واشنگٹن:امریکی پابندیوں کا شکار ٹینکرز امریکی ناکہ بندی کے باوجود آبنائے ہرمز سے گزرنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مالاوی کے جھنڈے تلے چلنے والا اور چینی ملکیت کا جہاز “رچ اسٹاری” منگل کے روز آبنائے ہرمز سے گزر گیا، حالانکہ امریکہ کی جانب سے ایران سے منسلک بحری نقل و حمل کے خلاف ناکہ بندی جاری ہے۔
یہ جہاز فل اسٹار شپنگ لمیٹڈ کی ملکیت ہے جس کا تعلق شنگھائی شوان رن شپنگ کمپنی سے بتایا جاتا ہے۔ اسے 2023 میں ایران سے مبینہ تعلقات کی بنیاد پر امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔رپورٹس کے مطابق یہ جہاز پہلے پیر کے روز آبنائے سے گزرنے کی کوشش میں ایران کے جزیرہ قشم کے قریب سے واپس مڑ گیا تھا، تاہم بعد میں اس نے دوبارہ کوشش کی اور کامیابی سے گزر گیا۔
سمندری تجزیاتی اداروں کے مطابق یہ ٹینکر میتھانول لے جا رہا تھا اور اس کی منزل چین بتائی گئی ہے۔اسی دوران ایک اور ٹینکر “ایلپس” بھی ناکہ بندی کے باوجود اس اہم سمندری راستے سے گزر گیا۔ یہ جہاز 2025 میں ایرانی تیل کی ترسیل میں مبینہ کردار کے باعث امریکی پابندیوں کی زد میں آیا تھا۔
دوسری جانب امریکی بحریہ مشرق وسطیٰ میں اپنی مضبوط موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے، جہاں کم از کم 15 جنگی جہاز تعینات ہیں، جن میں طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن اور متعدد ڈسٹرائر شامل ہیں۔رپورٹس کے مطابق یہ بحری قوت کسی بھی ممکنہ ناکہ بندی کو نافذ کرنے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ کون سے جہاز براہ راست اس کارروائی میں شامل ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ صورت حال خطے میں کشیدگی میں اضافے کی نشاندہی کرتی ہے، جبکہ آبنائے ہرمز جیسے اہم تجارتی راستے پر جاری سرگرمیاں عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔