امریکہ آبنائے ہرمز کی فوری ناکہ بندی کرے گا: صدر ٹرمپ

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 13-04-2026
امریکہ آبنائے ہرمز کی فوری ناکہ بندی کرے گا: صدر ٹرمپ
امریکہ آبنائے ہرمز کی فوری ناکہ بندی کرے گا: صدر ٹرمپ

 



واشنگٹن:  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ امریکی بحریہ فوری طور پر آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کا آغاز کرے گی۔ یہ فیصلہ امریکہ اور ایران کے درمیان ناکام مذاکرات کے بعد سامنے آیا ہے جس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور پہلے سے موجود نازک جنگ بندی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے یہ اعلان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کیا، جب دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی بات چیت کسی نتیجے پر پہنچنے میں ناکام رہی۔ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے بارے میں انہوں نے لکھا کہ بات چیت مثبت رہی اور کئی امور پر پیش رفت ہوئی، لیکن ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے پر اتفاق رائے نہ ہو سکا۔

ٹرمپ کے مطابق امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام جہازوں کی سخت نگرانی کرے گی اور ان کی آمد و رفت کو کنٹرول کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی سمندری حدود میں بھی ایسے جہازوں کو روکا جائے گا جنہوں نے ایران کو کسی قسم کی فیس یا ٹول ادا کیا ہو۔ اس کے ساتھ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو بھی ناکارہ بنایا جائے گا۔

امریکی صدر نے خبردار کیا کہ اگر ایران کی جانب سے امریکی افواج یا کسی تجارتی جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب گزشتہ چھ ہفتوں سے جاری کشیدگی اور جھڑپوں کے خاتمے کے لیے ہونے والی بات چیت بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو گئی۔ ان جھڑپوں کے نتیجے میں ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں جبکہ عالمی معیشت بھی متاثر ہوئی اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔

ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس مذاکرات کے بعد اپنے وفد کے ساتھ وطن واپس روانہ ہو گئے۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ سنجیدہ اور تفصیلی بات چیت ہوئی، جو ایک مثبت پہلو ہے، تاہم معاہدے تک نہ پہنچ پانا ایک منفی پیش رفت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے مذاکرات میں واضح شرائط پیش کیں لیکن ایران نے انہیں قبول نہیں کیا، خاص طور پر جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے کوئی ٹھوس یقین دہانی سامنے نہیں آئی۔

دوسری جانب ایرانی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران نے مذاکرات میں سنجیدگی اور نیک نیتی کا مظاہرہ کیا، تاہم ماضی کے تجربات کی روشنی میں وہ دوسرے فریق پر مکمل اعتماد نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی وفد نے مستقبل کے لیے کئی تجاویز پیش کیں، لیکن امریکہ ان کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔

قالیباف کے مطابق امریکہ اب اس مقام پر ہے جہاں اسے یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ ایران کا اعتماد جیتنا چاہتا ہے یا نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنے حقوق کے حصول کے لیے باوقار سفارت کاری کے ساتھ ساتھ دیگر تمام ذرائع کو بھی بروئے کار لائے گا اور قومی دفاع کے تسلسل کو برقرار رکھے گا۔

انہوں نے مذاکرات میں پاکستان کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے اس کی میزبانی اور سہولت کاری پر شکریہ ادا کیا۔