واشنگٹن
وائٹ ہاؤس نے ہندوستان–امریکہ تجارتی فریم ورک سے متعلق اپنی فیکٹ شیٹ کو ابتدائی اجرا کے ایک دن بعد اپ ڈیٹ کر دیا ہے، جس میں خریداری، ٹیرف اور ڈیجیٹل تجارت سے متعلق ہندوستان کے وعدوں پر کی گئی کئی اہم باتوں کو نرم کیا گیا ہے۔
یہ تبدیلیاں گزشتہ ہفتے باہمی تجارت کو فروغ دینے کے لیے ایک عبوری باہمی تجارتی معاہدے کے فریم ورک کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہیں۔ عبوری معاہدے کا یہ فریم ورک وزیرِ اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو کے بعد حتمی شکل دیا گیا تھا۔
فیکٹ شیٹ کے ابتدائی ورژن میں کہا گیا تھا كہ ہندوستان نے زیادہ امریکی مصنوعات خریدنے اور امریکہ سے 500 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی توانائی، انفارمیشن و کمیونیکیشن ٹیکنالوجی، زرعی، کوئلہ اور دیگر مصنوعات خریدنے کا عہد کیا ہے۔ تاہم نظرِ ثانی شدہ فیکٹ شیٹ میں اب کہا گیا ہے کہ ہندوستان زیادہ امریکی مصنوعات خریدنے کا "ارادہ رکھتا ہے"، جبکہ مصنوعات کی فہرست سے "زرعی" کا لفظ حذف کر دیا گیا ہے۔
ٹیرف سے متعلق حصے میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ پہلے دستاویز میں کہا گیا تھا كہ ہندوستان تمام امریکی صنعتی مصنوعات اور امریکی خوراک و زرعی مصنوعات کی ایک وسیع رینج پر عائد ٹیرف ختم یا کم کرے گا، جن میں ڈرائیڈ ڈسٹلرز گرینز ، ریڈ سورگھم، درختی گری دار میوے، تازہ اور پروسیس شدہ پھل، بعض دالیں، سویا بین آئل، شراب اور اسپرٹس سمیت دیگر مصنوعات شامل ہیں۔
اپ ڈیٹ شدہ ورژن میں اس فہرست سے "بعض دالیں" کا حوالہ ہٹا دیا گیا ہے۔ ڈیجیٹل تجارت کے حوالے سے ابتدائی فیکٹ شیٹ میں کہا گیا تھا كہ ہندوستان اپنی ڈیجیٹل سروسز ٹیکس ختم کرے گا" اور یہ کہ وہ "دو طرفہ ڈیجیٹل تجارتی قوانین کے ایک مضبوط سیٹ پر مذاکرات کا پابند ہے جو امتیازی یا بوجھل طریقوں اور ڈیجیٹل تجارت میں دیگر رکاوٹوں سے نمٹیں گے۔
موجودہ ورژن میں "ڈیجیٹل سروسز ٹیکس ختم کرنے" کے دعوے کو حذف کر دیا گیا ہے اور صرف یہ برقرار رکھا گیا ہے کہ "ہندوستان نے مضبوط دو طرفہ ڈیجیٹل تجارتی قوانین پر مذاکرات کا عہد کیا ہے۔ مجوزہ انتظام کے تحت، امریکہ ہندوستانی اشیا پر عائد ٹیرف کو موجودہ 50 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کر دے گا۔
وسیع تر روابط کے حصے کے طور پر، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ سال اگست میں روسی تیل کی خریداری پر ہندوستان پر عائد کیے گئے 25 فیصد ٹیرف کو بھی ہٹا دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ نئی دہلی نے ماسکو سے تیل کی براہِ راست یا بالواسطہ درآمد روکنے کا عزم کیا ہے اور اس سمت میں "اہم اقدامات" کیے ہیں۔