۔ جنرل نالج کوئز مقابلے’’ کے چھبیسویں سالانہ پروگرام کا حال ہی میں اعلان کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ ‘‘اردو کی محبت میں’’کی نویں سالانہ تقریب تہنیت و پذیرائی کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ اس کے تحت اردو کے لیے خاموشی کے ساتھ بے لوث خدمات انجام دینے والی شخصیات کی خدمت میں اعترافیہ ایوارڈ اور محب اردو اعزاز پیش کیے جاتے ہیں۔اتنا ہی نہیں ڈاکٹر زاہدہ صدیقی اس موقع پراسکولوں اور کالجوں میں درس و تدریس کے فرائض انجام دینے والے شعراء کے لیے ‘‘اساتذہ کا مشاعرہ’’ کا بھی انعقاد کرتی ہیں۔

زاہدہ آپا کی زندگی کی جدوجہد
زاہدہ آپا نے بتایا کہ کوئزٹائم ممبئی کے مختلف پروگراموں کی فہرست میں ایک نئے مگر اہم پروجیکٹ ‘‘نئے قلمکاروں کی تلاش’’ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس پروجیکٹ کا مقصد اسکول سے لے کر پوسٹ گریجویٹ سطح تک ان طلبہ کی حوصلہ افزائی، رہنمائی اور تربیت کرنا ہے جن میں ادب تخلیق کرنے کا شوق اور صلاحیت ہے۔انھوں نے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ والدین اور سرپرستوں کی رہنمائی کے لیے وہ اکثر میٹنگ کا اہتمام کرتی ہیں جس کے لیے والدین کو چل کرہمارے پاس نہیں آنا پڑتابلکہ ہم خود ان کے قریب کسی بلڈنگ کی پارکنگ اور سوسائٹی کے ہال میں پروگرام کرتے ہیں ۔ تاکہ بچوں کی تعلیم کے متعلق ان کی بہتر رہنمائی کی جا سکے۔اس طرح کی کوشش کرتے ہوئے مانو وہ کہہ رہی ہوں کہ
مت بیٹھ آشیاں میں پروں کو سمیٹ کر
کر حوصلہ کشادہ فضا میں اڑان کا
ڈائلیسز پر ہونے کے باوجود ان کے گھر پر ہونے والی شعری و ادبی نشست اور پُر تکلف ضیافت کے اہتمام میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔ان نشستوں میں نامور ادیب اور شعراء شریک ہوتے ہیں۔ زاہدہ آپا کے گھر پر منعقد ہونے والی دو ماہی نشستوں کے معیار اور اہتمام کا اعتراف سبھی شرکا کرتے ہیں۔
جو علم کو عبادت کی طرح نبھاتے ہیں
تعلیم کے میدان میں کام کرنے والے افراد کسی بھی معاشرے کی ترقی، اخلاقی تعمیر اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھتے ہیں۔ یہ افراد صرف معلومات منتقل نہیں کرتے بلکہ نسلوں کی شخصیت سازی کرتے ہیں۔تعلیم ایسی چیز نہیں جو بچوں کے دماغ میں ٹھوس دی جائے نہ ہی بچے کا دماغ کوئی ڈبّہ ہے کہ اس میں معلومات کو بھر دیا جائے۔بلکہ یہ تو پوشیدہ قوتوں اور ذہنی صلاحیتوں کی نشوونما ہے۔ تب تعلیمی منظر نامے پر استاد نمودار ہوتا ہے۔ ایک ماہر استاد اپنے طریقہ تدریس سے محض اطلاعات اور معلومات کو طالب علم کے ذہن میں محفوظ ہی نہیں کرتا بلکہ ان کے اندر سوچنے سمجھنے اور حاصل علم کو عملی زندگی میں اتارنے اور استعمال کرنے کی صلاحیت بھی پیدا کرتا ہے ۔ وہ یہ جانتا ہے کہ یہ تا عمر چلنے والا ایک سلسلہ ہے۔ بچوں کا اکتساب ادنٰی سے اعلٰی کی جانب گامزن رہتا ہے۔ استاد بخوبی جانتا ہے کہ اکتسابی عمل میں سمت کا تعین اہمیت کا حامل ہے۔اگر اکتسابی تبدیلیاں مثبت ہوں گی تو ایک طالبِ علم کی ذہنی و فکری نشوونما اسے بہتر انسان بننے میں معاون و مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
ظاہر ہے کہ بچوں کے اندر ذہنی، اخلاقی، سماجی، نفسیاتی اور تجرباتی انداز سے سوچنے کی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے ایک استاد کی ضرورت ہوتی ہے۔ زاہدہ آپا کہتی ہیں کہ موجودہ دور میں ایک استاد کی ذمہ داری اور اہمیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ اب استاد کا کام صرف اطلاعات اور معلومات طالب علم تک منتقل کر دینا بھر نہیں ہے کیونکہ سوشل میڈیا کے اس دور میں انگشت کی حرکت سے ڈھیروں معلومات لمحہ میں دستیاب ہوتی ہیں۔ ایسے میں استاد کو نہ صرف روایتی استاد کا کردار نبھانا ہے بلکہ بدلتے سماجی منظر نامہ کے پیشِ نظر جدت طرازی اور نئی ٹیکنالوجی کو اپنے لائحہ عمل میں شامل کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔

زاہدہ صدیقی کی خدمات کو ہر سطح پر سراہا گیا ہے
مرے جنوں کا نتیجہ ضرور نکلے گا
زاہدہ صدیقی مڈل اسکول کی ٹیچر ہیں۔آٹھویں جماعت کے بچے بچپن سے نوجوانی کی جانب قدم بڑھا رہے ہوتے ہیں۔ ایسے دور میں طلبہ کی جسمانی، ذہنی اور جذباتی تبدیلیوں کو سمجھ کرنظم و ضبط کا دامن چھوڑے بغیر بچوں کا دوست بن کر ان کی رہنمائی کرناناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ زاہدہ آپا گفتگو کے دوران کہتی ہیں کہ میرے گھر کے دروازے بچوں کی مدد اور تعاون کے لیے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔ میں بچوں کے والدین سے بھی رابطے میں رہتی ہوں تاکہ طالبِ علم کے گھریلو حالات اور معاشرتی ماحول کو سمجھ کر اس کی عملی طور پر مدد کر سکوں۔ میں بچوں کے والدین سے شکایت کی بجائے بچے کے بہتر مستقبل کے لیے ان کے ساتھ مل کر حل تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔زاہدہ آپا اپنے طور پر اسکولوں کے غریب طلباء کے لیے اسکول فیس، یونیفارم، نوٹ بکس وغیرہ کا انتظام تو کرتی ہی ہیں ساتھ ہی ذی حیثیت افراد کو اس جانب متوجہ کرتی ہیں کہ وہ بچوں کی مدد اورمالی تعاون میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیں۔
فراغت سے دنیا میں ہر دم نہ بیٹھو
زاہدہ آپا گزشتہ چھ برس سے ڈائیلیسز پر ہیں۔ منگل اور ہفتہ یعنی ہفتے میں دو مرتبہ انھیں ڈائیلیسزکے لیے جانا ہوتا ہے۔ وہ اسکول سے ناغہ نہیں کرتیں بلکہ وقت پراسکول میں اپنے تدرسی فرائض انجام دیتی ہیں۔وہ تدریسی فرائض کے ساتھ ساتھ اسکول کے سائنس کلب اور نیچر کلب کی سرگرمیوں میں بھی فعال کردار ادا کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف ادبی و ثقافتی سرگرمیوں میں پوری ہمت اور مستعدی کے ساتھ شامل ہوتی ہیں۔کئی مواقع ایسے بھی آئے جب ان کی گردن میں کیتھیٹر(catheter) ہمہ وقت لگا ہواتھا اور وہ اپنے در س و تدریس کے فرائض، تقریبات کا انعقاد و اہتمام بھی کر رہی تھیں اور ان سے تعاون کے لیے ملاقات کی غرض سے آنے والے لوگوں سے ملاقات میں بھی کوئی رخنہ ،کوئی تعطل نہیں آیا تھا۔18جنوری 2026کے روز جنرل نالج کوئز مقابلے میں وہ چند روز قبل انجیوپلاسٹی(Angioplasty) اور اگلے روز دوسرے آپریشن کے لیے گئی تھیں۔ انھوں نے آپریشن کے بعد آرام کی بجائے اپنی ذمہ داریوں کو اہمیت دی ۔ ان کی مستعدی، عزم اور ذمہ داری دیکھ کر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ کچھ دن پہلے ہی ان کا آپریشن ہوا ہے۔کچھ عرصہ قبل ان کی گردن سے ڈائیلیسز کے لیے لگایا گیا عارضی انتظام (کیتھیٹر) ہٹا دیا گیا ہے جو پچھلے چار ماہ سے ڈائیلیسز کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔آپریشن کے بعدایک بار پھر پہلے کی طرح ان کا ڈائیلیسز فسچولا(fistula)کے ذریعے کیا جانے لگا ہے۔


خود بناتا ہے جہاں میں آدمی اپنی جگہ
زاہدہ آپا کو ‘‘علامہ سیماب اکبر آبادی کی علمی و ادبی خدمات کا تحقیقی اور تنقیدی جائزہ’’ پر ممبئی یونیورسٹی ،ممبئی نے پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض کی ہے۔ ان کی ایک کتاب‘‘مجھے سیماب کہتے ہیں’’ زیرِ طباعت ہے جوجلد ہی منظرِ عام پر آئے گی۔ ان کا قلم بھی لگاتار چل رہا ہے۔ ادب اور ماحولیات سے متعلق ان کے مضامین اکثر اخبارات و رسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ ڈاکٹر زاہدہ صدیقی کو ان کی تعلیمی، فلاحی اور ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے متعدد ایوارڈ اور اعزازات سے نوازا گیا ہے۔جن میں مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکادمی کا بہترین معلم اور اکادمی کا ہی خصوصی ایوارڈ ، اس کے علاوہ مجروح سلطانپوری ایوارڈ، کرم ویر بھاؤ راؤ پاٹل آدرش شکشکا پرسکاروغیرہ شامل ہیں۔
زاہدہ آپا کی زندگی اس بات کا جیتا جاگتاثبوت ہے کہ اصل طاقت جسم کی نہیں بلکہ ارادے اور عزم کی ہوتی ہے۔لگاتار کمزور ہوتا ان کا وجود بلند ارادوں کی راہ میں کبھی حائل نہ ہو سکا۔ ان کاجدوجہد بھرا یہ سفر واضح طور پر بتاتا ہے کہ اگر انسان چاہے تو بیماری صرف جسم تک محدود رہتی ہے عزم اور حوصلے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ دعا بھی ہے اورامید بھی کہ ان کا یہ جذبہ، حوصلہ اور عزم یونہی قائم رہے گا۔

