علی گڑھ،: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ حیوانیات کے کینسر محقق ڈاکٹر حفظ الرّحمن صدیق کو این یو ٹی کارسینوما کی تشخیص اور علاج سے متعلق دنیا کی پہلی بین الاقوامی گائیڈ لائنز کی تیاری میں ماہر رکن کی حیثیت سے شامل کیا گیا ہے۔ یہ رہنما اصول معروف تحقیقی جریدے دی اِنّوویشن میں شائع ہوئے ہیں، جو سیل پریس سے منسلک ہے اور جس کا پانچ سالہ امپیکٹ فیکٹر 40 اور سال 2024 کا امپیکٹ فیکٹر 25.7 ہے۔ اس سے قبل، ڈاکٹر صدیقی کو ٹیومر ڈسکوری (Tumor Discovery) میں شائع NUT کارسینوما پر مبنی دنیا کے پہلے ''ایکسپرٹ کنسینسس گروپ'' (ماہرانہ اتفاقِ رائے گروپ) میں بھی شامل کیا گیا تھا۔
ڈاکٹر صدیق ان رہنما اصولوں میں تعاون کرنے والے دنیا بھر کے 175 سائنس دانوں میں واحد ہندوستانی محقق ہیں۔ ان سائنس دانوں میں امریکہ، برطانیہ، چین، اٹلی، اسرائیل، سویڈن، پرتگال، اسپین، پولینڈ، برازیل، ناروے، یونان، آسٹریا، سنگاپور اور جاپان کے ماہرین شامل ہیں۔ یہ گائیڈ لائنز اب سائنس ڈائریکٹ پر عوام کے لیے دستیاب ہیں۔
ڈاکٹر صدیقی نے کہا کہ اگرچہ این یو ٹی کارسینوما کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، لیکن اس کی تشخیص اور علاج کے لیے کوئی جامع عالمی رہنمائی موجود نہیں تھی۔ اس کمی کو دور کرنے کے لیے 90 اداروں کے محققین، جن میں یونیورسٹیاں، دوا ساز کمپنیاں اور اسپتال شامل ہیں، نے مل کر ثبوت پر مبنی یہ سفارشات مرتب کیں۔
این یو ٹی کارسینوما کی پہلی بار شناخت 1991 میں ہوئی تھی۔ یہ ایک نایاب اور نہایت جارحانہ قسم کا کینسر ہے، جس میں این یو ٹی ایم 1جین کی دوبارہ ترتیب دیکھی جاتی ہے۔ اس بیماری میں اوسط زندگی کی امید صرف 6 سے 9 مہینے ہوتی ہے اور صرف 20 تا 30 فیصد مریض ہی دو سال تک زندہ رہ پاتے ہیں۔
کینسر بایولوجسٹ ڈاکٹر صدیق کو حال ہی میں ”ایڈیٹر آف ڈسٹنکشن ایوارڈ 2025“سے نوازا گیا ہے۔ وہ اب تک 132 تحقیقی مقالے شائع کر چکے ہیں جن کا مجموعی امپیکٹ فیکٹر 700 ہے اور فی مقالہ اوسط امپیکٹ فیکٹر 6.7 ہے۔