لاس ویگاس
ٹرمپ نے جمعرات (مقامی وقت کے مطابق) کہا کہ امریکہ ایران کے خلاف “بہت جلد فتح” کی طرف بڑھ رہا ہے، اور اس دوران انہوں نے ایران سے متعلق فوجی پیش رفت اور ماضی میں خطے میں امریکی کارروائیوں پر سخت تبصرے کیے۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے جاری اسٹریٹجک اقدامات میں پیش رفت کا عندیہ دیا اور دعویٰ کیا کہ ایران کی صلاحیتوں کو نمایاں حد تک کمزور کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے کہا تھا کہ ہم وہاں دو مہینے سے ہیں، اور آپ جانتے ہیں کیا؟ ہمیں بہت جلد فتح حاصل ہونے والی ہے۔
ٹرمپ نے ایران کو “سخت اور ذہین ملک” قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کی فوجی طاقت بری طرح متاثر ہوئی ہےانہوں نے کہا کہ اور ایک بہت سخت اور ذہین ملک کے خلاف۔ یہ لوگ لڑاکا تھے، اور میں پہلے سے دعویٰ نہیں کرنا چاہتا، لیکن (ایران کے پاس) اب کوئی بحریہ باقی نہیں رہی۔ 158 جہاز سمندر کی تہہ میں جا چکے ہیں۔ 158، ذرا سوچیں۔
ٹرمپ نے ماضی میں ایرانی کمانڈروں کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کا بھی ذکر کیا، جن میں قاسم سلیمانی شامل ہیں، جو ایرانی نیم فوجی فورس کے اہم رہنما تھے۔انہوں نے کہا کہ ان کے پاس ایک شخص تھا جسے سلیمانی کہا جاتا تھا۔ آپ سلیمانی کو جانتے ہیں؟ ہم نے اسے ختم کر دیا۔ وہ اس ملک اور دنیا کی تاریخ کے بدترین دہشت گردوں میں سے ایک تھا۔ٹرمپ نے الزام لگایا کہ سلیمانی امریکی اہلکاروں پر حملوں کا ذمہ دار تھا اور زخمی ہونے والے امریکی فوجیوں کا حوالہ دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے ہمارے بہت سے لوگوں کو مارا۔ ہمارے بہت سے لوگ مارے گئے۔ جب آپ کسی نوجوان فوجی کو دیکھتے ہیں جو زیادہ تر بغیر ٹانگوں، بغیر بازوؤں کے ہوتا ہے، یا جس کا چہرہ بری طرح زخمی ہوتا ہے، تو یہ سب سلیمانی کی وجہ سے ہے۔یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مغربی ایشیا میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی سے متعلق مذاکرات اور سمندری سیکیورٹی جیسے معاملات پر بات چیت جاری ہے۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ نے جمعرات کو کہا تھا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع ہوگی یا نہیں، لیکن انہوں نے امید ظاہر کی کہ جلد کوئی معاہدہ طے پا سکتا ہے، اور اگلے مرحلے کی بات چیت ممکنہ طور پر ہفتے کے آخر میں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ہم بہت اچھا کر رہے ہیں۔ میں آپ کو بتا سکتا ہوں، شاید یہ اس سے پہلے ہی ہو جائے۔ مجھے نہیں لگتا کہ اسے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ بس آپ جان لیں، ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی جوہری ہتھیار نہ ہوں۔
ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات میں پیش رفت کی صورت میں توسیع کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ “ہم اس وقت ایران پر بہت زیادہ توجہ دے رہے ہیں… اور مجھے لگتا ہے کہ ہم بہت اچھی پوزیشن میں ہوں گے۔ انہوں نے کہا، اور مزید کہا کہ “یہ کافی مثبت لگ رہا ہے کہ ہم ایران کے ساتھ معاہدہ کر لیں گے۔
ٹائم لائن کے بارے میں انہوں نے کہ کہ شاید اس ہفتے کے آخر تک۔ٹرمپ نے ایک بار پھر زور دیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا بنیادی مقصد ہے۔ انہوں نے خبردار کیا، “اگر کوئی معاہدہ نہیں ہوتا تو لڑائی دوبارہ شروع ہو جائے گی۔