واشنگٹن: امریکی قومی سلامتی کونسل کے سابق چیف آف اسٹاف اور سی آئی اے کے تجزیہ کار فریڈ فلیٹز نے اشارہ دیا ہے کہ امریکہ آئندہ چند ہفتوں میں ایران کے خلاف جاری اپنی فوجی کارروائیاں ختم کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی فلیٹز کے مطابق اگر تہران علاقائی استحکام سے متعلق مخصوص شرائط پوری کرتا ہے تو انتظامیہ سفارتی حل کی جانب بڑھ رہی ہے۔
اے این آئی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں فلیٹز نے وائٹ ہاؤس میں ہونے والی حالیہ ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے موجودہ حکمت عملی پر اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ رات وائٹ ہاؤس میں موجود تھے اور صدر پراعتماد دکھائی دے رہے تھے۔ ان کے مطابق صدر کا ماننا ہے کہ امریکہ اس کارروائی میں اپنے اہداف حاصل کر چکا ہے اور وہ امریکی عوام سے کیا گیا وعدہ پورا کریں گے کہ یہ جنگ طویل دلدل میں تبدیل نہیں ہوگی اور امریکہ دو سے تین ہفتوں میں نکل جائے گا۔
فلیٹز نے مزید کہا کہ اب کچھ فیصلے ایرانی قیادت کو کرنے ہیں۔ اگر ایران امن چاہتا ہے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے پر آمادہ ہے تو بات چیت ہو سکتی ہے ورنہ صدر مزید سخت اقدامات کر سکتے ہیں۔
فوری انخلا کو کامیابی قرار دینے پر اٹھنے والے سوالات کے جواب میں فلیٹز نے ایران کے عالمی تیل پر بڑھتے اثر و رسوخ کو محض ایک وہم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کارروائی کے بنیادی اہداف حاصل ہو چکے ہیں جن میں ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا شامل ہے۔ ان کے مطابق ایران کے میزائل پروگرام اور اس کی طاقت کے اظہار کی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے جبکہ داخلی ڈھانچہ بھی کمزور ہوا ہے جس سے ایرانی عوام کے لیے تبدیلی کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس تنازع نے روایتی اتحادیوں پر دباؤ ڈالا ہے اور وائٹ ہاؤس نیٹو اور دیگر ممالک کے رویے سے نالاں ہے۔ فلیٹز کے مطابق صدر ٹرمپ نے ان ممالک پر ناراضی ظاہر کی جو آبنائے ہرمز سے توانائی حاصل کرتے ہیں مگر ایران کے خلاف کارروائی میں امریکہ کا ساتھ نہیں دیا۔
فلیٹز کا کہنا تھا کہ اس آپریشن کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں نئے اتحاد بھی جنم لے سکتے ہیں کیونکہ ایران کے اقدامات سے خلیجی ممالک اس سے مزید دور ہو گئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ صورتحال مزید ممالک کو ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہونے پر آمادہ کر سکتی ہے جس سے خطے میں استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔
شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے سے متعلق تنقید پر فلیٹز نے کہا کہ اس کے نتائج کی ذمہ داری ایران کی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ ان کے مطابق اگر ایران آبنائے ہرمز میں میزائل حملے بند نہیں کرتا تو اسے مزید امریکی حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
تاہم انہوں نے اس بات پر تشویش بھی ظاہر کی کہ ایران کے اندرونی حالات پیچیدہ ہیں اور حکومت منقسم ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ کچھ رہنما امن چاہتے ہیں لیکن یہ خدشہ موجود ہے کہ وہ دیگر طاقتور حلقوں کو کسی بھی معاہدے پر عملدرآمد کے لیے قائل نہ کر سکیں۔