واشنگٹن: امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ 30 ستمبر تک عراق سے اپنی تمام فوج واپس بلا لے گا، جس کے ساتھ ہی 2003 میں صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے لیے شروع ہونے والی اور بعد میں داعش کے خلاف کارروائیوں میں تبدیل ہونے والی 23 سالہ امریکی فوجی موجودگی کا اختتام ہو جائے گا۔
وائٹ ہاؤس میں عراقی وزیر اعظم علی الزیدی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن اب عراق میں مستقل فوجی موجودگی کو ضروری نہیں سمجھتا۔
عراقی وزیر اعظم علی الزیدی نے مترجم کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ تمام امریکی فوجی 30 ستمبر تک عراق چھوڑ دیں گے، تاہم امریکی کمپنیاں بدستور عراق میں اپنا کاروبار جاری رکھیں گی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اب امریکہ کو عراق میں فوج رکھنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق عراق کے ساتھ تعلقات اب وسیع تجارتی شراکت داری کی شکل اختیار کر چکے ہیں، خاص طور پر امریکی تیل کمپنیوں کے ساتھ تعاون میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکہ عراق کی مدد اور تحفظ کے لیے موجود ہوگا، لیکن موجودہ حالات میں فوجی موجودگی ضروری نہیں رہی۔
علی الزیدی نے بھی اس اعلان کو دہراتے ہوئے کہا کہ 30 ستمبر تک امریکی فوج عراق سے نکل جائے گی جبکہ امریکی کمپنیاں ملک میں کام جاری رکھیں گی۔
بعد ازاں امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے کہا کہ فوج کا انخلا 2024 میں بغداد اور واشنگٹن کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کا حصہ ہے جس کے تحت داعش کے خلاف امریکی قیادت والے فوجی مشن کو ختم کیا جا رہا ہے۔
پینٹاگون کے مطابق اس معاہدے کے بعد سے عراق میں تعینات امریکی فوجیوں کی بڑی تعداد پہلے ہی واپس جا چکی ہے۔
امریکہ نے مارچ 2003 میں عراق پر یہ دعویٰ کرتے ہوئے حملہ کیا تھا کہ صدام حسین کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود ہیں، تاہم بعد میں یہ دعوے ثابت نہیں ہو سکے۔
2007 میں عراق میں امریکی فوجیوں کی تعداد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی، جب وہاں 170000 سے زائد امریکی اہلکار تعینات تھے۔
2011 میں صدر براک اوباما کے دور میں ہونے والے معاہدے کے بعد زیادہ تر امریکی جنگی دستے عراق سے واپس چلے گئے تھے، جبکہ محدود تعداد میں فوجی سفارتی مشن کے تحفظ اور سکیورٹی تعاون کے لیے باقی رہے۔
تاہم 2014 میں داعش کے عراق اور شام کے وسیع علاقوں پر قبضے کے بعد بغداد کی درخواست پر امریکی فوج دوبارہ عراق واپس آئی۔ اس کا مقصد عراقی فورسز کو تربیت دینا اور لاجسٹک معاونت فراہم کرنا تھا۔
اگرچہ 2021 تک داعش اپنی علاقائی طاقت کھو چکی تھی، اس کے باوجود تقریباً 2500 امریکی فوجی عراق میں تربیتی اور انسداد دہشت گردی کے مشترکہ مشن کے تحت موجود رہے، یہاں تک کہ 2024 میں انخلا کا معاہدہ طے پایا۔
اس معاہدے کے بعد امریکی فوجیوں کی تعداد مسلسل کم کی جاتی رہی اور اب صرف محدود تعداد میں مشاورتی اہلکار باقی ہیں۔
30 ستمبر کو مکمل ہونے والا یہ انخلا 2024 کے معاہدے کے تحت عراق میں امریکی فوجی مشن کا باضابطہ اختتام ہوگا، جس کے ساتھ 2003 میں شروع ہونے والے فوجی باب کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔