سحر علی: جذبات کو رنگوں میں ڈھالنے والی ماہرِ نفسیات

Story by  ATV | Posted by  Aamnah Farooque | Date 22-06-2026
سحر علی: جذبات کو رنگوں میں ڈھالنے والی ماہرِ نفسیات
سحر علی: جذبات کو رنگوں میں ڈھالنے والی ماہرِ نفسیات

 



رتنا جی چوٹرانی
 
آج کی تیز رفتار اور دباؤ سے بھرپور زندگی میں ذہنی صحت ایک اہم موضوع بن چکی ہے۔ بے شمار لوگ جذباتی مشکلات، ذہنی دباؤ، اضطراب اور زندگی کے مختلف چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ماہرینِ نفسیات اور معالجین کی مدد حاصل کر رہے ہیں۔ مگر اس میدان میں کچھ ایسے افراد بھی ہیں جو روایتی طریقوں سے ہٹ کر شفا کے نئے راستے تلاش کرتے ہیں۔ سحر علی انہی منفرد شخصیات میں سے ایک ہیں، جنہوں نے نفسیاتی علاج کو رنگوں، مصوری، مٹی اور تخلیقی اظہار کے ساتھ جوڑ کر ایک نئی جہت عطا کی ہے۔ ان کے نزدیک شفا صرف گفتگو سے نہیں بلکہ تخلیق، احساس اور خود اظہار کے ذریعے بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔
موجودہ دور کے چیلنجز نے لوگوں کو ذہنی صحت کے بارے میں پہلے سے زیادہ سنجیدہ بنا دیا ہے۔ ایسے میں ماہرینِ نفسیات، کونسلرز اور تھراپسٹس کا کردار مزید اہم ہو گیا ہے۔ لیکن صرف ڈگری کافی نہیں ہوتی، اصل فرق اس اندازِ فکر سے پڑتا ہے جس کے ذریعے کسی فرد کی مدد کی جاتی ہے۔
سحر علی ایک ہولسٹک ماہرِ نفسیات ہیں جن کا پیشہ ورانہ سفر مقصد، ہمدردی اور انسانوں کے لیے محفوظ اور مثبت ماحول پیدا کرنے کے جذبے سے عبارت ہے۔ایم ایس سی کی ڈگری رکھنے والی سحر علی نے ذہنی صحت اور شفا کے تصور کو ایک منفرد رخ دیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر انسان اپنے اندرونی اور بیرونی ماحول میں توازن پیدا کر لے تو وہ ہم آہنگی اور سکون کے ساتھ زندگی گزار سکتا ہے۔ان کے مطابق ہر انسان کو زندگی میں کسی نہ کسی مرحلے پر ذہنی صحت کی دیکھ بھال کی ضرورت پڑتی ہے، اور بہت سے لوگوں کے لیے آرٹ تھراپی ذہنی سکون اور خود شناسی کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔اسی سوچ کے تحت انہوں نے "ٹوٹم اسٹوڈیو" کی بنیاد رکھی، جہاں فن کو توجہ مرکوز کرنے، خود سے محبت پیدا کرنے اور جذباتی شفا حاصل کرنے کے ایک ذریعہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
سحر علی کا یقین ہے کہ فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ان کے مطابق آرٹ انسان کو کاغذ پر بھی اپنی شناخت دوبارہ تخلیق کرنے کا موقع دیتا ہے اور زندگی میں بھی۔ان کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جہاں محبت، خدمت اور دوسروں کی مدد کی روایت موجود رہی ہے۔ فوجی پس منظر اور والدین کی حوصلہ افزائی نے ان کی شخصیت اور پیشہ ورانہ سوچ پر گہرا اثر ڈالا۔ انہوں نے بنگلورو کے مونٹفورٹ کالج سے اپنی پیشہ ورانہ تربیت کا آغاز کیا۔اسی دوران انہوں نے شفا کے متبادل طریقوں جیسے ریکی، ایکیوپریشر، پرانک ہیلنگ اور ہومیوپیتھی کا بھی مطالعہ کیا۔یہ متنوع تجربات ان کی سوچ کو وسعت دینے کا سبب بنے اور انہوں نے ذہنی صحت کو صرف ایک زاویے سے دیکھنے کے بجائے ایک جامع نقطۂ نظر اختیار کیا۔
سحر علی کا پیشہ ورانہ سفر مختلف شعبوں پر محیط رہا ہے۔انہوں نے تعلیمی اداروں، نجی کلینکس، غیر منافع بخش تنظیموں اور کارپوریٹ اداروں میں خدمات انجام دیں۔ ہر تجربے نے انہیں انسانی جذبات، نفسیات اور ماحول کے اثرات کو بہتر انداز میں سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔ان کا کہنا ہے کہ شفا زبردستی مسلط نہیں کی جا سکتی بلکہ اس کے لیے ایک محفوظ ماحول فراہم کرنا ضروری ہے جہاں انسان خود کو قبول کر سکے۔
ان کے نزدیک آرٹ اب صرف اسٹوڈیو تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ ایک فطری، تخلیقی اور آزاد اظہار کا ذریعہ بن چکا ہے۔سحر علی ذہنی صدمے اور جذباتی مشکلات کا شکار افراد کے لیے محفوظ تخلیقی ماحول فراہم کرتی ہیں۔اجتماعی مصوری اور تخلیقی سرگرمیوں کے ذریعے وہ غم، تنہائی اور جذباتی درد کو امید اور مثبت اظہار میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ان کے مطابق کینوس ایک محفوظ جگہ کی حیثیت رکھتا ہے جہاں انسان اپنے اندر کے جذبات، خوف اور خیالات کو بغیر کسی جھجھک کے ظاہر کر سکتا ہے۔
ان کے تھراپی سیشنز کے دوران اکثر ایسے افراد، جو ابتدا میں خاموش اور گم سم ہوتے ہیں، آہستہ آہستہ رنگوں اور برش کے ذریعے اپنے احساسات بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں۔کئی مواقع پر مریض خود اپنی تخلیقات میں نئے رنگ شامل کرتے ہیں اور یوں ایک خالی کینوس امید، اعتماد اور خود اظہار کی علامت بن جاتا ہے۔سحر علی کے پروگرام طلبہ اور پیشہ ور افراد دونوں کی ذہنی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھ کر ترتیب دیے جاتے ہیں۔
ان پروگراموں میں ذہنی دباؤ کے انتظام، جذباتی صحت، خود آگاہی اور ذہنی توازن کے موضوعات شامل ہوتے ہیں۔ان کے مطابق یہی ان کی اصل منزل اور زندگی کا مقصد ہے—لوگوں کو تخلیقی اور نفسیاتی شفا کے ذریعے مضبوط اور بااختیار بنانا۔
سحر علی کی کہانی اس حقیقت کی عکاس ہے کہ شفا ہمیشہ الفاظ کی محتاج نہیں ہوتی۔ بعض اوقات ایک برش، چند رنگ اور ایک خالی کینوس بھی وہ بات کہہ دیتے ہیں جو زبان ادا نہیں کر پاتی۔ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ فن صرف خوبصورتی تخلیق کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑنے، بکھرے ہوئے احساسات کو سنوارنے اور زندگی میں امید پیدا کرنے کا ایک مؤثر راستہ بھی ہے۔ آج سحر علی نہ صرف ایک ماہرِ نفسیات بلکہ ان بے شمار لوگوں کے لیے امید کی کرن ہیں جو اپنے اندر سکون، توازن اور نئی شروعات کی تلاش میں ہیں۔